تخت پڑی میں کس کا تخت تھا ؟

ڈی ایچ اے اور بحریہ ٹاؤن راولپنڈی کے درمیان ایک تاریخی قصبہ ’تخت پڑی‘ اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔

تخت پڑی کی ندی کے ساتھ قلعے کی ایک دیوار کا کچھ حصہ ابھی باقی ہے، شہر کبھی اس کی فصیلوں کے اندر آباد تھا(تصویر سجاد اظہر)

ڈی ایچ اے اور بحریہ ٹاؤن راولپنڈی کے درمیان ایک تاریخی قصبہ ’تخت پڑی‘ اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔

 یہاں کبھی بہتے چشمے، لہلہاتے کھیت اور گھنے جنگل ہوا کرتے تھے اب اس کے ارد گرد نئی اور جدید آبادیاں ہیں جن کے رہنے والے یہ نہیں جانتے کہ یہاں تاریخ کے کتنے ہی باب دفن ہیں۔

تخت پڑی کچھ عرصے اکبر آباد کے نام سے بھی موجود رہا۔ یہ نام اسے شہنشاہ اکبر کی وجہ سے نہیں دیا گیا بلکہ گکھڑ سلطان مراد قلی خان نے اپنے باپ سلطان اکبر قلی خان کے نام پر تخت پڑی کا نام اکبر آباد رکھا تھا۔

شہنشاہ اکبر کے دور میں یہ پرگنہ تھا یعنی ایک ایسا انتظامی یونٹ جہاں سے ارد گرد کے علاقوں کو کنٹرول بھی کیا جاتا تھا اور ان سے ٹیکس بھی وصول کیا جاتا تھا۔

پرگنہ بعض صورتوں میں ضلع کا درجہ بھی رکھتا تھا اور بعض میں تحصیل کا، راولپنڈی کے گزیٹیئر 1910 میں لکھا ہوا ہے کہ ضلع راولپنڈی کے سات پرگنے تھے۔

 جن میں اکبرآباد یعنی ترکھری جس میں راولپنڈی کے کچھ حصے فتح جنگ اور گوجرخان شامل تھے اس کا مالیہ سب پرگنوں سے زیادہ تھا۔ حیرت کی بات ہے کہ گزیٹیئر میں تخت پڑی کو ترکھری لکھا گیا ہے۔

پوٹھوہار پر بنیادی حوالے کی پہلی کتاب ’کائی گوہر نامہ‘ ہے جو رائے زادہ دونی چند نے 1724 میں لکھی تھی۔

دوسری کتاب ’ وجۂ تسمیہ دیہاتِ پوٹھوہار ‘ ہے جس کا مصنف ان کا بیٹا رائے زادہ برج ناتھ تھا جس نے یہ کام 1762 میں مکمل کیا اس میں پرگنۂ پھروالہ اور پرگنۂ دانگلی کے دیہات تو شامل ہیں مگر تخت پڑی کے نہیں ہیں۔

یہ ادھورا کام پھر ان کے بیٹے رائے زادہ بودھا مل نے الگ کتاب ’تاریخِ ترکھری‘ لکھ کر مکمل کیا مگر یہ نسخہ ہنوز تاریخ کے صفحات سے کہیں کھویا ہوا ہے۔

شیوا کے بیٹے اور سائرسِ اعظم سے جڑی تخت پڑی کی اساطیر:

تخت پڑی کی وجۂ تسمیہ کیا ہے اور کیا یہاں کسی بادشاہ کا تخت بھی ہوا کرتا تھا؟ تخت پڑی کے پہلے دورے میں تو اس سوال کا جواب نہیں مل سکا۔

میں نے سنسکرت کی ڈکشنری کھلول لی تاکہ اس نام سے ملتے جلتے ناموں کے معانی دیکھ سکوں۔ اس علاقے کے اکثر قدیم دیہات کے نام سنسکرت زبان کے ہیں جو بنتے بگڑتےاس نہج کو پہنچ چکے ہیں کہ ان کے قریب کا کوئی لفظ سنسکرت میں مستعمل نہیں ہے۔

کہا جاتا ہے کہ تخت پڑی اصل میں سنسکرت کے لفظ ’ترکھری‘ سے ہے جو سنسکرت کے دو لفظوں ’ترکھا‘‘ اور ’اری‘ سے مل کر بنا ہے۔

جس کا مطلب شیطان کے ہیں جسے ہندوؤں کے دیوتا شیو کے بیٹے کرٹیکا نے شکست دی تھی۔

اس لیے ہندو اساطیر کے مطابق ترکھری سے بنتے بگڑتے یہ لفظ تخت پڑی ہو گیا۔ شاید یہی وہ جگہ تھی جہاں شیوا کے بیٹے کرٹیکا نے شیطان کو شکستِ فاش دے کر دنیا میں خیر کا جھنڈا گاڑا تھا۔

تخت پڑی سے وابستہ اساطیر کی تلاش ہمیں کلر سیداں کے گاؤں’ارضِ خاص‘ لے گئی جہاں ایک مقامی مؤرخ قاضی عبد الرحمٰن فاروقی اپنے تحقیقی کام میں منہمک ہیں۔

قاضی صاحب کے آباؤاجداد گکھڑوں کے دور میں پرگنہ تخت پڑی کے’قاضی القضاہ‘ کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ ان کے پڑنانا بھی تخت پڑی کے رہنے والے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ’سائرس دی گریٹ‘ جسے قرآن نے ذوالقرنین کے لقب سے یاد کیا ہے اس کے عہد میں جو 560 ق م سے 530 ق م تک پھیلا ہوا ہے، پوٹھوہار ذوالقرنین کی سلطنت کا حصہ تھا۔

ذوالقرنین نے اپنی ایک فوجی مہم کے دوران تخت پڑی کے قلعے میں اپنی مستورات کو ٹھہرایا۔

چونکہ ہندوستانیوں کی نسبت وہ گوری چٹی، دراز قد اور خوبصورت تھیں اس لیے جب وہ تخت پر جلوہ افروز ہوتیں تو مقامی لوگ انہیں حیرت سے دیکھتے، پریوں سے تشبیہ دیتے اور ان پر بری نظر ڈالتے۔

یہ بات جب بادشاہ تک پہنچی تو وہ غیض و غضب کا شکار ہوا۔ قبل اس کے وہ پورے شہر کو ملیا میٹ کر دیتا یہاں کے مقامی جوگیوں نے کچھ لوگوں کی آنکھیں نکال کر طشتری میں رکھ کر بادشاہ کو پیش کیں کہ یہی گناہ گار آنکھیں تھیں جو آپ کی ملکاؤں پر بری نظر رکھتی تھیں۔

بادشاہ نے شہر کی جان بخشی کر دی اس نسبت سے یہ تخت پری کے نام سے مشہور ہو گیا۔

جب سکندرِ اعظم نے یہاں پانچ روز جشن منایا

تخت پڑی کو چینی سیاح ہیون تساہنگ نے ٹسو کیوٹاتا سولائی اور یونانیوں نے کیسی ٹیرس سے موسوم کیا ہے۔

 راجہ عارف منہاس نے اپنی کتاب ’تاریخ ِ راولپنڈی‘ میں سکندر مقدونی کے وقائع نگاروں کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ ٹیکسلا کی ریاست میں تخت پڑی کے مقام پر ایک مضبوط قلعہ واقع ہے اور تمام لوگ اس قلعے کے اندر آباد ہیں۔

یہ لوگ روئی کے کپڑے پہنتے ہیں اور پختہ گھروں میں رہتے ہیں دوسرے یونانی مؤرخ Quintus Curtius Rufus نے لکھا ہے کہ سکندر نے ٹیکسلا سے سولہ میل دور مشرق کی طرف ایک شہر کیپرس میں پانچ روز جشن کیا جس میں اس کے گردو نواح کی ریاستوں کے حاکموں کو خلعتیں عطا کیں اور انعامات سے نوازا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ وہ شہر تخت پڑی ہی تھا جس کا یونانی نام کیپرس ہے۔ یونانی سیاح مینگاس تھنیز اپنی کتاب انڈیکا میں لکھتا ہے کہ چندر گپت موریہ جس کی سرحدیں خلیج بنگال سے بحیرہ عرب تک پھیلی ہوئی تھیں۔

 اس کا گرمائی دارالحکومت ٹیکسلا تھا اور اس کا مشیر وشنو ناتھ عرف کوٹلیہ چانکیہ کیپرس (تخت پڑی ) کا رہنے والا تھا۔ ٹیکسلا، کیپرس اور مانکیالوس کے محلات و معابد ایرانی شہروں سوس اور ہمدان کے محلات و معابد سے زیادہ خوبصورت ہیں۔

تخت پڑی کے نزدیک صرف چار کلومیٹر پر منکیالہ کا تاریخی سٹوپا واقع ہے جسے یونانیوں نے مانکیالوس لکھا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ تخت پڑی اور منکیالہ کبھی ایک ہی شہر تھے جو بدھ مت کے عہد میں اپنے عروج پر تھے۔ انہی کے بیچوں بیچ تاریخی جی ٹی روڈ گزرتی تھی۔ اس لیے وسط ِ اشیا سے ہندوستان جانے والے سارے قافلے یہیں سے گزرتے تھے۔ گندھارا کی تہذیب کے نقوش

جب مٹنے شروع ہوئے تو تخت پڑی بھی ویران ہو گیا۔ پھر گکھڑوں کے دور میں تخت پڑی کا درجہ ایک پرگنے کے طور پر رہا۔

عزیز ملک کی کتاب ’پوٹھوہار ‘ مطبوعہ 1978ء میں وہ لکھتے ہیں کہ 1563 میں جب دو گکھڑ سلطانوں کے درمیان خانہ جنگی کو رکوانے کے لیے خود اکبر کو روہتاس آنا پڑا جہاں اس نے گکھڑوں کے تین سرداروں کو الگ الگ پرگنوں پر حاکم مقرر کیا۔

کمال خان کے بیٹے مبارز خان کو پھروالہ کا پرگنہ دیا جس میں 333 دیہات تھے۔ سارنگ خان کے بیٹے سید خان کو سید پور کا پرگنہ دیا جس میں راولپنڈی بھی تھا۔ آدم خان کے بیٹے گنگا کو تخت پڑی کا علاقہ دیا گیا جس میں 242 گاؤں تھے۔

کرتار سنگھ دگل اور پربودھ چندرا کی روایتیں

تخت پڑی کی پریوں کا ذکر ہمیں کرتار سنگھ دُگل کی خود نوشتWhom to tell my tale میں بھی ملتا ہے۔ مصنف دھمیال راولپنڈی کے رہنے والے تھےجو بعد میں آل انڈیا ریڈیو کے سربراہ بھی بنے۔

اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ’جب وہ سکول میں پڑھتے تھے تو ان کی منگنی تخت پڑی کے چوہدریوں کے خاندان میں کر دی گئی جن کا تخت پڑی میں کپڑے کا کاروبار بھی تھا۔ کرتار سنگھ دگل کی بہن کی شادی بھی تخت پڑی میں ہی ہوئی تھی۔‘

 وہ لکھتے ہیں کہ جب وہ گرمیوں کی چھٹیوں میں بہن کے ساتھ تخت پڑی گئے تو انہیں اپنی منگیتر کو دیکھنے کا بہت اشتیاق تھا۔ جس دن ہم تخت پڑی پہنچے میری بڑی سالی مجھے ملنے آئی۔

اوپر تک بالائی سے بھرا دودھ کا گلاس مجھے پلا کر اس نے میری ہتھیلی پر چاندی کا روپیہ رکھ دیا۔

دوسری کتاب پربودھ چندرا کی Rape of Rawalpindi ہے جس میں تقسیم کے وقت ہونے والے فسادات کی ہولناک تصویریں ہیں۔

 اس میں تخت پڑی کے بازار کی بھی تصویریں ہیں جسے لوٹ کر اسے آگ لگا دی گئی تھی۔ میں یہ تصویریں دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ یہاں کہیں ہی کرتار سنگھ دگل کے بچپن کی منگیتر کے باپ کی دکان ہو گی جو اپنے گاؤں کا چودھری تھا یہیں کہیں ان کا ہنستا بستا گھر بھی ہو گا۔

اس کی پریوں جیسی بیٹیوں کا ان فسادات میں کیا ہوا ہو گا؟

تخت پڑی کی باقیات بھی آخری دموں پر ہیں:

میں تخت پڑی بازار سے گزر رہا تھا تو تقسیم کے وقت جلائے گئے مکانات کی باقیات آج بھی ایسے سوالات اٹھا رہی ہیں جن کے جوابات ہم دینا نہیں چاہتے۔

یہیں تخت پڑی میں سینکڑوں سال پرانے قلعے کی دیوار کا ایک حصہ شاید اسی لیے بچا ہوا کھڑا ہے کہ کوئی آئے اور کریدے کہ اپنے وقت کی عظیم تہذہیبوں کے امین اس شہر کے ساتھ کیا ہوا تھا؟

 یہیں ایک ندی اور وہ چشمہ ہے جو ہزاروں سال پہلے انسانوں کو اپنے دامن میں کھینچ لایا تھا۔ جب میں یہاں ماضی کی کھوج کرید میں تھا تو میرے ہمراہ اعجاز محمود بھی تھے جو اب اسلام آباد میں رہتے ہیں مگر ان کا بچپن تخت پڑی کی انہی پگڈنڈیوں پر کھیلتے کودتے گزرا ہے۔

دراصل تخت پڑی سے اعجاز محمود کی محبت ہی تھی جو مجھے یہاں کھینچ لائی تھی۔ وہ مجھے بتانے لگے کہآج سے چالیس سال پہلے تک یہاں اس ندی کے دائیں بائیں گفیں (غاریں ) تھیں جن کے اندر کمرے بنے ہوئے تھے جن میں ہندوؤں کی دیوی دیوتاؤں کی تصویریں اور اکا دُکا مورتیاں بھی موجود تھیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیچے ندی کنارے ان کے شمشان گھاٹ تھے۔ ندی کے ارد گرد ٹیلوں کے اندر پرانی ٹھیکریوں کی تہیں آج بھی نظر آتی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں کوئی قدیم تہذیب دفن ہے۔

 ساتھ ہی ایک قدیم قبرستان ہے جہاں بڑی اورچوڑی قبریں بھی زمین کے برابر ہوئی پڑی ہیں۔ ندی سے فاصلے پر ایک قدیم باولی بھی تھی اور کچھ مندر یا پرانے گنبد بھی۔

مگر پھر یہاں وہ مشینیں آ گئیں جنہوں نے پلاٹ بنانے تھے انہوں نے سب کچھ تہس نہس کر دیا جو بچا ہوا ہے اسے بھی آج آخری نظر سے دیکھ لیں کہ پھر یہ بھی دیکھنے کو نہیں ملے گا۔‘

میں اور اعجازمحمود واپس لوٹ جاتے ہیں۔

سینکڑوں اور ہزاروں سال پہلے یہ شہر فصیلوں کے اندر تھا مگر اب اس کے ارد گرد دو بڑے ہاؤسنگ منصوبوں کی فصیلیں کھڑی ہیں جو بڑھتی چلی آ رہی ہیں۔

تخت رہا نہیں پڑیوں سے ابلنے والے چشموں پر بھی کسی روز بلڈوزر چل جائے گا اور یوں سائرسِ اعظم اور سکندرِ اعظم کے نقوش بھی مٹ جائیں گے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ