پاکستان سے یورپ غیرقانونی امیگریشن میں 64 فیصد کمی: وزیر داخلہ

محسن نقوی نے امیگریشن سے متعلق عالمی اداروں کے سربراہوں سے الگ الگ ملاقات میں کہا کہ غیرقانونی امیگریشن میں 100 فیصد کمی اگلا ہدف ہے۔

دو جون، 2003 کو کوئٹہ میں ایف آئی اے اہلکار ایران سے ملک بدر کیے گئے پاکستانی غیرقانونی تارکین وطن کی دستاویزات تیار کر رہے ہیں (ایف آئی اے)

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ حکومتی اقدامات کی بدولت پاکستان سے یورپ جانے والے غیرقانونی تارکین وطن کی تعداد میں 64 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور حکومت کا اگلا ہدف غیرقانونی امیگریشن میں 100 فیصد کمی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو ڈائریکٹر جنرل انٹرنیشنل سینٹر فار مائیگریشن پالیسی ڈویلپمنٹ (آئی سی ایم پی ڈی) سوزین راب اور یورپی یونین کی بارڈر اینڈ کوسٹ گارڈ ایجنسی ’فرنٹیکس‘ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہانس لیئتنس سے الگ الگ ملاقاتوں کے دوران کیا۔

ملاقاتوں میں غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے انٹرنیشنل سینٹر فار مائیگریشن پالیسی ڈویلپمنٹ اور یورپی یونین کی بارڈر اینڈ کوسٹ گارڈ ایجنسی کے ساتھ تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس موقعے پر غیرقانونی امیگریشن کے سدباب اور بارڈر مینیجمنٹ کے لیے مشترکہ اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

ایران کے راستے فرانس، برطانیہ، اٹلی اور سپین سمیت دیگر ملکوں کا غیر قانونی سفر اختیار کرنے والے پاکستانی سمندری راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اس دوران پیش آنے والے حادثات میں متعدد پاکستانی موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ان ملاقاتوں میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کم وسائل کے باوجود غیر قانونی امیگریشن میں 64 فیصد کمی ایک مشکل ٹاسک تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کو چیلنج سمجھ کر قبول کیا اور پوری ٹیم نے دن رات محنت کی۔ غیر قانونی امیگریشن میں 100 فیصد کمی اگلا ہدف ہے، جسے ہر صورت حاصل کریں گے۔‘

محسن نقوی نے کہا کہ غیر قانونی مائیگریشن میں کمی کے لیے قانونی ترک وطن کی نئی راہیں کھولنا ضروری ہے اور اس کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور افسروں کی تربیت کی ضرورت ہے۔

ان کے بقول: ’بارڈر مینیجمنٹ کو مزید مؤثر بنانے کے لیے دور جدید کے تقاضوں کے مطابق اداروں کی استعداد کار بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

’غیر قانونی امیگریشن کے مکمل خاتمے کے لیے مزید عملی اقدامات اور مربوط تعاون کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے تمام ایئر پورٹس کے 500 امیگریشن کاؤنٹرز پر جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیمرے نصب کرنا ہدف ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ جدید کیمروں کے ذریعے غیر قانونی امیگریشن اور انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کو فوری طور پر قانون کی گرفت لایا جا سکے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 انٹرنیشنل سنٹر فار مائیگریشن پالیسی ڈویلپمنٹ اور یورپی یونین کی بارڈر اینڈ کوسٹ گارڈ ایجنسی کے عہدے داروں نے غیرقانونی امیگریشن کے سدباب کے لیے پاکستان کے موثر اقدامات کو سراہا۔

ڈائریکٹر جنرل آئی سی ایم پی ڈی نے کہا کہ پاکستان کی غیر قانونی امیگریشن کے خلاف اقدامات قابل تعریف ہیں اور اس ہدف کے حصول میں پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔

دوسری جانب یورپی یونین کی بارڈر اینڈ کوسٹ گارڈ ایجنسی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہانس لیئتنس نے کہا کہ پاکستان کی غیر قانونی امیگریشن کے سدباب کے لیے اٹھائے گئے اقدامات قابلِ تحسین ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’غیر قانونی امیگریشن کے مکمل خاتمے کے مقرر کردہ ہدف کے حصول میں ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان