ایران کی سرکاری خبررساں ادارے اسنا نے خبر دی ہے کہ عمان میں ایران امریکہ مذاکرات کے منصوبوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جس کے تحت مذاکرات گذشتہ ادوار کے قائم کردہ فارمیٹ کے تحت جمعے کو منعقد کیے جائیں گے۔
تاریخی طور پر ایران امریکہ جوہری مذاکرات مسقط میں عمان کی ثالثی کے ذریعے منعقد ہوتے رہے ہیں۔
اسنا نے کہا ہے کہ ’ان مذاکرات میں گذشتہ دور کی طرح اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی ایرانی وفد کی قیادت کریں گے۔ ان کے ہمراہ مجید تخت روانچی اور کاظم غریب آبادی سمیت سینیئر سفارت کار ہوں گے۔‘
دوسری جانب اسنا کے مطابق امریکی وفد کی قیادت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کریں گے، ’تاہم ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی اس دور میں شرکت کر سکتے ہیں۔‘
اسنا نے لکھا ہے کہ ’اگرچہ بات چیت کے مواد کے حوالے سے میڈیا میں مختلف قیاس آرائیاں سامنے آئی ہیں، لیکن اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بنیادی موضوع ایران کی ’نیوکلیئر فائل‘ ہو گا۔ ایران کے اہم ترین مطالبات میں سے ایک امریکی پابندیوں کا خاتمہ ہے۔‘
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے منگل کو تصدیق کی کہ پاکستان کو ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا ’دعوت نامہ موصول‘ ہو گیا ہے تاہم ان مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی کون کرے گا اس بارے میں تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
دفتر خارجہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’مذاکرات کا مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں مدد کرنا ہے۔‘
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے منگل کو تصدیق کی کہ انہوں نے وزیر خارجہ عباس عراقچی کو ہدایت کی ہے کہ وہ ’منصفانہ مذاکرات‘ کو آگے بڑھائیں بشرطیکہ ’خطرات اور غیر معقول توقعات سے پاک ماحول‘ ہو۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے ایکس پر ایک سلسلہ وار پوسٹ میں کہا ہے کہ یہ مذاکرات ’ہمارے قومی مفادات کے فریم ورک کے اندر‘ ہوں گے۔
ایران نے بارہا کہا ہے کہ مذاکرات صرف اور صرف ایٹمی مسئلے پر مرکوز ہوں گے اور اس نے اس میں میزائل پروگرام یا دفاعی صلاحیت کو شامل کرنے کو رد کیا ہے۔
گذشتہ برس عراقچی اور وٹکوف کے درمیان مذاکرات کے پانچ دور چلے تھے تاہم پھر جب چھٹے دور سے قبل ہی اسرائیل نے ایران پر بڑے پیمانے پر حملہ کر دیا جس سے مذاکرات کھٹائی میں پڑ گئے۔
یہ مذاکرات ایک ایسے ماحول میں ہو رہے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور امریکہ نے ایران کے ارد گرد فوجی قوت مرتکز کرنا شروع کر دی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر اس نے حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف سختی برتی تو وہ اس کا جواب دیں گے۔
ان مظاہروں میں ایران نے تین ہزار اموات کو تسلیم کیا ہے، تاہم اسرائیل اور امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے مظاہرین کو اکسایا۔