سعودی حکام نے جمعے کو کہا ہے کہ عراق میں کی جانے والی فضائی کارروائی کا ہدف ملیشیا تھی اور ان کی صلاحیتیں تھی، اس کارروائی کا ہدف عراقی ریاست نہیں تھی۔
العربیہ انگلش کے مطابق سعودی حکام نے کہا ہے کہ ’سعودی عرب عراق، اس کی حکومت اور عوام کے ساتھ اپنے تعلقات کے لیے بدستور پُرعزم ہے۔ انجام دی گئی فضائی کارروائی کا ہدف نہ عراقی عوام تھے اور نہ ہی عراقی حکومت۔‘
مزید کہا گیا کہ ’یہ فضائی حملہ اُس ملیشیا کی صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا جس نے مملکت کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا اور اس کی اہم شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملے کیے۔‘
سعودی حکام کے مطابق یہ کارروائی محدود اور انتہائی درست نوعیت کی تھی، جو صرف ملیشیا کے عسکری گوداموں تک محدود رہی، اور اس کا براہِ راست تعلق سعودی سرزمین، اہم بنیادی ڈھانچے اور تیل کی تنصیبات پر کیے گئے حملوں سے تھا۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے یہ اقدام تمام سفارتی اور سیاسی ذرائع استعمال کرنے اور گذشتہ کئی ماہ کے دوران انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے کے بعد اٹھایا۔
سعودی عہدیدار نے مزید بتایا کہ ’یہ دہشت گرد ملیشیا عراق کے مفادات اور عرب و اسلامی ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات کو نقصان پہنچا رہی ہے، جبکہ عراقی سرزمین اور وسائل کو ہمسایہ ممالک کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال کر رہی ہے۔‘
سعودی عہدیدار کے مطابق ’عراق کے اندر اور باہر بعض حلقوں کی جانب سے فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کے لیے کیے جانے والے دعوے باشعور اور سمجھدار عراقی عوام کو گمراہ نہیں کر سکتے۔ یہ وہی عناصر ہیں جو نہیں چاہتے کہ عراق ایسے مضبوط تعلقات استوار کرے جو اس کی سلامتی اور استحکام کو مزید مستحکم بنائیں۔‘
سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے بدھ کی صبح کہا تھا کہ اس نے حالیہ ڈرون حملوں کے جواب میں امریکہ کے ساتھ مل کر عراق میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
وزارت دفاع نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’سعودی عرب کشیدگی بڑھانا نہیں چاہتا، تاہم وہ کسی بھی جارحیت کا جواب دے گا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت بین الاقوامی قانون کی جانب سے تسلیم شدہ ذاتی حقِ دفاع کے مطابق امریکی افواج کے ساتھ مشترکہ طور پر کی گئی۔
اس سے قبل وزارت نے کہا تھا کہ اس نے منگل کی شام کئی ڈرون مار گرائے اور تباہ کر دیے، جن کے ذریعے مشرقی صوبے میں واقع تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔
وزارت کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ یہ ’دہشت گرد‘ حملے ایک بار پھر عراقی سرزمین سے کیے گئے اور ان میں ایران کی حمایت یافتہ دہشت گرد ملیشیاؤں نے حصہ لیا۔
سعودی عرب کی وزارت دفاع نے پیر کو بھی کہا تھا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران عراقی سرزمین سے آنے والے متعدد ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا، جو مشرقی علاقے اور دارالحکومت ریاض میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور یمنی ملیشیا نے حالیہ دنوں میں مملکت سے منسلک جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان بھی کشیدگی تاحال جاری اور آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت میں تعطل ہے، جس کے باعث پورا خطہ متاثر ہوا ہے۔