ہمت کریں، ہرمز جائیں اور خود تیل لے لیں: ٹرمپ کا دوسرے ملکوں کو مشورہ

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا ’آپ کو اپنے لیے لڑنے کا طریقہ سیکھنا شروع کرنا ہو گا، امریکہ اب آپ کی مدد کے لیے وہاں نہیں ہو گا۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چھ مارچ، 2026 کو وائٹ ہاؤس میں ایک گول میز اجلاس کے دوران خطاب کر رہے ہیں (اے ایف پی)

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کا آج 32 واں دن ہے۔

 امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔

اس جنگ کی تازہ ترین اپ ڈیٹس۔


دن چار بج کر 30 منٹ

ہمت پیدا کریں، ہرمز جائیں اور خود تیل لے لیں: ٹرمپ کا مشورہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ سمیت دوسرے ملکوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ہمت کر کے آبنائے ہرمز جا کر خود ہی تیل حاصل کر لیں۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر لکھا ’وہ تمام ممالک جو آبنائے ہرمز کی وجہ سے جیٹ فیول حاصل نہیں کر سکتے، جیسا کہ برطانیہ، جس نے ایران جنگ میں آنے سے انکار کر دیا تھا، میری آپ کے لیے ایک تجویز ہے۔

’نمبر 1: امریکہ سے خریدیں، ہمارے پاس بہت کچھ ہے اور نمبر 2: کچھ ہمت پیدا کریں، ہرمز جائیں اور خود چھین لیں۔

’آپ کو اپنے لیے لڑنے کا طریقہ سیکھنا شروع کرنا ہو گا، امریکہ اب آپ کی مدد کے لیے وہاں نہیں ہو گا۔ بالکل اسی طرح جیسے آپ ہمارے لیے وہاں نہیں تھے۔

’ایران بنیادی طور پر تباہ ہوچکا ہے۔ مشکل حصہ ہو گیا ہے۔ جائیں، خود اپنا تیل لے لیں!‘


دن چار بج کر 15 منٹ

واشنگٹن - تہران مذاکرات کی سہولت کاری کی کوششیں پیچیدہ: امریکہ میں پاکستانی سفیر

پاکستان کے امریکہ میں سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کو سہولت فراہم کرنے کی کوششیں ’بہت زیادہ متحرک عناصر‘ کی وجہ سے پیچیدہ ہیں۔

انہوں نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے خبردار کیا کہ سفارت کاری میں وقت لگتا ہے اور سخت ٹائم لائنز شاذ و نادر ہی کام آتی ہیں، چاہے فوری نتائج کے لیے کوششیں کی جائیں۔

’یہ ایک بہت پیچیدہ معاملہ ہے جس میں بہت سے اقتصادی اور سیاسی پہلو شامل ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال ’مختلف سطحوں پر متعدد رابطے اور بات چیت کے چینلز‘ کام کر رہے ہیں۔

ان کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کروانے کے لیے سفارتی رابطوں کو تیز کر دیا ہے اور میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد ممکنہ طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کا مقام بن سکتا ہے۔

پاکستان کے اعلیٰ حکام نے اپنے امریکی اور ایرانی ہم منصبوں کے ساتھ قریبی رابطے قائم رکھے ہیں تاکہ بات چیت کے لیے سازگار حالات پیدا کیے جا سکیں۔

رضوان شیخ نے کہا فوری پیش رفت کی توقعات غیر حقیقت پسندانہ ہو سکتی ہیں، خاص طور پر ایران کے اندر موجود چیلنجز کو دیکھتے ہوئے۔

’سفارت کاری ایک تدریجی عمل ہے۔ اس میں صبر کے ساتھ سیاست کی ضرورت ہوتی ہے جو آخرکار مہارت بھری سفارت کاری میں بدل جاتی ہے۔‘

سفیر نے مذاکرات کے لیے سخت ڈیڈ لائنز کے بارے میں بھی خبردار کیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو جواب دینے کے لیے مقرر کردہ عوامی ٹائم لائنز کا حوالہ دیا۔

انہوں نے کہا ’وہ اس پر کسی حد تک ڈیڈ لائن لگاتے ہیں… لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران ایک جنگ زدہ ملک ہے جہاں رابطے کے چینلز بلاشبہ متاثر ہوئے ہیں۔‘

انہوں نے نوٹ کیا کہ تہران سے جوابات فوری طور پر نہیں آ سکتے اور پچھلی ڈیڈ لائنز پہلے ہی بڑھا دی گئی ہیں۔

رضوان شیخ کے مطابق پاکستان مذاکرات کی سہولت فراہم کرنے کے حوالے سے پرامید ہے، تاہم انہوں نے زور دیا کہ پیش رفت بالآخر متعلقہ فریقین پر منحصر ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ دشمنیوں میں کمی بات چیت کو آگے بڑھانے کی کلید ہوگی۔

جب ان سے ممکنہ جنگ بندی کے بارے میں سوال کیا گیا تو رضوان شیخ نے کہا ’کسی بھی مذاکراتی عمل میں، یہ ایک اچھا آغاز ہوگا۔‘


دن ایک بج کر 30 منٹ

وزیر خارجہ اپنے پاکستانی ہم منصب سے ایران کی صورت حال پر بات کریں گے: چینی وزارت خارجہ

چین کی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ اور ان کے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار ایران کی صورت حال پر تبادلہ خیال کریں گے۔

پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار منگل ہی کو بیجنگ کے لیے روانہ ہوئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چینی وزیر خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ ’دونوں وزرائے خارجہ ایران کی صورتحال پر سٹریٹیجک رابطہ اور ہم آہنگی کو مزید مضبوط کریں گے اور امن کے فروغ کے لیے نئی کوششیں کریں گے۔‘

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے عمل میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے، جو ریاض، انقرہ اور قاہرہ کے ساتھ تعاون سے جاری ہے۔

حکام کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہ راست رابطے کے بجائے منظم پیغامات کے تبادلے کے ذریعے بالواسطہ رابطے جاری ہیں، جس کے ذریعے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان مطابق اسحاق ڈار چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی دعوت پر یہ دورہ کر رہے ہیں۔

ترجمان نے پیر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اس دورے کے دوران علاقائی صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور عالمی سطح کے اہم معاملات پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

گذشتہ جمعہ اسحاق ڈار اور وانگ یی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا جس میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور عالمی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے ایران سے متعلق جنگ میں امن مذاکرات کے آغاز کو مشکل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی کوششیں آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمد و رفت کی بحالی کے لیے مددگار ثابت ہوں گی۔


دن 12 بج کر 17 منٹ

اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے لبنان میں امن دستوں کو شدید خطرات: انڈونیشیا

انڈونیشیا کی وزارت خارجہ نے منگل کو ایک بیان میں 30 مارچ کو جنوبی لبنان میں ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی، اور کہا کہ یہ خطے میں خراب ہوتے ہوئے سکیورٹی ماحول کی عکاسی کرتے ہیں۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے لبنان میں اقوام متحدہ کے امن دستوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق، گذشتہ اختتام ہفتہ ہونے والے ان حملوں میں تین انڈونیشین شہری مارے گئے۔

جنوبی لبنان میں دو مختلف حملوں میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں شامل انڈونیشیا کے تین شہریوں کی جان گئی۔  

اقوام متحدہ کی امن فوج کہ ان دونوں واقعات کو الگ الگ طور پر چانچا جا رہا ہے۔


دن 11 بج کر 15 منٹ

سعودی عرب، قطر اور اردن کی قیادت کا خطے میں کشیدگی پر تبادلہ خیال

سعودی عرب، قطر اور اردن کے رہنماؤں نے پیر کو جدہ میں ہونے والے ایک اجلاس میں خطے میں فوجی کشیدگی کے اثرات، بین الاقوامی بحری راستوں کی آزادی کو درپیش خطرات اور توانائی کی فراہمی کے تحفظ پر اس کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔

سعودی پریس ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق اجلاس کی میزبانی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کی، جس میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران کشیدگی کے عالمی معیشت پر اثرات اور علاقائی سلامتی و استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں کے فروغ پر بھی گفتگو کی گئی۔

رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ خلیج تعاون کونسل کے ممالک اور اردن پر ایران کے مسلسل حملے، جن میں اہم اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، ایک خطرناک کشیدگی ہے جو خطے کے امن اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جب ایران ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے سعودی عرب، قطر اور اردن کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔


صبح 9 بج کر 45 منٹ

اسحاق ڈار چین کے لیے روانہ

پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار منگل کی صبح چینی وزیر خارجہ کی دعوت پر بیجنگ کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں رہنما دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی مسائل پر بھی بات کریں گے۔

یہ اسحاق ڈار کے رواں سال چین کا دوسرا دورہ ہے۔


صبح 9 بج کر 45 منٹ

لبنان میں چار اسرائیلی فوجی مارے گئے

اسرائیل کی فوج نے منگل کو کہا ہے کہ لبنان میں اس کے چار اہلکار مارے گئے ہیں جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ ہلاکتیں جنوبی لبنان میں کارروائی کے دوران ہوئیں۔ اسرائیل ایران کے علاوہ لبنان پر بھی حملے جاری رکھے ہوئے ہے جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ فوجی حزب اللہ کے جنگجوؤں سے جھڑپ میں مارے گئے۔ 

رواں ہفتے ہی جنوبی لبنان میں دو الگ واقعات میں اقوام متحدہ کے امن فوجی مشن میں شامل تین فوجی مارے گئے تھے جبکہ اسرائیلی حملوں میں لبنانی صحافی اور طبی عملہ کا ایک رکن کی بھی موت ہوئی۔


صبح 8 بج کر 30 منٹ

ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے پر آمادہ، چاہے آبنائے ہرمز بند رہے: وال سٹریٹ جرنل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں سے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی فوجی مہم کو ختم کرنے پر آمادہ ہیں، چاہے آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند ہی کیوں نہ رہے۔

وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ پر تہران کا کنٹرول برقرار رہے، اور اسے دوبارہ کھولنے کا پیچیدہ کام بعد کے لیے چھوڑ دیا جائے۔

حالیہ دنوں میں ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے اندازہ لگایا کہ اس اہم راستے کو زبردستی کھولنے کی کارروائی جنگ کو ان کے مقررہ چار سے چھ ہفتوں کے ٹائم فریم سے آگے لے جائے گی۔

امریکی اخبار کے مطابق اسی لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ امریکہ کو اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے چاہئیں، جن میں ایران کی بحریہ کو کمزور کرنا اور اس کے میزائل ذخائر کو نقصان پہنچانا شامل ہے، اور پھر موجودہ لڑائی کو ختم کرتے ہوئے سفارتی دباؤ کے ذریعے تہران کو تجارت کی آزادانہ روانی بحال کرنے پر مجبور کیا جائے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر یہ حکمت عملی ناکام ہوتی ہے، تو واشنگٹن یورپ اور خلیجی اتحادیوں پر زور دے گا کہ وہ اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے میں مرکزی کردار ادا کریں۔


صبح 7 بج کر 45 منٹ

اب وقت آ گیا ہے کہ امریکی افواج کو نکال دیا جائے: ایرانی وزیر خراجہ

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کو اپنا برادر ملک سمجھتے ہیں اور ان کا احترام کرتے ہیں۔

انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ’ہماری کارروائیاں ان دشمن قوتوں کے خلاف ہیں جو نہ عربوں کا احترام کرتی ہیں اور نہ ایرانیوں کا، اور نہ ہی کسی کو سکیورٹی فراہم کر سکتی ہیں۔‘

عباس عراقچی نے ایک تباہ امریکی طیارے کی تصویر شیئر کرتے ہوئےلکھا: ’آپ خود دیکھ لیں کہ ہم نے ان کے فضائی کمانڈ کے ساتھ کیا کیا۔

’اب وقت آ گیا ہے کہ امریکی افواج کو (خطے سے) نکال دیا جائے۔‘


صبح 7 بج کر 35 منٹ

ایرانی حملے کے بعد کویتی آئل ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی: کویتی میڈیا

کویتی پیٹرولیم کارپوریشن نے منگل کی صبح بتایا ہے کہ  کویت کا خام تیل لے جانے والے بڑی ٹینکر ’السالمی‘ کو متحدہ عرب امارات کے دبئی پورٹ کے علاقے ’المخطاف‘ میں ایرانی حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

کویت نیوز کے مطابق  واقعے کے وقت ٹینکر مکمل طور پر تیل سے بھرا ہوا تھا۔ حملے کے نتیجے میں جہاز کے ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور اس میں آگ بھڑک اٹھی، جبکہ اردگرد کے پانی میں تیل کے رساؤ کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

سرکاری نیوز کے مطبق ادارے نے تصدیق کی ہے کہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، اور نقصانات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب دبئی میڈیا آفس نے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ کویتی آئل ٹینکر میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔

دبئی حکام نے تصدیق کی ہے کہ امدادی ٹیموں نے کویتی آئل ٹینکر میں لگنے والی آگ کو کامیابی سے بجھا دیا ہے۔

دبئی میڈیا آفس کے مطابق متعلقہ ٹیمیں صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہی ہیں اور ضروری اقدامات کر رہی ہیں، جبکہ مزید معلومات دستیاب ہونے پر شیئر کی جائیں گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا