خلیج، ایران اور پاکستان: مشترکہ خوشحالی کا خواب

ایران امریکہ اسرائیل جنگ کے منظر نامے میں پاکستان کا کردار ایک بفر سٹیٹ کے بجائے ایک پل کا ہے جو خلیج، ایران اور وسطی ایشیا کو جوڑ سکتا ہے۔

پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ایران صدر مسعود پزشکیان 26 مئی 2025 کو تہران میں (اے ایف پی)

30 مارچ کا ریاض اعلامیہ اب ایک ایسی بنیاد فراہم کرتا ہے جس پر علاقائی استحکام کا ایک زیادہ پائیدار ڈھانچہ تعمیر کیا جانا چاہیے۔ سفارت کاری دروازے کھول سکتی ہے، لیکن معاشی انضمام راستے کھلے رکھتا ہے۔

اس سربراہی اجلاس کے ثمرات کو مستحکم کرنے کا سب سے پائیدار طریقہ یہ ہے کہ ایران کو ایک علاقائی تنہا ملک کے بجائے جی سی سی کی قیادت میں بننے والے معاشی راہداری کے ایک حقیقی سٹیک ہولڈر میں تبدیل کر دیا جائے۔ یہ تہران کو کوئی رعایت دینا نہیں ہے، بلکہ یہ اس سٹریٹجک حقیقت کا اعتراف ہے کہ مشترکہ خوشحالی ایسا باہمی انحصار پیدا کرتی ہے جو تنازع کو ناقابلِ تصور بنا دیتا ہے۔

ایران کے لیے مراعات واضح ہیں۔ برسوں کی مفلوج کر دینے والی تنہائی کے بعد اسے سرمائے، ٹیکنالوجی اور مارکیٹ تک رسائی کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے توانائی کے ڈھانچے کو ایسی جدید کاری کی ضرورت ہے جس کے لیے اس کے مقامی وسائل کافی نہیں ہیں۔ جی سی سی کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر سے جڑ کر تہران دیوالیہ پن سے پائیدار ترقی کی طرف جانے کا راستہ حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن ایسی راہداری جو صرف ایران اور خلیج کو جوڑتی ہو، حقیقی تبدیلی حاصل کرنے کے لیے جغرافیائی وسعت اور معاشی وزن سے محروم رہے گی۔

یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان بھی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور خلیجِ عرب کے سنگم پر اس کا وقوع، اور لاجسٹک ہب کے طور پر اس کا ابھرتا ہوا کردار، اسے اس علاقائی ڈھانچے کا ایک ناگزیر حصہ بناتا ہے۔ خطے کے لیے ’خوشحالی پہلے‘ کا وژن تین ممکنہ سرمایہ کاری کے فریم ورک کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مشترکہ اثاثوں میں سرمایہ کاری کا ماڈل یہ تجویز کرتا ہے کہ قومی سرحدوں پر پھیلے ہوئے توانائی کے وسائل پر مقابلہ کرنے کے بجائے، ممالک کو خود مختار دولت فنڈز (sovereign wealth funds) کے تعاون سے مشترکہ منصوبے بنانے چاہییں۔ ایران کے لیے یہ ایک معاشی لائف لائن ہے۔ خلیجی فنڈز کے پاس وہ سرمایہ موجود ہے جس کی ایران کو سخت ضرورت ہے۔ یہ ماڈل اس وقت مزید اہم ہو جاتا ہے جب پاکستان اس مساوات میں داخل ہوتا ہے۔ اسلام آباد پہلے ہی ریفائنری کے شعبے میں سعودی عرب کی دلچسپی حاصل کر چکا ہے۔ ایسی سہولت، جو ممکنہ طور پر ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کے قریب واقع ہو، سہ فریقی تعاون کے لیے ایک قدرتی مرکز بن سکتی ہے۔

دوسرا فریم ورک تجارتی انفراسٹرکچر پر توجہ مرکوز کرتا ہے، جس کا مقصد بکھرے ہوئے سسٹمز کو مشترکہ قوانین سے بدلنا ہے جو ایرانی تجارت کو ان اعلیٰ کارکردگی والے نیٹ ورکس میں لائیں جو پہلے ہی خلیج کی خدمت کر رہے ہیں۔ ایران کے لیے اس کا مطلب مہنگی غیر رسمی تجارت سے نکل کر باقاعدہ اور قابلِ بھروسہ مارکیٹوں کی طرف بڑھنا ہے۔ پاکستان ایک پرکشش پیشکش کرتا ہے: دنیا کی پانچویں بڑی مارکیٹ کا گیٹ وے اور وسطی ایشیا و چین تک زمینی راستے۔ مشترکہ ڈیجیٹل قوانین کے تحت پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے سامان کی نقل و حمل سے ایران کو نہ صرف موثر جہاز رانی بلکہ پاکستان کی مقامی مارکیٹ اور اس سے آگے کے تجارتی نیٹ ورکس تک براہِ راست رسائی حاصل ہو گی۔ جو کبھی مقابلہ تھا وہ اب ایسی شراکت داری بن جاتا ہے جو ہر ایک کے لیے نئی مارکیٹیں کھولتی ہے۔

تیسرا فریم ورک ایک مشترکہ ماحول دوست بجلی کے نیٹ ورک کا تصور پیش کرتا ہے، جو سعودی وژن 2030 کے مطابق خلیج، ایران اور پاکستان کو جوڑ سکتا ہے۔ ایران اپنے پڑوسیوں کو صاف توانائی فروخت کر کے مستقل آمدنی حاصل کر سکتا ہے۔ خلیجی سرمایہ کار قابلِ بھروسہ اور طویل مدتی انفراسٹرکچر کے اثاثوں میں حصہ حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان اس توانائی کے لیے ایک بڑی مارکیٹ اور اپنی ہائیڈرو پاور و شمسی توانائی کی پیداوار فراہم کرتا ہے، جو طلب میں اتار چڑھاؤ کے وقت گرڈ کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ یہاں غذائی تحفظ کا پہلو اس سودے کو تجارتی طور پر پرکشش بناتا ہے: سرحد پار قابلِ بھروسہ بجلی پاکستان کو موجودہ سپلائی معاہدوں کے تحت خلیجی منڈیوں کی غذائی ضروریات کو پروسیس اور فراہم کرنے کی اجازت دیتی ہے، جس میں توانائی کی ادائیگیاں ان زرعی معاہدوں سے منسلک ہوتی ہیں۔

سرمایہ کاری کے یہ فریم ورک اس حقیقت کا عملی اعتراف ہیں کہ جب معیشتیں ایک دوسرے سے جڑ جاتی ہیں، تو امن ہی واحد سمجھدار آپشن بن جاتا ہے۔ جب آپ کی ریفائنری آپ کے پڑوسی کے تیل پر منحصر ہو، جب آپ کی بندرگاہیں مشترکہ کسٹم قوانین پر عمل کریں، جب آپ کا بجلی کا گرڈ سرحدوں کے پار جڑا ہو، تو تنازع ایک سیاسی انتخاب نہیں رہتا بلکہ ایک معاشی تباہی بن جاتا ہے۔

ایران کے لیے اس کا مطلب تنہائی سے نکل کر شفاف تجارت اور مستحکم توانائی کی منڈیوں کے نیٹ ورک میں قدم رکھنا ہے۔ پاکستان کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ اب اسے پڑوسیوں کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور نہیں ہونا پڑے گا؛ بلکہ اس کا معاشی مستقبل خلیج، ایران اور وسیع تر خطے کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائے گا۔ سعودی عرب اور جی سی سی کے لیے اس کا مطلب ایک محفوظ اور مستحکم پڑوس ہے جہاں سکیورٹی کو صرف فوجی انتظامات سے نہیں بلکہ مشترکہ خوشحالی سے تقویت ملتی ہے۔

ریاض سربراہی اجلاس نے دروازہ کھول دیا ہے۔ مزید آگے بڑھنے اور ایران کے ساتھ معاشی باہمی انحصار پیدا کرنے کا موقع اس سے پہلے کبھی اتنا پرکشش نہیں رہا۔ دہائیوں سے یہ خطہ اس سوچ کے تحت رہا ہے جہاں ایک قوم کا فائدہ دوسری کا نقصان سمجھا جاتا تھا۔ ’خوشحالی پہلے‘ کا فریم ورک اس پرانی منطق کو چیلنج کرتا ہے۔ یہ ایک نیا ڈھانچہ پیش کرتا ہے جہاں پاکستان، اپنے جغرافیہ اور خلیج و اپنے مغربی پڑوسی دونوں کے ساتھ گہرے تعلقات کی بنا پر، ایک بفر کے طور پر نہیں بلکہ ایک پل کے طور پر کام کر سکتا ہے۔ ہم جس چیز کی بات کر رہے ہیں وہ کوئی دور کا آئیڈیل نہیں ہے۔ انفراسٹرکچر تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ سرمایہ کاری کے وعدے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اب صرف اس سیاسی عزم کی ضرورت ہے کہ یہ تسلیم کیا جائے کہ مشترکہ خوشحالی کسی کو رعایت دینا نہیں بلکہ ہر ایک کے مستقبل میں اسٹریٹجک سرمایہ کاری ہے۔ دروازہ کھلا ہے۔ خطے کی قیادت کو اس میں سے ایک ساتھ گزرنا ہو گا۔

ڈاکٹر وقار احمد ماہرِ معاشیات اور سابق سینیئر سرکاری افسر ہیں۔ وہ میکرو اکنامک سٹریٹجی، سرمایہ کاری کی پالیسی اور پبلک فنانس کے ماہر ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر