کیا دیسی انڈے ماحول کے لیے زیادہ نقصان دہ ہیں؟

محققین کے مطابق قدرتی طریقے سے کھلی جگہ پر پالی گئی مرغیوں کے انڈے حاصل کرنے کی صورت میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 60 فی صد اضافہ ہو سکتا ہے۔

11 جنوری 2010 کو برلن سے تقریبا 80 کلومیٹر شمال میں واقع شہر زیتھن کے قدرتی مرغی خانے میں فروخت کے لیے موجود انڈے (اے ایف پی)

نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ دیسی اور کھلی جگہ پر گھومنے والی مرغیوں کے انڈے، پنجروں میں رکھی گئی مرغیوں کے انڈوں کے مقابلے میں ماحول کے لیے دو گنا زیادہ نقصان دہ ہیں۔

آکسفرڈ یونیورسٹی کے محققین کے مطابق اگر انڈوں کی پیداوار مکمل طور پر قدرتی اور کھلی جگہ پر مرغیاں پالنے کے طریقے سے کی جائے تو کاربن کا اخراج 60 فی صد بڑھ جائے گا، جبکہ مرغیوں کے لیے درکار زمین بھی تقریبا دگنی ہو جائے گی۔

اگر صرف قدرتی طریقے سے کھلی جگہ پر پالی گئی مرغیوں کے انڈے پیدا کیے جائیں تو گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج 23 لاکھ 16 ہزار ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے برابر ہو گا۔ اس کے مقابلے میں اگر صرف پنجروں میں رکھی گئی مرغیوں سے انڈے حاصل کیے جائیں تو 11 لاکھ 84 ہزار ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہو گی۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جانوروں کی بہتر دیکھ بھال کے لحاظ سے قدرتی طریقے سے کھلی جگہ پر مرغیاں پالنا بہتر ہے، لیکن اتنی ہی تعداد میں انڈے حاصل کرنے کے لیے زیادہ مرغیوں کی ضرورت پڑتی ہے، کیوں کہ پنجروں میں رکھی گئی مرغیاں زیادہ انڈے دیتی ہیں۔

محققین نے خبردار کیا ہے کہ قدرتی طریقے سے کھلی جگہ پر مرغیاں پالنا پانی کی آلودگی اور زمین کے استعمال کے لحاظ سے بھی زیادہ نقصان دہ ہے۔

تحقیق کی مصنفہ، آکسفرڈ یونیورسٹی کے سمتھ سکول آف انٹرپرائز اینڈ دی انوائرنمنٹ کی ڈاکٹر ہیریئٹ بارٹلیٹ کہتی ہیں کہ ’ہماری تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ انڈوں کی پیداوار کے مستقبل سے متعلق فیصلے کرتے وقت مرغیوں کی بہتر دیکھ بھال، ماحول پر اثرات اور خوراک کی پیداوار کو ایک ساتھ مدنظر رکھنا بہت ضروری ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا، ’ان مشکل پہلوؤں اور ان کے باہمی اثرات کو سمجھنے سے ہمیں مستقبل میں ماحول اور جانوروں کی بہتر دیکھ بھال کے لیے زیادہ اچھے فیصلے کرنے میں مدد ملے گی۔‘

رائل سوسائٹی اوپن سائنس نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے لیے ڈاکٹر بارٹلیٹ اور ان کے ساتھیوں نے برطانیہ کے مرغی خانوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ہر مرغی خانے کے ماحول پر پڑنے والے اثرات کا حساب لگایا، جن میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج، استعمال ہونے والی زمین اور پانی کی آلودگی سمیت دوسری اقسام کی آلودگی شامل تھی۔

محققین نے مرغیوں کی دیکھ بھال کا بھی جائزہ لیا، جس میں مرغیوں کے مرنے کی شرح اور انڈوں کی ایک خاص مقدار پیدا کرنے کے لیے درکار مرغیوں کی تعداد شامل تھی۔

تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا کہ قدرتی طریقے سے کھلی جگہ پر مرغیاں پالنے والے نظام میں مرغیوں کی اموات سب سے زیادہ تھیں۔ تحقیق کے مصنفین کے مطابق بیماریوں، چوٹوں اور ایک دوسرے کے پر نوچنے کے زیادہ خطرے کی وجہ سے اموات کی شرح بلند ہو سکتی ہے۔

تاہم تحقیق میں 2009 اور 2010 کے درمیان جمع کیے گئے اعداد و شمار استعمال کیے گئے اور مصنفین نے تسلیم کیا کہ اس کے بعد گذشتہ 16 برسوں میں بہتری آئی ہے۔

دنیا بھر میں خوراک کی فراہمی کا نظام انسانی سرگرمیوں سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کے 26 فی صد کا ذمہ دار ہے۔ یہ پانی میں غذائی اجزا کی نقصان دہ حد تک زیادتی کے 78 فی صد کا بھی سبب بنتا ہے، جس سے مچھلیاں مر سکتی ہیں، جبکہ مٹی کو پہنچنے والے نقصان میں اس کا حصہ 32 فی صد ہے۔

محققین کے مطابق گذشتہ 50 برسوں میں دنیا بھر میں انڈوں کی پیداوار چار گنا ہو چکی ہے اور یہ ان ماحولیاتی اثرات کی ایک بڑی وجہ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر بارٹلیٹ نے وضاحت کی کہ پنجروں میں رکھی گئی مرغیوں کا ماحول پر اثر کم ہوتا ہے، کیوں کہ وہ اتنی ہی مقدار میں انڈے دیتے ہوئے کم خوراک کھاتی ہیں۔

مرغیوں کی خوراک کی تیاری، انڈوں کی پیداوار سے ماحول پر پڑنے والے اثرات کی ایک بڑی وجہ ہے۔ کم خوراک استعمال ہونے سے انڈے پیدا کرنے کے لیے درکار وسائل کم ہو جاتے ہیں اور اس طرح ان سے وابستہ گیسوں کا اخراج بھی گھٹ جاتا ہے۔

ڈاکٹر بارٹلیٹ نے کہا: ’قدرتی طریقے سے کھلی جگہ پر مرغیاں پالنے والے نظام کے ماحول پر اثرات عموما زیادہ ہوتے ہیں، کیوں کہ ان میں پیداوار کم ہوتی ہے، ہر انڈے کے لیے زیادہ خوراک درکار ہوتی ہے اور قدرتی طریقے سے مرغیوں کی خوراک اگانے والی فصلوں کی پیداوار بھی کم ہوتی ہے۔ ان تمام عوامل کی وجہ سے اتنی ہی مقدار میں انڈے پیدا کرنے کے لیے زیادہ زمین، خوراک اور دوسرے وسائل درکار ہوتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا، ’ان اثرات کو کم کرنے کے لیے مرغیوں کی جینیاتی خصوصیات، غذائیت، خوراک کی پیداوار اور مرغی خانوں کے انتظام میں مسلسل بہتری لانا ضروری ہو گا۔ طویل مدتی مقصد ایسا نظام تیار کرنا ہونا چاہیے جس میں مرغیوں کو پنجروں کے بغیر رکھا جائے، ان کی بہتر دیکھ بھال کے اعلی معیار برقرار رہیں، پیداوار زیادہ موثر ہو اور ماحول پر اثرات کم ہوں۔‘

 

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق