شمالی امریکہ میں فیفا ورلڈ کپ شروع ہونے میں محض چند ہفتے باقی ہیں، لیکن انڈیا اور چین، جن کی مجموعی آبادی 2.8 ارب ہے، کے نشریاتی ادارے تاحال اسے دکھانے کے حقوق حاصل نہیں کر پائے ہیں، جس سے دنیا کا سب سے بڑا کھیلوں کا ایونٹ ان دو سب سے زیادہ آبادی والے ممالک میں نشر نہ ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
48 ٹیموں پر مشتمل یہ ٹورنامنٹ 11 جون کو شروع ہو گا جس کے کل 104 میچوں میں سے پہلے میچ میں میکسیکو اور جنوبی افریقہ کی ٹیمیں میکسیکو سٹی کے ایسٹیڈیو ازٹیکا میں مدمقابل ہوں گی۔
عالمی فٹ بال کے منتظم ادارے فیفا کا کہنا ہے کہ اس کے 175 سے زائد خطوں میں نشریاتی معاہدے ہیں لیکن چین اور انڈیا ان میں شامل نہیں اور نہ ہی پاکستان، بنگلہ دیش، تھائی لینڈ یا میانمار اس میں شامل ہیں۔
انڈیا میں، ریلائنس اور ڈزنی کے اشتراک سے بننے والی کمپنی نے ٹورنامنٹ کے ٹی وی حقوق کے لیے دو کروڑ ڈالر کی پیشکش کی لیکن، روئٹرز کے مطابق، فیفا نے اپنی طلب کردہ قیمت کو کم کرنے سے پہلے ابتدائی طور پر 10 کروڑ ڈالر کا مطالبہ کیا۔
سونی نے دلچسپی ظاہر کی لیکن کوئی باقاعدہ تجویز پیش نہیں کی۔
چین میں، سرکاری براڈکاسٹر سی سی ٹی وی، جس نے 2018 اور 2022 کے ٹورنامنٹس دکھائے تھے، تاحال کوئی معاہدہ نہیں کر پایا ہے۔ اخبار بیجنگ ڈیلی نے رپورٹ کیا کہ فیفا نے قیمت کو آدھا کرنے سے قبل ابتدائی طور پر چینی حقوق کے لیے تقریباً 30 کروڑ ڈالر کا مطالبہ کیا تھا، لیکن کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔
2022 کے ورلڈ کپ کی عالمی لینیئر ٹی وی رسائی میں چین کا حصہ 17.7 فیصد رہا، جس کے ناظرین کی تعداد 51 کروڑ تھی، جب کہ انڈیا کا حصہ 2.9 فیصد رہا جس کے ناظرین کی تعداد 8.4 کروڑ تھی۔ دونوں نے مل کر ڈیجیٹل اور سوشل پلیٹ فارمز پر دیکھے جانے والے قطر ورلڈ کپ کے کل گھنٹوں کا تقریباً نصف حصہ بنایا۔
اگرچہ اس ٹورنامنٹ میں چین یا انڈیا میں سے کسی کی بھی ٹیم شامل نہیں ہے، لیکن دونوں ممالک میں فٹ بال کے شائقین کی ایک بڑی اور دلچسپی لینے والی تعداد موجود ہے۔ چین نے اس ایڈیشن کے لیے کوالیفائی نہیں کیا ہے اور انڈیا نے کبھی ورلڈ کپ نہیں کھیلا ہے۔
فیفا کے مطالبے اور براڈکاسٹرز کی جانب سے رقم ادا کرنے کی رضامندی کے درمیان فرق کی کئی وجوہات ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شمالی امریکہ میں زیادہ تر میچ چین اور انڈیا میں آدھی رات کو شروع ہوں گے، جس سے ان کی تجارتی قدر میں نمایاں کمی آئے گی۔ انڈیا میں، ہر بڑا براڈکاسٹر اگلی انڈین پریمیئر لیگ اور ویمنز ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈ کپ ٹورنامنٹس دکھانے کے حقوق کی بولی لگانے کے لیے پیسے بچا رہا ہے، کیوں کہ یہ دونوں ان پلیٹ فارمز کے لیے تجارتی لحاظ سے زیادہ پرکشش ہیں۔
اگر کوئی معاہدہ طے نہیں پاتا ہے تو ورلڈ کپ کے بہت سے چینی سپانسرز کو مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ڈیری برانڈ مینگنیو اور ٹی وی بنانے والی کمپنی ہائی سینس مبینہ طور پر مل کر اس ایونٹ میں 50 کروڑ ڈالر لگا رہے ہیں۔ ان کے ملک میں نشریاتی معاہدے کی عدم موجودگی میں، اس ایونٹ سے متعلق ان کی تمام مارکیٹنگ مہمات کو نقصان پہنچے گا۔
ٹک ٹاک کے ساتھ فیفا کا معاہدہ صارفین کو سٹریم کیے گئے کلپس اور مختصر دورانیے کا مواد تلاش کرنے کا موقع فراہم کرے گا، لیکن یہ اس اشتہاری آمدنی کی جگہ نہیں لے سکے گا جو ایک روایتی نشریاتی معاہدے سے حاصل ہوتی ہے۔
فیفا نے اس مسئلے کی تفصیلات پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ’فیفا ورلڈ کپ 2026 کے میڈیا حقوق کی فروخت کے حوالے سے چین اور انڈیا میں بات چیت جاری ہے اور اس سٹیج پر اسے خفیہ رکھا جانا چاہیے۔‘
© The Independent