فٹ بال کی دنیا کے بے تاج بادشاہ اور ارجنٹائن کے لیجنڈری کھلاڑی ڈیاگو میراڈونا کی موت کے تقریباً چھ سال بعد، ان کی دیکھ بھال پر مامور طبی عملے کے خلاف نئے ٹرائل کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔
اس کیس نے ایک بار پھر عالمی توجہ حاصل کر لی ہے کیونکہ عدالت اب یہ طے کرے گی کہ آیا 2020 میں ہونے والی یہ موت محض ایک حادثہ تھی یا مجرمانہ غفلت کا نتیجہ۔
اس مقدمے میں سات ڈاکٹروں اور نرسوں کو نامزد کیا گیا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے میراڈونا کی دماغی سرجری کے بعد ان کی صحت کی دیکھ بھال میں شدید غفلت برتی۔
استغاثہ کا موقف ہے کہ طبی عملے نے میراڈونا کو ان کے حال پر چھوڑ دیا تھا، جس کی وجہ سے ان کی حالت بگڑی اور بالآخر وہ 60 سال کی عمر میں حرکتِ قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سماعت کے موقعے پر میراڈونا کی سابق اہلیہ اور خاندان کے دیگر افراد شدید غم و غصے کی حالت میں نظر آئے۔ سابق اہلیہ نے میڈیا سے مختصر بات کرتے ہوئے کہا: ’مجھے صرف انصاف چاہیے، خدا کے لیے انصاف۔ میں اس وقت بات کرنے کی حالت میں نہیں ہوں، لیکن جو کچھ میں نے سنا وہ سب سچ نکلا۔ میں بہت زیادہ اداس ہوں۔‘
کیس کے اہم وکیل ماریو باؤدری نے عدالتی کارروائی کے حوالے سے بتایا کہ یہ عمل جذباتی طور پر بہت تکلیف دہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزمان اب اپنی جان بچانے کے لیے ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ ’عدالت میں ڈاکٹروں نے نرسوں پر غفلت کا الزام لگایا، جبکہ نرسوں نے تمام تر ذمہ داری ڈاکٹروں کے احکامات پر ڈال دی۔‘
ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ پہلے ہی ایک رپورٹ میں یہ کہہ چکا ہے کہ میراڈونا کا علاج ’ناقص اور لاپرواہی‘ پر مبنی تھا۔ اگر جرم ثابت ہو گیا تو نامزد طبی عملے کو طویل قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
فٹ بال شائقین اور میراڈونا کا خاندان پرامید ہے کہ اس نئے ٹرائل سے وہ تمام حقائق سامنے آ جائیں گے جو اب تک پردہِ اخفا میں تھے۔