خطرات سے کھیلنے والے مہم جو، جنہیں ’یمن کا سپائیڈر مین‘ کہا جاتا تھا، قبل ازیں رواں ہفتے بغیر حفاظتی سامان کے آتش فشانی دہانے کی سیدھی چٹانی دیواریں چڑھنے کی کوشش کے دوران اس میں گرنے کے بعد افسوس ناک طور پر جان سے گئے۔ حکام نے واقعے کی تصدیق کر دی ہے۔
30 سالہ القعقاع ابن عنتر جمعے کو یمن کے جنوبی صوبے الضالع میں ہردہ ڈیم کے آتش فشانی دہانے کی خطرناک دیواریں چڑھ رہے تھے جب ان کا پاؤں پھسل گیا۔
شہری دفاع اتھارٹی کے مطابق اس کے بعد وہ 120 میٹر (393 فٹ) کی گہرائی میں گڑھے میں جا گرے۔ اتھارٹی نے واقعے کی ایک مختصر ویڈیو بھی جاری کی۔
10 سیکنڈ کی فوٹیج میں القعقاع ابن عنتر کو کسی بھی حفاظتی سامان کے بغیر ایک پتھریلی چٹان پر چڑھتے دیکھا جا سکتا ہے، جس پر سفید رنگ میں عربی تحریر لکھی ہوئی ہے۔ وہ اپنے دائیں ہاتھ سے چٹان کو پکڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جب کہ ان کا بایاں بازو اوپر اٹھا ہوا ہے۔ پھر بظاہر ان کا دایاں ہاتھ پھسلتا ہے، جس کے بعد وہ نیچے گر کر جان سے جاتے ہیں۔
عنتر کی لاش نکالنے کے لیے خصوصی ریسکیو ٹیمیں، جن میں غوطہ خور بھی شامل تھے، تعینات کی گئیں۔ چار گھنٹے کی کارروائی کے بعد غوطہ خوروں کو بالآخر ان کی لاش پانی کی سطح سے 30 میٹر (100 فٹ) نیچے مل گئی۔
حکام نے مشکل، کھڑی اور پتھریلی زمین کی وجہ سے تلاش کو ’پیچیدہ‘ قرار دیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ہردہ ڈیم، جسے حراضت دمت بھی کہا جاتا ہے، یمن کے جنوبی صوبے الضالع میں دمت شہر کے قریب ایک منفرد آتش فشانی دہانہ ہے۔ یہ علاقے کی ایک نمایاں جگہ ہے، جہاں کھڑی پتھریلی دیواریں ہیں اور نیچے گندھک والی گرم جھیل موجود ہے۔
القعقاع ابن عنتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خاصی توجہ حاصل کی تھی، جہاں وہ یمن کے انتہائی دشوار گزار علاقوں میں اپنی خطرناک چڑھائیوں کی ویڈیوز باقاعدگی سے شیئر کرتے تھے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان کی ویڈیوز میں اکثر انہیں خطرناک کرتب دکھاتے دیکھا جاتا تھا، جیسے کسی بھی حفاظتی سامان کے بغیر صرف اپنے ہاتھوں سے چٹانوں کے کناروں سے لٹکنا، جب کہ ان کی ٹانگیں خطرناک انداز میں ہوا میں جھول رہی ہوتیں۔
اس واقعے کے بعد شہری دفاع اتھارٹی نے کوہ پیماؤں اور ایڈونچر سپورٹس کے شوقین افراد پر زور دیا ہے کہ وہ حفاظتی اصولوں پر سختی سے عمل کریں اور ایسے واقعات سے بچنے کے لیے ’مناسب حفاظتی سامان‘ استعمال کریں۔
© The Independent