طبی دنیا میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر جہاں امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے پہلی ایم آر این اے (mRNA) فلو ویکسین کی منظوری دے دی ہے، وہیں سائنس دانوں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے ایسے نئے وائرس بھی تیار کیے ہیں جو بیکٹیریا کو نشانہ بنا سکتے ہیں، خاص طور پر اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت رکھنے والی اقسام کو۔
نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی ادارے ایف ڈی اے نے حال ہی میں mRNA ٹیکنالوجی پر مبنی پہلی فلو ویکسین mFLUSIVA کی منظوری دی، جسے امریکی کمپنی موڈرنا نے تیار کیا ہے۔
یہ منظوری ایک ایسی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی راہ ہموار کرتی ہے جو وائرس کی تیزی سے بدلتی اقسام کے خلاف فوری ردعمل ممکن بنا سکتی ہے۔
اس سے قبل mRNA تحقیق کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا جن میں امریکی وزیر صحت رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر کی جانب سے 22 منصوبوں کی منسوخی بھی شامل ہے۔ ابتدا میں ایف ڈی اے نے موڈرنا کی درخواست کا جائزہ لینے سے انکار کیا، تاہم عوامی دباؤ کے بعد ادارے نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔
عالمی سطح پر ہر سال فلو کے باعث تین لاکھ سے زائد افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، جبکہ 2024-25 کے سیزن میں صرف امریکہ میں تقریباً 45 ہزار اموات ہوئیں۔
نئی ویکسین 50 سے 64 سال کے افراد کے لیے منظور کی گئی ہے، جبکہ 65 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے اسے تیز رفتار منظوری دی گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ ویکسین 2026-27 کے سیزن تک دستیاب ہو گی۔
ماہرین کے مطابق mRNA ٹیکنالوجی جسم کو وائرس کے ایک حصے کی تیاری کی ہدایت دیتی ہے، جس سے مدافعتی نظام فعال ہو جاتا ہے۔ یہی ٹیکنالوجی کووڈ-19 ویکسینز میں بھی استعمال ہوئی تھی۔
روایتی فلو ویکسینز کے برعکس، جن کی تیاری میں کئی ماہ لگتے ہیں، یہ طریقہ زیادہ تیز اور مؤثر سمجھا جا رہا ہے۔
کلینیکل ٹرائل میں تقریباً 41 ہزار افراد کو شامل کیا گیا، جس سے ظاہر ہوا کہ ویکسین مؤثر ہے، تاہم انجیکشن والی جگہ پر درد، تھکن اور سر درد جیسے سائیڈ ایفیکٹس نسبتاً زیادہ رپورٹ ہوئے۔
کچھ غیر معمولی سائیڈ ایفیکٹ بھی سامنے آئے، جن میں کم بلڈ پریشر اور دل کے گرد سوزش شامل ہیں۔
اے آئی سے مزاحمت والے بیکٹریا کا خاتمہ ممکن
دوسری جانب ایک نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایسے وائرس تیار کیے ہیں جو قدرتی طور پر موجود نہیں لیکن بیکٹیریا کو مؤثر طریقے سے ختم کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس تحقیق کے مطابق اے آئی ماڈلز کو تقریباً 20 لاکھ بیکٹیریوفیج کے جینیاتی ڈیٹا پر تربیت دی گئی، جس کے بعد ہزاروں نئے وائرس ڈیزائن کیے گئے۔
لیبارٹری تجربات میں ان میں سے 16 وائرسز نے ای کولی (E. coli) بیکٹیریا کو ختم کیا، جن میں وہ اقسام بھی شامل تھیں جو قدرتی وائرسز کے خلاف مزاحمت رکھتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت فیج تھراپی کو فروغ دے سکتی ہے، جو اینٹی بایوٹکس کا ایک ممکنہ متبادل علاج ہے۔
تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال سے بایو سیفٹی اور بایو سکیورٹی کے خدشات بھی پیدا ہو سکتے ہیں، جن پر توجہ دینا ضروری ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق بیکٹیریوفیجز زمین پر سب سے زیادہ پائے جانے والے حیاتیاتی اجزا ہیں، جو انسانی جسم میں بھی موجود ہوتے ہیں، اور ان کی تعداد کسی بھی وقت 10 نانِیلین سے تجاوز کر جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ mRNA ویکسین اور اے آئی سے تیار وائرسز جیسی پیش رفتیں مستقبل میں متعدی بیماریوں کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔