’فری فلسطین‘ سٹیکر لگانے کے الزام میں برطانوی جوڑا انڈیا بدر

اس شہر میں جہاں بڑی تعداد میں اسرائیلی سیاح آتے ہیں، برطانوی جوڑے کو سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا۔

لیوس گیبریل ڈی اور انوشی ایما کرسٹین جنہیں انڈیا چھوڑنے کا حکم دیا گیا (این ڈی ٹی وی)

انڈیا کی مغربی ریاست راجستھان کے ایک مندروں والے شہر میں مبینہ طور پر ’فری فلسطین‘ (فلسطین کو آزاد کرو) کے سٹیکرز چسپاں کرنے پر ایک برطانوی جوڑے کو انڈیا چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ریاستی پولیس نے پیر کو بتایا کہ لیوس گیبریل ڈی اور انوشی ایما کرسٹین نے سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہو کر ٹورسٹ ویزا کے قوانین کی خلاف ورزی کی۔

حکام نے بتایا کہ انہیں 21 جنوری کو ایک رپورٹ موصول ہوئی کہ سیاح پشکر کے مشہور سیاحتی شہر میں متعدد مقامات پر سٹیکرز لگا رہے تھے، جن میں فلسطینی عوام کی حمایت کی گئی تھی۔ سٹیکرز پر لکھا تھا، ’فری فلسطین۔ بائیکاٹ اسرائیل۔‘

ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راجیش مینا نے ’دی ٹائمز آف انڈیا‘ کو بتایا، ’انڈین سرزمین پر رہتے ہوئے دیگر قوموں کی بے حرمتی کرنے والی سرگرمیوں میں ملوث ہونا ویزا قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘

انہوں نے الگ سے ’انڈیا ٹوڈے‘ کو بتایا: ’غیر ملکی شہریوں کی سرگرمیوں پر ہماری کڑی نظر ہے۔ اگر کوئی غیر ملکی شہری ٹورسٹ ویزا کی شرائط کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا تو اس کی نشاندہی کی جائے گی اور سخت کارروائی کی جائے گی، بشمول ملک بدری اور مستقبل کے لیے بلیک لسٹ کرنا۔‘

انہوں نے کہا کہ پولیس کے ’کریمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ‘ نے پیر کو ’امیگریشن اینڈ فارنرز ایکٹ 2025‘ کے تحت جوڑے کو نوٹس دیا، جس میں ان کے ویزے منسوخ کر دیے گئے اور انہیں فوری طور پر انڈیا سے نکلنے کا حکم دیا گیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق پشکر ان اسرائیلیوں کے لیے ایک مقبول منزل کے طور پر جانا جاتا ہے جو فوجی سروس ختم ہونے کے بعد آرام کرنے کے لیے انڈیا آتے ہیں۔ اس شہر میں اس وقت تقریباً دو ہزار اسرائیلی موجود ہیں اور ان میں سے بہت سے ایسے اداروں میں جاتے ہیں جو ’حباد‘ (Chabad) سے منسلک ہیں، جو کہ ایک عالمی حسیدک یہودی تحریک ہے۔

اکتوبر 2023 میں اسرائیل کی جانب سے غزہ پر تباہ کن جنگ کے آغاز کے بعد سے ’فلسطین کی آزادی‘ کے مطالبات میں شدت آئی ہے، جس میں کم از کم 71,800 فلسطینیوں کی اموات ہو چکی ہیں اور یہ گنجان آباد علاقہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ یہ جنگ اس وقت شروع ہوئی جب حماس کے جنوبی اسرائیل پر حملے میں تقریباً 1,200 افراد مارے گئے اور 251 کو یرغمال بنا لیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گذشتہ اکتوبر میں امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود، اسرائیلی فورسز نے محصور علاقے پر مہلک حملے جاری رکھے ہیں، جن میں تقریباً 500 اموات ہو چکی ہیں۔

انڈیا نے غزہ میں اسرائیل کے اقدامات پر براہ راست تنقید کرنے سے گریز کیا ہے کیونکہ وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کے تحت دو طرفہ تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔

اسرائیل کے سفیر ریوین آزر نے ’این ڈی ٹی وی‘ کو بتایا کہ اسرائیل اب انڈیا کو ہتھیار فراہم کرنے والے سب سے بڑے ممالک میں سے ایک ہے اور توقع ہے کہ مسٹر مودی رواں ماہ کے آخر میں ملک کا دورہ کریں گے۔

تاہم، بین الاقوامی فورمز پر دہلی نے تنازعے کے حل کے لیے طویل عرصے سے دو ریاستی حل کی حمایت کی ہے۔

دریں اثنا، پیر کو رفح کراسنگ دوبارہ کھلنے کے بعد اسرائیل نے صرف پانچ تشویشناک حالت میں مبتلا فلسطینی مریضوں کو علاج کے لیے جانے کی اجازت دی ہے۔

رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ جنگ بندی معاہدے کے حصے کے طور پر اسرائیلی فورسز ہر روز 50 مریضوں کو دو دو رشتہ داروں کے ہمراہ انکلیو (محصور علاقے) سے نکلنے کی اجازت دیں گی۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق 18 ہزار سے زائد زخمی اور بیمار افراد طبی امداد کے منتظر ہیں، جبکہ غزہ کی وزارت صحت کا تخمینہ ہے کہ یہ تعداد 20 ہزار سے زیادہ ہے۔ یونیسیف نے کہا کہ ان میں سے تین ہزار سے زیادہ بچے ہیں۔

’دی انڈپینڈنٹ‘ نے تبصرے کے لیے انڈین وزارت خارجہ سے رابطہ کر رکھا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی