مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث پیدا ہونے والی توانائی کی قلت کا سامنا کرنے والے ملک سری لنکا نے پیر کو اعلان کیا کہ وہ بدھ سے بجلی کی قیمتوں میں تقریباً 40 فیصد اضافہ کر رہا ہے۔
سری لنکا کی پبلک یوٹیلیٹیز کمیشن نے کہا کہ عالمی توانائی قیمتوں کے مطابق اپریل میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
پی یو سی ایس ایل کے چیئرمین کے پی ایل چندرلال نے کولمبو میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا: ’آج جن اضافوں کا ہم اعلان کر رہے ہیں، وہ ان قیمتوں کی بنیاد پر حساب کیے گئے ہیں جو مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے پہلے رائج تھیں۔‘
زیادہ تر متوسط طبقے کے صارفین کے لیے فی کلو واٹ گھنٹہ بجلی کی قیمت 61 سے بڑھ کر 84 روپے (0.28 ڈالر) ہو جائے گی، جو کہ 39.34 فیصد اضافہ ہے، جبکہ کم ترین صارفین — جو ماہانہ 30 کلو واٹ گھنٹے سے کم استعمال کرتے ہیں — ان کے بلوں میں 11.11 فیصد اضافہ ہوگا۔
سری لنکا اس ماہ ایندھن کی قیمتیں تین مرتبہ بڑھا چکا ہے، جن میں مجموعی طور پر ایک تہائی سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، اور توانائی بچانے کے لیے چار روزہ ورکنگ ہفتہ بھی متعارف کروایا گیا ہے۔
حکومت نے نجی شعبے سے بھی کہا ہے کہ جہاں ممکن ہو گھر سے کام کرنے کے انتظامات دوبارہ شروع کیے جائیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آبنائے ہرمز، جو ایک اہم آبی گزرگاہ ہے اور جس کے ذریعے امن کے زمانے میں دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل اور گیس کی برآمدات گزرتی ہیں، ایران کی جانب سے مؤثر طور پر بند کر دی گئی ہے۔ یہ اقدام گذشتہ ماہ کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد بڑھنے والے علاقائی تنازع کے نتیجے میں کیا گیا۔
سری لنکا اپنی تمام تیل کی ضروریات درآمد کرتا ہے اور بجلی کی پیداوار کے لیے کوئلہ بھی خریدتا ہے۔
یہ ملک ریفائن شدہ پیٹرولیم مصنوعات بھارت، سنگاپور، ملیشیا اور جنوبی کوریا سے حاصل کرتا ہے، جبکہ اس کی ایران میں تعمیر شدہ ریفائنری کے لیے خام تیل مشرقِ وسطیٰ سے حاصل کیا جاتا ہے۔
حکومت نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری لڑائی اور کسی بھی طویل جنگ سے 2022 کے معاشی بحران سے نکلنے کی اس کی کوششیں شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔
سری لنکا نے 2022 میں اپنے 46 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضوں پر ڈیفالٹ کر دیا تھا جب ملک کے پاس زرمبادلہ ختم ہو گیا تھا۔ اس کے بعد کولمبو نے آئی ایم ایف سے 2.9 ارب ڈالر کا بیل آؤٹ پیکج حاصل کیا ہے۔