میراڈونا کا ’خدا کے ہاتھ‘ والا گول اتنا مشہور کیسے ہوا؟

36 سال پہلے ارجنٹینا کے مشہور و معروف فٹ بالر میراڈونا نے ایک گول کیا تھا جس کا آج تک ذکر ہوتا ہے۔

ارجنٹینا کے شہر بیونس آئرس میں دیوار پر میراڈونا کے فاتحانہ انداز کی تصویر کشی (اے ایف پی)

امریکی فٹ بال کے کھیل میں امر ہونے والا ایک لمحہ ’دی کیچ‘ ہے، بیس بال میں دی شاٹ ہرڈ ’راؤنڈ دی ورلڈ‘ ہے اور باسکٹ بال میں ’دی بلاک‘ ہے۔

فٹ بال کی دنیا میں یہ امر ہونے والا لمحہ ڈیاگو میراڈونا کا ’خدا کا ہاتھ ہے۔‘ یہ کھیل کے دوران کیمرے کی گرفت میں آجانے والا چھوٹا سا لمحہ ہے جس کا محض ذکر ہی شائقین کو بے انتہا جوش و جذبے سے بھر سکتا ہے۔

اس گول کو تقریباً 36 برس گزر چکے مگر آج بھی اس کی وارثت مختلف شکلوں میں جاری ہے۔ اس گول میں استعمال ہونے والی گیند 16 نومبر 2022 کو نیلامی کے لیے پیش کی گئی جس کی متوقع قیمت 33  لاکھ ڈالر تک تھی۔

1986 کے ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں انگلینڈ کے خلاف ارجنٹائن کے ڈیاگو میراڈونا نے اس بدنام زمانہ ’ہینڈ آف گاڈ‘ برابر کرنے والی گیند کو تاہم تقریباً 2.4 ملین ڈالر ( 2.31 ملین یورو) میں فروخت کیا گیا۔ گیند کے نئے مالک کی شناخت ابھی ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

36 سالہ ایڈیڈاس گیند گیم کے ریفری تیونس کے علی بن ناصر کی ملکیت تھی۔ انہوں نے نیلامی سے پہلے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ اسے عوام کے ساتھ شیئر کرنے کا صحیح وقت ہے۔ بن ناصر نے یہاں تک امید ظاہر کی کہ خریدار اسے عوامی نمائش پر رکھے گا۔

تو پھر ایک ایسا گول جسے دراصل گول ہی تسلیم نہیں کیا جانا چاہیے تھا وہ اتنی اہمیت کیوں رکھتا ہے؟ کھیل کا مطالعہ کرنے والے ایک ماہر معاشیات کے طور پر میرا  طویل عرصے سے ماننا ہے کہ کھیلوں کی مالی جہت کو سمجھنے کے لیے ثقافتی اہمیت کا ادراک ہونا بہت ضروری ہے۔ یہ گول متعدد وجوہات کی بنا پر فٹ بال کے سب سے مشہور واقعات میں سے ایک بنا۔

1. اس گول سے ایک تنازع جڑا ہے

زیر بحث گول ارجنٹینا کے عظیم کھلاڑی میراڈونا نے 1986 کے ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں انگلینڈ کے خلاف کیا تھا۔ یہ کھیل کا دوسرا ہاف تھا اور تب تک کوئی گول نہیں ہو سکا تھا۔ ارجنٹینا کی ٹیم انگلینڈ کے پینلٹی باکس کے کنارے سے گیند کو اپنے ساتھیوں کی طرف دھکیل رہی تھی۔

انگلینڈ کے مڈفیلڈر سٹیو ہوج نے گیند کو دور پھینکنے کی کوشش کی لیکن ان کی کک سے گیند گول کیپر کی طرف فضا میں بلند ہوئی۔  ایک عمومی صورت حال کے مطابق کسی گول کیپر کو یہ گیند تھام لینی چاہیے تھی خاص طور پر جب سامنے کوئی بہت لمبا تڑنگا فٹ بالر نہیں بلکہ پانچ فٹ پانچ انچ والے میراڈونا تھے۔ لیکن کسی نہ کسی طرح گیند نے جال کے پچھلے حصے میں جا کر دم لیا۔

پہلی نظر میں ایسے لگتا تھا کہ میراڈونا نے گیند کو سر کی ٹکر سے جال میں پھینکا ہے، لیکن ری پلے میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی بند مٹھی سے گیند کو گول کے لیے آگے دھکیلتے ہیں۔ یہ فٹ بال میں ویڈیو اسسٹنٹ ریفری یا VAR کے استعمال سے تین دہائیاں پہلے کی بات ہے۔ جائزہ لینے کا کوئی طریقہ تو تھا نہیں۔ ریفری کو واضح دکھائی نہ دیا اور اس نے رہنمائی کے لیے لائن مین کی طرف دیکھا لیکن لائن مین نے کچھ غلط نہیں دیکھا تھا سو اسے گول شمار کیا گیا۔

کھیل کے بعد بات کرتے ہوئے میراڈونا نے صحافیوں کو بتایا کہ گول ’تھوڑا سا میراڈونا کے سر نے کیا، تھوڑا سا خدا کے ہاتھ نے۔‘ یہ جملہ مشہور ہوا اور اس کے ساتھ ہی یہ گول دیومالائی شہرت اختیار کر گیا۔

2. اصل چیز تو میراڈونا کا دوسرا گول تھا

1986 کی ارجنٹینا کی ٹیم کوئی بہت قابل ذکر ٹیم نہیں تھی۔ بلکہ یہ ایک اوسط درجے کی ٹیم تھی جس میں اپنے وقت کے دنیا کے عظیم ترین کھلاڑی بھی شامل تھے، یہاں تک کہ بہت سے لوگوں کے بقول نہ صرف اپنے وقت کے بلکہ کسی بھی عہد کے بے مثال کھلاڑی شامل تھے۔

اگر میراڈونا کو اندر سے نکال دیا جائے تو انگلینڈ یقیناً بہتر ٹیم تھی۔ انگلینڈ کے دفاعی کھلاڑیوں نے یہی کرنے کی کوشش کی، ہر منصفانہ یا غیر منصفانہ طریقے سے اس کا راستہ روکنے کی جد و جہد کی۔ انگلینڈ کا منصوبہ یہ تھا کہ میدان میں موجود تقریباً ہر کھلاڑی کی ذمہ داری ہے کہ وہ میراڈونا کا پیچھا کرے اور اسے آگے بڑھنے سے روکنے کی پوری کوشش کرے۔ انہوں نے کوشش کی لیکن یہ ناممکن تھا۔

پہلے گول کے چار منٹ بعد میراڈونا نے گیند سنبھالی اور بجلی کی رفتار سے تین ڈیفینڈر اور انگلینڈ کے گول کیپر کو چکمہ دیتے ہوئے دوسرا گول کر دیا۔ 2002 کے فیفا پول میں اس گول کو ’(20ویں) صدی کا بہترین گول‘ قرار دیا گیا تھا۔

ارجنٹینا بعد میں فائنل جیت گیا اور آج بھی اس ورلڈ کپ کو ’میراڈونا ورلڈ کپ‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

3. یہ سیاسی جنگ کا کھیل کے میدان میں جواب تھا

اس میچ یا گول کے سیاسی سیاق و سباق کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ 1982 میں ارجنٹینا نے جزائر فاک لینڈ یا لاس مالویناس پر حملہ کیا، آپ ان میں سے جو نام استعمال کرتے ہیں وہ آپ کی وابستگی کا تعین کرتا ہے۔ جزائر فاک لینڈ یا لاس مالویناس ارجنٹینا کے ساحل سے تقریباً 300 میل دور ایک برطانوی سمندر پار علاقہ ہے۔

ان جزائر پر 1833 سے انگریزوں کا قبضہ چلا آ رہا تھا اور سابق وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر نے ان جزائر پر دوبارہ قبضہ مستحکم کرنے کے لیے بحر اوقیانوس کے پار آٹھ ہزار میل دور ایک فوجی ٹاسک فورس بھیج کر ’آئرن لیڈی‘ کے طور پر اپنی شبیہ کو بختہ کیا۔

انگلینڈ کا دعوی تھا کہ اس کا بنیادی محرک جزیروں کی خود ارادیت کا تحفظ یقینی بنانا تھا لیکن اصل میں اس کے پیچھے انٹارکٹکا کے  انتظامی امور سنبھالنے اور بیش قیمت ماہی گیری کے حقوق کے معاملات تھے۔

غیرجانبدار اقوام اور افراد کے اندر ارجنٹینا کے لیے کافی ہمدردی پائی جاتی تھی کیونکہ وہ اسے انگریزوں کے نوآبادیاتی سامراج کی ایک انتشار پسندانہ حرکت کے طور پر دیکھتے تھے۔

ارجنٹینا کے جرنیلوں کی تذلیل نے ممکنہ طور پر ارجنٹینا میں فوجی آمریت کے خاتمے اور جمہوریت کی بحالی کا عمل تیز تر کر دیا۔ لیکن دوسری طرف اس سے انگریزوں کے خلاف نفرت کے شدید جذبات پیدا ہوئے کیونکہ ارجنٹینا کے افراد اپنے دل میں یقین رکھتے ہیں کہ لاس مالویناس ان کا ہے برطانیہ کا نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ 1986 کے ورلڈ کپ میں دونوں کا سامنا ایک اور جہت بھی رکھتا تھا جیسا کہ میراڈونا نے بعد میں اپنی خود نوشت ’میں ڈیاگو ہوں‘ میں لکھا:

’کسی نہ کسی طرح ہم نے انگلش کھلاڑیوں کو ہر اس چیز کے لیے موردِ الزام ٹھہرایا جو ارجنٹینا کے لوگوں نے برداشت کی تھی۔۔۔ ہم اپنے جھنڈے، مرنے والوں اور زندہ بچ جانے والے بچوں کا دفاع کر رہے تھے۔‘

وہ لکھتے ہیں کہ ’یہ ایسے تھا جیسے ہم نے فٹ بال کی کسی ٹیم کو نہیں بلکہ ایک ملک کو شکست دی ہو۔ اگرچہ ہم نے میچ سے پہلے کہا تھا کہ فٹ بال کا جزائر فاک لینڈ کی لڑائی سے کوئی تعلق نہیں لیکن ہم جانتے تھے کہ انہوں نے وہاں ارجنٹینا کے بہت سے نوجوانوں کو مارا، ایسے مارا جیسے معصوم پرندوں کو مارا جاتا ہے، یہ ہماری طرف سے انتقام تھا۔‘

کھیل کے بعد مجموعی فضا سے مختلف ایک لمحہ وہ تھا جب مڈفیلڈر سٹیو ہوج نے میراڈونا سے اپنی شرٹ کا تبادلہ کیا۔ بعد میں انہوں نے میراڈونا کی یہ شرٹ 71 لاکھ  پاؤنڈ میں نیلام کی۔

4. ’خدا کا ہاتھ‘ دراصل میراڈونا کی عظمت کا بیان ہے

بہت کم کھلاڑیوں نے میراڈونا کی طرح ورلڈ کپ میں اپنی موجودگی کے انمٹ نقوش چھوڑے۔ انگلینڈ کے کھیل میں اس کی کارکردگی آج بھی اس کی عظمت کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔

  یہ جملہ کہ وہ ’خدا کا ہاتھ‘ تھا دراصل ان کی غیر معمولی قابلیت کو بہت خوبصورتی سے بیان کرتا ہے کہ واقعی وہ دیوتا تھے۔ یہ گول کوئی واحد موقع نہیں بلکہ پورا ٹورنامنٹ ان کی جارحانہ مہارت کا ایک شو گراؤنڈ بن گیا تھا اور انہوں نے آخر میں ٹرافی نہایت شایان شان طریقے سے اٹھائی۔

 میراڈونا 2020 میں 60 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کی زندگی پریشانیوں سے گھرے ہوئے کسی غیر معمولی انسان کی زندگی تھی۔ بیونس آئرس کی کچی آبادی میں پیدا ہونے والا ایک بچہ جس کا کبھی بھی خود پر اعتماد متزلزل نہ ہوا۔ وہ منشیات کی لت میں پڑ گئے تھے جو ممکنہ طور پر ان تمام درد کش ادویات کے نتیجے میں ہوا جن کے بغیر اس عہد کے کھیل میں گزارہ نہ تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دراصل تب تک فٹ بال کے قوانین ایسے سخت نہ تھے اور ٹیم کے ڈیفینڈرز کھیل کے دوران مخالف کھلاڑی کی ہڈیاں توڑنے کو بے چین ہوتے تھے۔ اس وجہ سے وہ منشیات کے عادی ہو گئے جس میں کوکین بھی شامل تھی۔

منشیات کی وجہ سے ان کے کھیل اور صحت دونوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ انہیں 1991 اور 1994 میں پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔  دوسری طرف عمر کے آخری حصے میں بیماریوں اور موٹاپے نے ان کے لیے مشکلات پیدا کیں۔

2005 میں ان کا وزن 130 کلو تک پہنچ گیا۔ انہیں آپریشن سے گزرنا پڑا اور یہاں تک کہ ڈاکٹر نے تین ماہ تک محض محلول کی شکل میں خوراک لینے کی ہدایات جاری کیں۔

وہ اکثر میڈیا کے ساتھ بدسلوکی سے پیش آتے، انہیں ایک گرل فرینڈ پر حملہ کرنے کے الزام کا بھی سامنا کرنا پڑا اور یہ بات بھی کہی جاتی تھی کہ ان کے مافیا سے قریبی روابط استوار ہیں۔ انہیں ٹیکس ادا نہ کرنے پر بھی تنقید سہنا پڑی۔

لیکن فٹ بال کے زیادہ تر شائقین کے لیے ان میں سے کوئی بھی وجہ ایسی نہیں جو میراڈونا کی بطور کھلاڑی عظمت پر اثرانداز ہو سکے۔ 

بہت ہی کم کھلاڑی ایسے ہیں جن کی کہانی صحیح اور غلط سے بالاتر ہے اور جن کے اعمال قدیم یونانی داستانوں کے ہیرو کی طرح ہمیشہ کے لیے یاد رکھے جاتے ہیں۔ میراڈونا ایسے ہی ایک کھلاڑی ہیں۔ اکیلیز یا اوڈیسسیس کی طرح ان کا نام ’خدا کے ہاتھ‘ کی صورت میں زندہ رہے گا۔

یہ تحریر پہلے ’دا کنورسیشن‘ پر شائع ہوئی تھی اور یہاں اس کا ترجمہ اجازت لے کر پیش کیا جا رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ