کوئی مانے یا نہ مانے ہمارا سسٹم تباہ ہو چکا ہے: وزیر داخلہ محسن نقوی

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ملک کی بہتری اور ترقی کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی 30 جولائی 2026 کو اسلام آباد میں پاکستان کے پہلے اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے (سکرین گریب/پی ٹی وی)

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعرات کو کہا ہے کہ ملک کی بہتری اور ترقی کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے، کیونکہ موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے اور اس کے ذریعے مسائل حل کرنا ممکن نہیں رہا۔

اسلام آباد میں پاکستان کے پہلے اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ عموماً سیاسی گفتگو سے گریز کرتے ہیں، تاہم آج انہیں اس پہلو پر بات کرنا پڑ رہی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ نظام اس حد تک کمزور ہو چکا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ دس سال بعد بھی ملک انہی مسائل میں گھرا رہے گا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اصلاحات کون کرے گا، اور کہا کہ جب اجتماعی طور پر فیصلہ کیا جائے گا تو نظام کو درست کیا جا سکتا ہے۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ چاہے انہیں انتظامی یونٹس کہا جائے یا صوبے، ملک کو اس سمت جانا ہوگا۔ ان کے مطابق اس اہم معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھنا ہوگا اور فیصلہ عوام کے سامنے لے جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوان اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں اور میرٹ پر روزگار چاہتے ہیں۔ اگر یہ طبقہ منظم ہو گیا تو حالات یکسر بدل سکتے ہیں۔ انہوں نے ملکی معیشت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک اس وقت قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور ہر سال بجٹ خسارے میں بنایا جا رہا ہے، جس کے باعث مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے بقول جب تک نظام کو بنیادی طور پر درست نہیں کیا جائے گا، بہتری ممکن نہیں۔

انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی محنت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ طویل اوقات کار کے باوجود صرف ہنگامی صورت حال سے نمٹ رہے ہیں، جبکہ اصل مسئلہ نظام کی خرابی ہے۔

بعد ازاں غیر رسمی گفتگو میں محسن نقوی نے کہا کہ جب تک سیاستدان مل کر نظام کو درست نہیں کریں گے، کسی ایک ادارے یا شخصیت کی کوششیں نتیجہ خیز نہیں ہوں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ صدارتی نظام کی بات نہیں کر رہے اور اس بات کا اعادہ کیا کہ جمہوری نظام کو پٹری سے نہیں اترنے دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ نظام کی بہتری کے لیے تمام سیاسی جماعتوں، بشمول مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف، کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت مکمل کرے گی جبکہ بانی پی ٹی آئی سے متعلق فیصلے عدالتیں کریں گی۔

محسن نقوی نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ وہ وزارت خارجہ سنبھالنے جا رہے ہیں اور واضح کیا کہ وہ بدستور وفاقی وزیر داخلہ ہی رہیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محسن نقوی کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گذشتہ روز ہی انہوں نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات میں ملک کی مجموعی امن و امان کی صورت حال خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی سکیورٹی صورت حال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا تھا۔

وزارت داخلہ سے جاری بیان کے مطابق محسن نقوی نے صدرِ مملکت کو خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی موجودہ صورت حال اور دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات پر بریفنگ دی۔

صدر آصف علی زرداری نے دہشت گردی کے خلاف پاکستانی افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کی بہادری، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پوری قوم اپنی سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔

ملاقات کے دوران ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم قومی امور پر بھی گفتگو ہوئی۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں خیبرپختونخوا میں حالیہ دنوں میں سکیورٹی فورسز کو عسکریت پسندوں کے حملوں کا سامنا رہا ہے جبکہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے بھی کارروائیاں جاری ہیں۔

گذشتہ روز بھی خیبرپختونخوا کے علاقے ہنگو میں ایک پولیس چیک پوسٹ پر حملے میں کم از کم 10 اہلکار جان سے گئے جبکہ 33 زخمی ہو گئے۔ اس کے علاوہ چھ اہلکار لاپتہ بھی بتائے جاتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی