جاپان پر ہونے والی تباہ کن ایٹمی بمباری کے تقریباً 81 سال بعد، جس نے ایک ہی لمحے میں 70,000 سے زائد افراد کی جان لے لی تھی، سائنس دانوں نے ہیروشیما خلیج کے ساحلی ریتلے علاقے میں ایک عجیب اور نامعلوم مادہ دریافت کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایٹمی دھماکے، شہابیوں کے زمین سے ٹکراؤ اور دیگر انتہائی توانائی والے واقعات قدرتی تجربہ گاہوں کا کردار ادا کرتے ہیں، جہاں ایسے مادے تشکیل پا سکتے ہیں جو عام حالات میں وجود میں نہیں آتے۔
سائنس دانوں نے اس مادے کو 'ہیروشیماٹس' (Hiroshimaites) کا نام دیا ہے اور اس تحقیق میں ان ذرات کا جزیہ کیا جو دراصل پگھلے ہوئے ملبے کے نہایت باریک، گول ذرات ہیں۔ یہ ذرات چھ اگست 1945 کو ہونے والی ایٹمی بمباری کے دوران اس وقت تشکیل پائے جب دھماکے نے چند ہی سیکنڈ میں درجہ حرارت کو سات ہزار ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ تک پہنچا دیا تھا۔
تحقیق کے دوران ان ذرات کو ریزن میں محفوظ کر کے پالش کیا گیا اور بعد ازاں منعکس روشنی والے خوردبینوں کے ذریعے ان کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔
یہ تحقیق سائنسی جریدے ’سائنس ایڈوانسز‘ میں شائع ہوئی، جس سائنس دانوں نے بتایا کہ انہوں نے ایک ایسی نئی دھات (الائے) دریافت کی ہے جو پہلے کبھی معلوم نہیں تھی۔ یہ دھات ہیروشیما بے کی ریت سے ملنے والے ایک چھوٹے ذرّے کے اندر محفوظ تھی، اور یہ چھ اگست 1945 کو ہونے والے ایٹمی دھماکے کے دوران بنی تھی۔
سائنس دانوں نے ان ذرات کا مزید تفصیلی مطالعہ سکیننگ الیکٹران مائیکروسکوپی کے ذریعے بھی کیا، جس سے یہ بات سامنے آئی کہ ایٹمی دھماکے کی شدید حرارت نے عمارتوں کے ملبے، دھاتوں، مٹی، شیشے اور پانی کو بخارات میں تبدیل کر دیا تھا۔ یہ تمام مادے ایک شدید اور ہنگامہ خیز آتشیں گولے کی شکل اختیار کر کے فضا میں بلند ہوئے اور پھر تیزی سے ٹھنڈے ہو گئے۔
جلنے والے مادوں سے پیدا ہونے والے بخارات تیزی سے مرتکز ہو کر انتہائی چھوٹے قطروں میں تبدیل ہو گئے جو آخرکار اردگرد کے علاقے پر گر کر جم گئے۔
ایٹمی دھماکے کے آٹھ دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی ان میں سے بہت سے ذرات خلیج ہیروشیما کی ریت میں موجود ہیں۔
اس سے قبل ہونے والی تحقیقات سے یہ اشارہ ملا تھا کہ ایٹمی دھماکوں سے بننے والے ایسے ذرات زیادہ تر کیلشیم، ایلومینیم اور سلیکان پر مشتمل شیشے جیسے مادے ہوتے ہیں، جو تقریباً 1800 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد درجہ حرارت پر تشکیل پاتے ہیں۔ تاہم اس نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے ’ہیروشی مائٹ مواد‘ کی ایک بالکل نئی قسم دریافت کی ہے، جو اس سے کہیں زیادہ بلند اور انسان کے پیدا کردہ درجہ حرارت پر بنتی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تحقیق کے مطابق ان ذرات میں لوہے سے بھرپور مرکب دھات کے ننھے قطرے پائے گئے، جن میں لوہا اور کرومیم کے ساتھ ساتھ نکل، مینگنیز اور مولیبڈینم بھی مختلف مقدار میں شامل تھے۔
یہ مرکبات ان شیشے جیسے گول ذرات کا تقریباً تین فیصد حصہ تھے اور یہ چھوٹے گول قطروں، بے ترتیب دانوں یا جُھرمٹ کی صورت میں پورے ذرّے میں پھیلے ہوئے تھے۔
محققین کا کہنا ہے کہ ان ذرات میں عناصر کا یہ غیر معمولی امتزاج دراصل اس لمحے کی جھلک پیش کرتا ہے جب ایٹمی دھماکہ ہوا اور اس وقت خلیج ہیروشیما کے علاقے میں موجود مختلف دھاتی اشیا آپس میں مل کر ایک نئی شکل اختیار کر گئیں۔
تحقیق کے دوران ایک خاص طور پر منفرد ذرہ بھی سامنے آیا، جس نے سائنس دانوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ اس ننھے ذرّے میں دیگر ذرات کے مقابلے میں سلیکان کی مقدار نمایاں طور پر زیادہ تھی۔
مزید تجزیے سے معلوم ہوا کہ اس ذرّے کے اندرونی حصے میں یکسانیت پائی جاتی ہے، جس میں تقریباً 63 فیصد لوہا، 15 فیصد کرومیم، نو فیصد نکل اور سات فیصد سلیکان شامل تھا۔
ماہرین کے مطابق غالب امکان ہے کہ یہ ایک ہی پگھلے ہوئے قطرے سے تشکیل پایا، جو تیزی سے ٹھنڈا ہو کر ٹھوس شکل اختیار کر گیا۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے یکساں کرسٹل عام حالات میں تشکیل نہیں پاتے، جس سے یہ دریافت مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تحقیق نہ صرف زمین پر انتہائی درجہ حرارت اور دباؤ میں مادے کے برتاؤ کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہے بلکہ مستقبل میں ایسے غیر معمولی حالات میں نئے مادوں کی دریافت کی راہ بھی ہموار کر سکتی ہے۔