دنیا بھر میں جامعات میں داخلوں کی تعداد کم ہو رہی ہے، خاص طور پر سوشل سائنسز کے شعبوں میں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔
ڈگری پروگراموں کا خرچ بہت سے لوگوں کی استطاعت سے باہر ہو چکا ہے۔ بہت سے پروگرام کئی دہائیوں سے بغیر کسی تبدیلی کے پڑھائے جا رہے ہیں۔ ایسے پروگرامز کا مواد آج کے دور کے مسائل کا حل پیش کرنے کے لیے ناکافی ہو چکا ہے۔
ایسی ڈگریوں کے بعد طالب علموں کو متعلقہ شعبہ جات میں ملازمت بھی نہیں ملتی اور ان کی ڈگری کسی دیوار پر لٹکانے کی حد تک ہی رہ جاتی ہے۔
رہی سہی کسر سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے پوری کر دی ہے۔ ان انفلوئنسرز میں سے کچھ کے پاس پرائمری کی سند بھی نہیں ہے تو کچھ کے پاس طب اور انجینیئرنگ کی اعلیٰ ڈگریاں موجود ہیں۔
انفلوئنسرز کی یہ دونوں اقسام ڈیلی وی لاگ، رات گئے تک چلنے والے لائیو سیشنز، دوستوں اور خاندان والوں کے ساتھ پرینکس یا اَن باکسنگ ویڈیوز کی بدولت نہ صرف مشہور ہوئی ہیں بلکہ اچھی خاصی امیر بھی ہو گئی ہیں۔
ان میں سے ہر سوشل میڈیا انفلوئنسر کی اپنی ایک مخصوص آڈینس ہے، جس کے ساتھ وہ براہِ راست رابطے میں رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لائیو سیشنز، سوال و جواب اور مسلسل موجودگی کے ذریعے وہ اپنی آڈینس کے ساتھ ایک ذاتی تعلق قائم کر لیتے ہیں۔ اسی قربت کی وجہ سے ان کے فالوورز انہیں روایتی میڈیا کے مقابلے میں زیادہ قابلِ اعتماد سمجھنے لگتے ہیں۔
یہ انفلوئنسرز اپنی مثال دیتے ہوئے لوگوں کو بتاتے ہیں کہ آج کے دور میں ڈگریاں بے کار ہیں۔ ان کی آڈینس ان کی بات سنتی ہے اور اپنی ڈگریوں پر شک کرنے لگتی ہے، لیکن کیا ڈگریاں واقعی بے کار ہیں؟
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس سوال کا جواب اتنا سادہ نہیں ہے۔ کچھ ڈگریاں وقت کے ساتھ ساتھ اپنی افادیت کھو چکی ہیں لیکن کچھ پہلے کی طرح اپنی جگہ اہم ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ بہت سی ایسی ڈگریاں بھی آ چکی ہیں جو موجودہ دور اور آنے والے دور کی ضرورت ہیں۔ پھر اصل بات کیا ہے؟
اصل بات ان ڈگریوں کی افادیت کی ہے۔ ہر ڈگری جو دنیا کو فائدہ پہنچا سکتی ہے معنی رکھتی ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی زندگی کے چار یا اس سے زیادہ سال اور لاکھوں روپے ایک ڈگری پر خرچ کرتا ہے لیکن گریجویٹ ہونے کے بعد اس کے پاس کوئی ایسی مہارت نہیں ہے، جو اسے اس کے متعلقہ شعبے میں نمایاں کر سکے تو وہ ڈگری اس کے لیے بے کار ہے۔
سوشل سائنس کی بہت سی ڈگریاں اسی لیے اپنی اہمیت کھو چکی ہیں کہ ان میں سے بہت سی ڈگریاں انٹرن شپس اور فیلڈ کے تجربے کے بغیر حاصل کی جا رہی ہیں۔
بہت سے طالب علم صحافت پڑھ رہے ہیں لیکن وہ ایک خبر تک نہیں ڈھونڈ سکتے۔ اگر خبر ڈھونڈ بھی لیں تو کسی نشریاتی ادارے کو اپنی آڈینس بڑھانے اور ان کا اعتماد جیتنے کے طریقے نہیں بتا سکتے، نئے دور کے تقاضوں کے مطابق کاروباری ماڈلز اور خبریں بتانے کے طریقے نہیں بتا سکتے۔
ایسے میں ان کے لیے صرف خبر کی اقدار جاننا یا خبریں لکھنے کا پرانا طریقہ جاننا فائدہ مند نہیں ہے۔ آج کل خبر رساں ادارے صحافیوں سے بنیادی کوڈنگ سکلز کا مطالبہ کرتے ہیں۔ تحقیق کے طریقے جاننے کی توقع کرتے ہیں، ڈیٹا ڈھونڈنے، اسے منظم کرنے اور اس سے خبر نکانے کی توقع کرتے ہیں اور یہاں کچھ طالب علموں کو ورڈ فائل میں سیکشن بنانے بھی نہیں آتے۔
اسی طرح جینڈر سٹڈیز، سوشیالوجی اور پبلک پالیسی جیسے مضامین میں ڈگریاں لینے والے لوگ بھی صرف ڈگری کے ساتھ عملی دنیا کے کسی کام نہیں آ پاتے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان ڈگریوں کی مانگ نہیں ہے۔ مانگ ضرور ہے لیکن وہ مانگ جن مہارتوں کے لیے ہے، آج کے گریجویٹس میں وہ مہارتیں موجود نہیں ہیں۔ کہیں یہ مہارتیں سکھائی ہی نہیں جا رہیں، تو کہیں سیکھی نہیں جا رہیں۔
کسی بھی ڈگری پروگرام میں داخلے سے پہلے اس کے مضامین دیکھیں۔ ہر مضمون کا سلیبس دیکھیں۔ اس شعبے کے انڈسٹری سے روابط دیکھیں۔ اس کے پروفیسرز کی پروفائل دیکھیں اور سب سے ضروری اس شعبے سے فارغ التحصیل طلبہ پر تحقیق کریں۔ کتنے لوگ اپنے شعبے کے ماہر ہیں۔ ان کی پروفائل دیکھیں۔ جانچیں کہ اس پروفائل میں اس ڈگری کا کیا کردار ہے۔ دیکھیں کہ اس ڈگری کے ساتھ آپ کو کن مہارتوں کی ضرورت پڑے گی۔ اپنی یونیورسٹی کے دور میں اپنے آپ کو اس شعبے کے لیے تیار کریں۔
دنیا صرف بولنے کے سہارے چل رہی ہوتی تو شاید آج ہم کسی مسئلے کا شکار ہی نہیں ہوتے، لیکن ہمارے مسائل ایسے حل نہیں ہوتے۔ ہمارے مسائل کا حل محققین سالوں کی تحقیق کے بعد ڈھونڈتے ہیں اور تحقیق یونیورسٹیاں ہی سکھاتی ہیں۔
یونیورسٹیاں تحقیق کے ساتھ ساتھ طلبہ میں تنقیدی سوچ بھی پیدا کرتی ہیں جو ہر دور کی اہم ضرورت ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یونیورسٹیاں طلبہ کو دنیا میں رہنا سکھاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو وہ کہیں اور حاصل نہیں کر سکتے۔
اور اسی وجہ سے یونیورسٹیوں سمیت ہر تعلیمی ادارے کی اہمیت ہمیشہ قائم رہے گی کہ جو وہ سکھا رہے ہیں وہ کہیں اور سیکھا نہیں جا سکتا۔ اور چاہے کچھ بھی کہ لیا جائے، آخر میں ہم ڈگری یافتہ لوگوں کی طرف ہی دیکھتے ہیں اور اپنے مسائل کا حل مانگتے ہیں۔
اس لیے اگر آپ کو اپنی ڈگری بے کار لگ رہی ہے تو ذرا رکیں، اپنا احتساب کریں۔ کیا ڈگری بے کار ہے یا آپ نے اسے ضائع کر دیا ہے؟
نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔