جب بھی رابنسن لیونی کسی نئی جگہ پر اپنی پہلی رات گزارتے ہیں تو انہیں کچھ اس قسم کی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہیں نیند آنے میں زیادہ وقت لگتا ہے، رات کے دوران بار بار آنکھ کھلتی ہے اور ان کے آرام کا مجموعی دورانیہ کم ہو جاتا ہے۔
گھر پر وہ اوسطاً سات گھنٹے سوتے ہیں۔ کسی اور جگہ رات گزارنے پر، چاہے ایئر پلگ استعمال کریں یا میٹرس کتنا ہی اچھا ہو، ان کی سمارٹ واچ کے مطابق نیند کا دورانیہ کم ہو کر تقریباً پانچ گھنٹے رہ جاتا ہے۔
ٹیکنالوجی کمپنی میں سیلز ڈائریکٹر کے طور پر کام کرنے والے رابنسن لیونی، جو کام کے سلسلے میں ماہانہ ایک یا دو مرتبہ سفر کرتے ہیں، نے کہا: ’میں خود کو معمول کے مطابق محسوس کرتا ہوں، آپ جانتے ہیں، کوئی دباؤ نہیں، کچھ بھی نہیں، لیکن میں صرف یہ محسوس کرتا ہوں کہ میری آنکھ مسلسل کھلتی رہتی ہے۔‘
وہ اس کیفیت کا سامنا کر رہے ہیں، جسے نیند کے ماہرین ’پہلی رات کا اثر‘ کہتے ہیں۔ درجنوں مطالعات میں اس مظہر کی تصدیق ہو چکی ہے اور سوئٹزرلینڈ کی یونیورسٹی آف فری برگ میں نیند کے حوالے سے تحقیق کرنے والی سینیئر محقق اینا وِک کے مطابق خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی جڑیں ارتقائی عمل میں ہیں۔
اینا وِک نے کہا: ’یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ ایک موافقتی ردِعمل ہے جس کے تحت سونے کے دوران دماغ اس غیر مانوس ماحول میں فعال رہتا ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یونیورسٹی آف پٹسبرگ میں شعبۂ نفسیات کے پروفیسر اور نیند کے محقق احمد مایلی نے کہا کہ زیادہ تر لوگ اس کیفیت کا تجربہ کرتے ہیں، حتیٰ کہ جو لوگ اسے محسوس نہیں کرتے، ان میں بھی ممکنہ طور پر معمولی سطح پر یہ کیفیت موجود ہوتی ہے۔
لوگ نئے ماحول میں اوسطاً تقریباً 20 سے 30 منٹ کم سوتے ہیں۔ ان کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ دماغ کا اگلا حصہ، جو نیند کے گہرے ترین مرحلے سے منسلک ہے، زیادہ فعال ہوتا ہے، جو چوکنا رہنے کی کیفیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ نتیجتاً لوگ مجموعی طور پر کم اور کم گہری نیند سوتے ہیں۔
احمد مایلی نے کہا: ’وہ کہہ رہے ہیں کہ ڈولفن کی طرح دماغ کا ایک حصہ اس وقت بیدار رہتا ہے جب آپ سو رہے ہوتے ہیں۔ یہ بالکل ڈولفن جیسا نہیں ہے، لیکن پھر بھی مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دماغ کا ایک حصہ کم نیند لے رہا ہوتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ عمر بھی فرق ڈالتی ہے۔ یہ اثر بچوں، نوعمروں اور بڑی عمر کے افراد میں زیادہ نمایاں ہوتا ہے اور عموماً عمر بڑھنے کے ساتھ اس میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ 20 کی دہائی کے افراد اس سے سب سے کم متاثر ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ’شاید یہی بہترین عمر ہے۔‘
احمد مایلی کا خیال ہے کہ انسانی دماغ نئی جگہوں سے محتاط رہنے کے لیے اس طرح بنا ہوا ہو سکتا ہے کیونکہ تاریخی طور پر غیر مانوس ماحول آرام کے دوران سب سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ میریٹ ہوٹل ہے یا سوانا کا علاقہ۔ آپ کے دماغ کو ابھی یہ اطلاع نہیں ملی کہ یہ جگہ مکمل طور پر محفوظ ہے۔‘
اینا وِک نے کہا کہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلی رات کے بعد یہ اثر ختم ہو جاتا ہے۔
نیند کے مسائل کے ادراکی رویوں پر مبنی علاج میں ماہر نفسیات لیزا اسٹراس نے کہا کہ ارتقائی طور پر فعال رہنے کے علاوہ نئی جگہ پر نیند کو متاثر کرنے والے کئی دیگر عوامل بھی ہو سکتے ہیں۔
سفر بذاتِ خود بھی نیند پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، حتیٰ کہ ایک ہی ٹائم زون میں سفر کرنے کی صورت میں بھی۔ ماحول سے متعلق عوامل بھی رکاوٹ بن سکتے ہیں، مثلاً ہوٹل کے کمرے میں دھوئیں کا الارم جلنے والی روشنی۔ رشتوں میں تناؤ، مثلاً دور رہنے والے رشتہ داروں سے ملاقات کے دوران، بھی اس میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
سٹراس نے کہا کہ کچھ لوگ پہلی رات بہتر سو سکتے ہیں، اگر وہ دن بھر کے طویل سفر کے بعد بہت تھکے ہوئے ہوں یا نئی جگہ انہیں روزمرہ کے دباؤ سے الگ ہونے کا احساس فراہم کرتی ہو۔ وہ لوگ جنہیں گھر پر سونے میں دشواری ہوتی ہے، وہ بھی نئی جگہ پر بہتر سو سکتے ہیں کیونکہ وہ اس ماحول کو بے آرام راتوں کی سابقہ یادوں سے منسلک نہیں کرتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ کوئی بھی شخص پہلی رات کے اثر کا تجربہ کر سکتا ہے، لیکن وہ افراد جو معمول کے حالات میں زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں، خاص طور پر اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسی پیش گوئی بن جاتی ہے جو خود ہی سچ ثابت ہو جاتی ہے۔ یہ فکر کہ آیا وہ سو سکیں گے یا نہیں، دراصل انہیں بیدار رکھتی ہے۔ لیونی نے تسلیم کیا کہ بعض اوقات پہلی رات سے پہلے وہ یہ سوچتے رہتے ہیں کہ وہ کس طرح سوئیں گے۔
انہوں نے کہا: ’کبھی کبھی یہ خیالات خود بخود آنے لگتے ہیں۔ آپ اپنے ساتھی سے بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں، میں واپس کمرے میں جا رہا ہوں، لیکن ویسے بھی میں سو نہیں پاؤں گا۔‘
سٹراس نے نیند سے متعلق عمومی صحت بخش عادات اپنانے کی تجویز دی، مثلاً ہر رات ایک ہی وقت پر ٹھنڈے اور تاریک کمرے میں سونا، رات کے وقت ایک معمول پر عمل کرنا اور سونے سے کافی پہلے سکرینوں کا استعمال بند کر دینا۔ اگر کسی اہم سفر سے پہلے کے دنوں یا ہفتوں میں ان عادات کا آغاز کیا جائے یا انہیں دوبارہ معمول کا حصہ بنایا جائے تو یہ اقدامات خاص طور پر مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ لوگ نئی جگہ کو اپنا بنانے کی کوشش کریں اور نئے بستر پر کچھ اضافی وقت گزاریں۔ وہ پڑھ سکتے ہیں یا کوئی دوسری پُرسکون اور مانوس سرگرمی انجام دے سکتے ہیں تاکہ یہ تجربہ کم غیر مانوس محسوس ہو، یا اپنی مانوس چیزیں ساتھ لے جا سکتے ہیں، جیسے پسندیدہ تکیہ یا کمبل۔
کسی ایسے شخص کے لیے جو خاص طور پر بے چین ہو، سٹراس نے مشورہ دیا کہ وہ خود کو کسی محفوظ اور مانوس ماحول میں تصور کرے، مثلاً اپنی پسندیدہ پہاڑی پگڈنڈی یا ساحل پر۔
انہیں اپنی محسوس ہونے والی بے چینی کا مشاہدہ کرنا چاہیے، پھر مثبت جملوں کو دہرانا چاہیے تاکہ ضرورت سے زیادہ فعال رہنے کی کیفیت کو کم کرنے میں مدد ملے: ’آپ جانیں کہ آپ محفوظ ہیں۔ آپ جانیں کہ آپ سے محبت کی جاتی ہے۔ آپ سکون میں رہیں۔‘
احمد مایلی نے کہا کہ پہلی رات کے اثر کے بارے میں واقعی فکر کرنے کی ضرورت نہیں اور لوگ ایک رات میں ایک یا دو گھنٹے کی کم نیند کی آسانی سے تلافی کر سکتے ہیں۔ تاہم وہ کسی اہم اجلاس یا تقریب سے پہلے ماحول سے مانوس ہونے کے لیے ایک دن پہلے پہنچنے کی تجویز دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ’اگر کل کا دن اہم ہے تو ایک رات پہلے وہاں پہنچ جائیں، تاکہ جب وقت اہم ہو تو آپ اپنے معمول کے مطابق سو سکیں۔‘
© The Independent