نیتن یاہو کو یہ حملہ کیوں کرنا تھا؟ اب دستخطوں میں تاخیر ہوگی: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو امریکی خبر رساں ویب سائٹ ایکسیوس سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیروت پر اسرائیلی حملے سے وہ سخت جھلا گئے تھے اور انہوں نے اس بارے میں نیتن یاہو کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔

 5 جون، 2026 کو لی گئی اس تصویر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پریس سے گفتگو کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جب وہ ایئر فورس ون پر سوار تھے(تصویر: اے ایف پی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو امریکی خبر رساں ویب سائٹ ایکسیوس سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیروت پر اسرائیلی حملے سے وہ سخت جھلا گئے تھے اور انہوں نے اس بارے میں نیتن یاہو کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیلی حملے نے معاہدے کے عمل کو متاثر ضرور کیا، تاہم اسے مکمل طور پر پٹری سے نہیں اتارا۔

’اس نے صورتحال کو ہلا کر رکھ دیا۔ دستخط میں چند گھنٹوں کی تاخیر ہوئی ہے۔ یہ ابھی ہو جانے تھے، اب چند گھنٹوں بعد متوقع ہیں۔‘

ٹرمپ کے بقول: ’یہ بہت برا تھا، مجھے یقین نہیں آ رہا تھا۔ ہم معاہدے پر دستخط کرنے والے تھے اور اس سے ایک گھنٹہ پہلے حملہ کر دیا گیا۔‘

انہوں نے ایکسیوس کو مزید بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے بیروت میں کیے گئے حملے اور ایران کی جوابی کارروائی کی دھمکیوں کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے سے متعلق مجوزہ معاہدہ اب بھی اتوار کو طے پانے کی راہ پر ہے۔

ایکسیوس کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں اس وقت حیرت ہوئی جب ان کے مشیروں نے بیروت میں اسرائیلی حملے سے متعلق بریفنگ دی جس پر انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

ایکسیوس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی ناراضی سے نیتن یاہو کو آگاہ کر دیا ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ بیروت پر آج اسرائیلی حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا، لبنان کے کسی حصے پر اسرائیل سے مزید حملے نہ کیے جائیں۔

انہوں نے لکھا کہ ’بیروت پر آج صبح ہونے والا حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا، خاص طور پر ایسے اہم دن پر جب ہم ایران کے ساتھ امن معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، لیکن جس حملے کے جواب میں یہ کارروائی کی گئی وہ بہت معمولی اور بے اثر تھا، اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، نہ کوئی زخمی ہوا اور نہ کوئی اموات ہوئیں، اور اسے اس اہم عمل میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہم ایک ایسے معاہدے کے بہت قریب ہیں جو خطے میں امن لائے گا، جس میں لبنان بھی شامل ہے، اور تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور کارروائیاں روک دینی چاہئیں۔‘

’لبنان کے کسی بھی حصے میں اسرائیل کی جانب سے مزید حملے نہیں ہونے چاہئیں، اور اسی طرح کسی بھی دوسری جانب سے، بشمول حزب اللہ، اسرائیل کے خلاف بھی کوئی حملہ نہیں ہونا چاہیے۔‘

ان کے مطابق ’یہ ایک پائیدار امن کے آغاز کا عمدہ موقع ہو سکتا ہے، اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔‘

بیروت پر اسرائیلی حملہ امریکہ کی کمزوری کا ثبوت ہے، جواب یقینی ہے: ابراہیم عزیزی

ادھر ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے آج ایکس پر بیروت کے مضافاتی علاقے الضاحية پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ امریکہ کمزور اور ناقابلِ اعتبار ہے اور وہ اسرائیل کو بھی کنٹرول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

ابراہیم عزیزی جو شیراز و زرقان سے رکن پارلیمان ہیں، نے اپنے بیان میں کہا کہ’متحدہ محاذِ مزاحمت کی جانب سے جواب دینا یقینی ہے۔‘

امریکہ اپنی ذمہ داریوں پر عمل کی صلاحیت نہیں رکھتا تو مذاکرات آگے بڑھانا ممکن نہیں: قالیباف

ایرانی پارلیمان کے سپیکر اور اسلام آباد مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت کرنے والے باقر قالیباف نے اتوار کو کہا ہے کہ اگر امریکہ اپنی ذمہ داریوں پر عمل کی صلاحیت نہیں رکھتا تو مذاکرات آگے بڑھانا ممکن نہیں۔

قالیباف کا کہنا ہے کہ اگر بیروت کے جنوبی علاقے الضاحية پر اسرائیلی حملے بند نہیں ہوتے تو امن کے لیے مذاکرات جاری رکھنا ممکن نہیں۔

اتوار کو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان باقر قالیباف نے کہا کہ ’صہیونیوں کی الضاحية میں دراندازی نے ایک بار پھر یہ ظاہر کر دیا ہے کہ امریکہ یا تو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا یا پھر اس کے پاس انہیں پورا کرنے کی منشا نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اسرائیلی ریجیم کو ’گرین سگنل‘ دے کر آپ رعایتیں حاصل نہیں کر سکتے۔ Bad cop اور good cop کا کھیل اب پرانا ہو چکا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر آپ کے پاس اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی منشا اور صلاحیت نہیں ہے، تو ’راستہ جاری رکھنے‘ کی بات کرنا ممکن نہیں۔‘

ان کا یہ بیان ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے جن کے مطابق اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافات میں الضاحية پر حملہ کیا ہے جسے خبر رساں ادارے اے ایف پی نے کنفرم کرتے ہوئے بتایا کہ مذکور علاقے میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

دوسری جانب لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (این این اے) نے رپورٹ کیا ہے کہ بیروت کے جنوبی علاقے غبيري میں بھی ایک حملہ کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہے اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی مضافات میں یہ حملے کیے ہیں۔

یہ حملے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے اس اعلان کے ایک روز بعد ہوئے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ اور ایران نے ایک معاہدے کے الفاظ پر اتفاق کیا ہے جس کا مقصد اپنی جنگ کو ختم کرنا ہے، اور یہ کہ ثالث دونوں فریقوں کے ساتھ مل کر ایک معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

جبکہ گذشتہ روز ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ایران کے ساتھ معاہدہ ہونے اور آبنائے ہرمز کے کھول دیے جانے کا اعلان کر چکے ہیں۔

اس سے قبل لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (این این اے) کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں نے جنوبی لبنان میں صور، نبطیہ کے قریب واقع جزین کے علاقے ریحان اور سجود سمیت متعدد دیہات کو نشانہ بنایا۔

رپورٹ کے مطابق ریحان میں ایک حملے میں وہاں کے میئر علی بادی کی موت واقع ہو گئی ہے۔ 

اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق نبطیہ شہر تقریباً خالی ہو چکا ہے، جبکہ شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں رات بھر اور ہفتے کے روز بھی توپ خانے سے گولہ باری کی گئی۔

ایک روز قبل بھی علی طاہر کی پہاڑیوں کے اطراف دھماکوں اور گولہ باری کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسرائیل گذشتہ ماہ دریائے زہرانی کے جنوب کے تمام علاقوں کو ’جنگی زون‘ قرار دے چکا ہے اور اس کے بعد سے وہاں شدید حملے جاری ہیں۔

ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہا ہے کہ خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے کسی بھی معاہدے میں لبنان کو شامل کیا جانا چاہیے۔

ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے میں لبنان کا معاملہ بھی شامل ہے۔

لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں اب تک 3700 سے زائد افراد جان سے جا چکے ہیں۔

ادھر حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات اور حالیہ مشروط معاہدے کو مسترد کر دیا ہے، کیونکہ اس میں حزب اللہ کے حملے روکنے کی شرط تو شامل ہے، لیکن اسرائیلی فوج کے انخلا یا اسرائیلی حملوں کے خاتمے کا کوئی ذکر نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا