امریکہ اپنی ذمہ داریوں پر عمل کی صلاحیت نہیں رکھتا تو مذاکرات آگے بڑھانا ممکن نہیں: قالیباف

ایرانی پارلیمان کے سپیکر اور اسلام آباد مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت کرنے والے باقر قالیبان نے اتوار کو کہا ہے کہ اگر امریکہ اپنی ذمہ داریوں پر عمل کی صلاحیت نہیں رکھتا تو مذاکرات آگے بڑھانا ممکن نہیں۔

12 اکتوبر، 2024 کی اس تصویر میں ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف کو بیروت میں ایک ملاقات کے دوران دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی)

ایرانی پارلیمان کے سپیکر اور اسلام آباد مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت کرنے والے باقر قالیبان نے اتوار کو کہا ہے کہ اگر امریکہ اپنی ذمہ داریوں پر عمل کی صلاحیت نہیں رکھتا تو مذاکرات آگے بڑھانا ممکن نہیں۔

قالیباف کا کہنا ہے کہ اگر بیروت کے جنوبی علاقے الضاحية پر اسرائیلی حملے بند نہیں ہوتے تو امن کے لیے مذاکرات جاری رکھنا ممکن نہیں۔

اتوار کو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان باقر قالیباف نے کہا کہ ’صہیونیوں کی الضاحية میں دراندازی نے ایک بار پھر یہ ظاہر کر دیا ہے کہ امریکہ یا تو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا یا پھر اس کے پاس انہیں پورا کرنے کی منشا نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اسرائیلی ریجیم کو ’گرین سگنل‘ دے کر آپ رعایتیں حاصل نہیں کر سکتے۔ Bad cop اور good cop کا کھیل اب پرانا ہو چکا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر آپ کے پاس اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی منشا اور صلاحیت نہیں ہے، تو ’راستہ جاری رکھنے‘ کی بات کرنا ممکن نہیں۔‘

ان کا یہ بیان ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے جن کے مطابق اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافات میں الضاحية پر حملہ کیا ہے جسے خبر رساں ادارے اے ایف پی نے کنفرم کرتے ہوئے بتایا کہ مذکور علاقے میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

دوسری جانب لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (این این اے) نے رپورٹ کیا ہے کہ بیروت کے جنوبی علاقے غبيري میں بھی ایک حملہ کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہے اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی مضافات میں یہ حملے کیے ہیں۔

یہ حملے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے اس اعلان کے ایک روز بعد ہوئے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ اور ایران نے ایک معاہدے کے الفاظ پر اتفاق کیا ہے جس کا مقصد اپنی جنگ کو ختم کرنا ہے، اور یہ کہ ثالث دونوں فریقوں کے ساتھ مل کر ایک معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

جبکہ گذشتہ روز ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ایران کے ساتھ معاہدہ ہونے اور آبنائے ہرمز کے کھول دیے جانے کا اعلان کر چکے ہیں۔

اس سے قبل لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (این این اے) کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں نے جنوبی لبنان میں صور، نبطیہ کے قریب واقع جزین کے علاقے ریحان اور سجود سمیت متعدد دیہات کو نشانہ بنایا۔

رپورٹ کے مطابق ریحان میں ایک حملے میں وہاں کے میئر علی بادی کی موت واقع ہو گئی ہے۔ 

اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق نبطیہ شہر تقریباً خالی ہو چکا ہے، جبکہ شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں رات بھر اور ہفتے کے روز بھی توپ خانے سے گولہ باری کی گئی۔

ایک روز قبل بھی علی طاہر کی پہاڑیوں کے اطراف دھماکوں اور گولہ باری کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسرائیل گذشتہ ماہ دریائے زہرانی کے جنوب کے تمام علاقوں کو ’جنگی زون‘ قرار دے چکا ہے اور اس کے بعد سے وہاں شدید حملے جاری ہیں۔

ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہا ہے کہ خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے کسی بھی معاہدے میں لبنان کو شامل کیا جانا چاہیے۔

ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے میں لبنان کا معاملہ بھی شامل ہے۔

لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں اب تک 3700 سے زائد افراد جان سے جا چکے ہیں۔

ادھر حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات اور حالیہ مشروط معاہدے کو مسترد کر دیا ہے، کیونکہ اس میں حزب اللہ کے حملے روکنے کی شرط تو شامل ہے، لیکن اسرائیلی فوج کے انخلا یا اسرائیلی حملوں کے خاتمے کا کوئی ذکر نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا