ان دنوں ہانیہ عامر اور بلال عباس خان کے ڈراما سیریل ’میری زندگی ہے تو‘ کا او ایس ٹی یعنی اوریجنل ساؤنڈ ٹریک ’کیسی دل لگی ہے تو، کیسی بے بسی ہے تو‘ ہر خاص و عام کے لبوں پر ہے۔
عاصم اظہر اور صابری سسٹرز کی مدھر، رسیلی اور روح میں اتر جانے والی آوازیں اس گانے کو محض ایک دھن یا گیت نہیں رہنے دیتیں بلکہ اسے ڈرامے کے کرداروں کے جذبات، کشمکش اور اندرونی کیفیات کی مکمل عکاس بنا رہی ہیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ نغمہ کہانی کا ہمسفر نہیں بلکہ خود کہانی کا ایک لازمی روپ دھار چکا ہے۔ بلکہ کچھ کا تو یہ ماننا ہے کہ یہ او ایس ٹی دل کی دھڑکن، آنکھوں کی نمی اور جدائی کی وہ گونج بن چکی ہے جو لبوں کے ساتھ ساتھ دل میں ہر پل گونجتی رہتی ہے۔
پاکستانی ڈراموں میں او ایس ٹی کی ریت کوئی نئی نہیں۔ ماضی میں بھی یہ گانے کہانی کو ایک الگ پہچان دیتے، کرداروں کو دوام بخشتے اور ڈرامے کو مقبول بنا دیتے تھے۔
بھلا کون فراموش کر سکتا ہے شہرہ آفاق ڈراما سیریل ’دھواں‘ کا وہ منظر جب اداکار نبیل ظفر کی موت ہو جاتی ہے اور پھر پس منظر میں استاد نصرت فتح علی خان کی آواز میں ’کسی کا یار نہ بچھڑے‘ گونجتا ہے، اس ایک لمحے اور نغمے نے پورے ڈرامے کو امر کر دیا۔ یہ وہ کرشمہ یا جادو تھا جو صرف مکالمے نہیں، صرف موسیقی ہی کر سکتی تھی۔
اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ آج کے پاکستانی ڈرامے صرف مضبوط کہانیوں اور باصلاحیت اداکاروں تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کے او ایس ٹی میں بھی ناظرین کی دلچسپی اپنے عروج پر رہتی ہے۔ یہ او ایس ٹی کی ایک نئی دنیا ہے جہاں نغمے دل کی دیواریں توڑ کر اندر اتر سما جاتے ہیں۔
یہ کتنی دلچسپ بات ہے کہ بسا اوقات ڈراما اپنے نام کے بجائے اپنے او ایس ٹی سے یاد کیا جاتا ہے۔ کئی بار یہی گانے ناظرین کو اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ وہ ڈراما بھی ضرور دیکھیں۔ یوٹیوب پر لاکھوں ویوز، سپاٹی فائی پر ملینز میں سٹریمنگز اور ناظرین کے لبوں پر بسے یہ ٹریکس پاکستانی موسیقی کا ایک منفرد اور مختلف مزاج متعارف کرواتے ہیں۔
خوشی کا احساس، غم کی گہرائی، محبت کی شدت ہو یا پھر جدائی کی کاٹ، سب ہی کچھ موسیقی میں ڈوب جاتا ہے اور منظر ختم ہو جاتا ہے لیکن جذبات اور احساسات کا اثر موسیقی کی صورت میں کانوں میں رس گھول رہا ہوتا ہے۔
اب یہ ہو گیا ہے کہ روایتی پیار و محبت کے ڈراموں کے ساتھ ساتھ مزاحیہ ڈراموں کے بھی او ایس ٹی بنائے جا رہے ہیں جو اپنے چلبلے بولوں کی وجہ سے ناظرین کو مسکرانے پر مجبور کرتے ہیں، جیسے شہرت یافتہ مزاحیہ ڈراما ’بلبلے‘ کا او ایس ٹی۔
کیا ماضی میں بھی او ایس ٹی ضروری تھے؟
پاکستان ٹیلی وژن کے سنہری دور کا تذکرہ کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانے میں بھی ٹائٹل سونگ کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ بالخصوص سائرہ کاظمی کے ڈراموں میں موسیقی کا استعمال غیر معمولی مہارت سے کیا جاتا۔ ڈراما سیریل ’دھوپ کنارے‘ میں نیرہ نور کی آواز میں گائی فیض احمد فیض کی غزل کے مصرعے کرداروں کے جذبات کی مکمل تصویر بن گئے۔
اسی طرح ڈراما سیریل ’کارواں‘ میں مائی بھاگی کا مشہور لوک گیت ’کھڑی میں نیم کے نیچے‘ ٹینا ثانی نے گا کر اسے ایک نیا روپ دیا۔ اس دور میں موسیقی کی ذمہ داریاں اکثر ارشد محمود یا جاوید اللہ دتہ کے سپرد ہوتیں جو نیرہ نور، مہناز اور ٹینا ثانی کی آوازوں سے ایسے جواہر تراشتے جو آج بھی چمکتے ہیں۔
پرائیویٹ پروڈکشن کے آغاز کے بعد بھی یہ روایت ختم نہ ہوئی بلکہ ترقی کی اور منزلیں طے کرنا شروع کر دیں۔ کئی پروڈیوسرز نے پہلے سے مقبول گیتوں کو ڈراموں کا حصہ بنایا۔ 2002 میں سجاد علی کا گیت ’تیری یاد ستائے‘ جب ڈراما سیریل ’تھوڑی خوشی تھوڑا غم‘ میں شامل ہوا تو اس نے ڈرامے کی کامیابی میں نمایاں کردار ادا کیا۔
اسی طرح جواد احمد کا گیت ’مہندی کی رات‘ ڈراما سیریل ’مہندی‘ کا او ایس ٹی بنا تو اس نے ہر جانب دھوم مچا دی بلکہ یہ گیت تو اب تک ہر مہندی تقریب کا لازمی حصہ ہو چکا ہے۔ علی حیدر کا ’چاندنی راتیں‘ آج بھی ناظرین کے ذہنوں میں چاندنی رات کا دھیما دھیما لیکن نازک احساس دلاتا ہے۔
ڈراموں کے ذریعے گلوکاروں کے گیتوں کو بھی غیر معمولی تشہیر حاصل ہوئی جس کے نتیجے میں ان کے آڈیو کیسٹ اور سی ڈیز کی فروخت میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہ سلسلہ مزید مضبوط ہوتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ ڈراما پروڈیوسرز گلوکاروں کے نئے البمز کے گیتوں کو براہِ راست اپنے ڈراموں کا حصہ بنانے لگے۔ احمد جہانزیب کے البم ’لیلیٰ مجنوں‘ کا گیت ’ایک بار کہو تم میرے ہو‘ ڈراما سیریل ’لیلیٰ مجنوں‘ میں شامل ہوا تو اسی ایک گیت نے ڈرامے کو غیر معمولی مقبولیت دلائی، ساتھ ہی احمد جہانزیب کو عوامی شہرت ملی۔
اسی طرح وقار علی کا گایا ہوا او ایس ٹی ’میرا نام ہے محبت‘ عوام میں خاصی پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔
مشہور ترین او ایس ٹی
حالیہ برسوں میں ’ہم سفر‘، ’زندگی گلزار ہے‘، ’اب دیکھ خدا کیا کرتا ہے‘، ’میرے پاس تم ہو‘ اور ’عشق مرشد‘ جیسے ڈراموں کے او ایس ٹی ڈراموں سے بھی زیادہ مقبول ہوئے۔ یہی نہیں، ترک ڈراما سیریل ’عشق ممنوع‘ کا خرم جمشید کی آواز میں گایا ہوا او ایس ٹی اس قدر مشہور ہوا کہ راحت فتح علی خان نے بھی بعد ازاں اسے گنگنایا۔
یہ بھی ایک دلچسپ رجحان ہے کہ اب کئی گلوکار خود او ایس ٹی کی موسیقی ترتیب دے رہے ہیں اور بعض اوقات یہی او ایس ٹی ان کے کیریئر کی پہچان بن جاتے ہیں۔ عابدہ پروین، راحت فتح علی خان، عاصم اظہر، احمد جہانزیب، عرج فاطمہ، صنم ماروی، قرۃ العین بلوچ اور حدیقہ کیانی جیسے گلوکاروں نے او ایس ٹی کے ذریعے ناظرین کے دلوں میں خاص مقام حاصل کیا۔
ان گلوکاروں کے کنسرٹس میں سب سے بڑی فرمائش یہی ہوتی ہے کہ وہی نغمہ گایا جائے جو ڈرامے کی روح تھا۔ اس کا اندازہ یوں لگائیں کہ حال ہی میں کراچی میں گلوکار عاصم اظہر کے کنسرٹ میں تماشائی ان کے ’میری زندگی ہے تو‘ کے او ایس ٹی کی مانگ ہر گانے کے بعد کرتے رہے اور جب آخرکار انہوں نے یہ گیت سنایا تو ہر کوئی جھوم اٹھا۔
پیار اور احساسات کی ترجمان
پاکستانی ڈراموں کے او ایس ٹی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ پیار، جدائی، انتظار اور اہم سماجی مسائل کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں۔ پروڈکشن ہاؤسز کا ماننا ہے کہ گیتوں کے ذریعے کہانی کو زیادہ گہرائی اور وسعت ملتی ہے۔
یہاں تک کہ جب چینلز ان او ایس ٹی کو بار بار نشر کرتے ہیں تو بہت سے ناظرین صرف انہی گیتوں کو دیکھ کر فیصلہ کر لیتے ہیں کہ وہ ڈراما دیکھیں گے یا نہیں۔ کہا تو یہ بھی جاتا ہے کہ کسی نئے ڈرامے کے آغاز سے پہلے یہ او ایس ٹی دراصل ٹریلر بن جاتے ہیں جو ناظرین کی توجہ حاصل کرنے کے مقصد کے تحت تخلیق کیے جاتے ہیں۔
اور شاید یہی او ایس ٹی کی اصل طاقت ہے۔ یہ صرف ایک کہانی نہیں بیان کرتے بلکہ اس کہانی کا حصہ ہر ناظر کو بنا دیتے ہیں۔ جب سکرین مدھم پڑ جاتی ہے، مکالمے خاموش ہو جاتے ہیں، تب بھی یہ او ایس ٹی ہر ایک کے دل کو جلترنگ کر دیتے ہیں۔ پاکستانی ڈراموں کے او ایس ٹی محض موسیقی یا گیت نہیں بلکہ احساسات اور جذبات کے وہ عکاس ہیں جو ڈرامے کے ساتھ ساتھ گلوکار کو بھی ایک نئی پہچان دے جاتے ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔