اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے فلسطین کے حق میں مظاہروں میں شرکت کرنے والے طلبہ کو سزا دینے پر سوئٹزرلینڈ کی مذمت کی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یو این ماہرین نے برن حکومت کو خط لکھ کر اس فیصلے پر احتجاج کیا ہے۔
27 تاریخ کو اقوام متحدہ کے دیے گئے بیان کے مطابق مئی 2024 میں غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے دوران زیورخ کی سرکاری فنڈ سے چلنے والی جامعہ ETH Zurich میں تقریباً 70 طلبہ نے پُرامن دھرنا دیا تھا، جسے بعد میں پولیس نے ختم کرا دیا۔
طلبہ سوئس تعلیمی ادارے اور اسرائیلی جامعات کے درمیان شراکت داری کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یو این ماہرین کا کہنا ہے کہ پُرامن طلبہ سرگرمیاں اظہارِ رائے اور اجتماع کی آزادی کے بنیادی حقوق میں شامل ہیں اور انہیں جرم قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے اس معاملے پر سوئس حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ سے وضاحت بھی طلب کی ہے۔
روئٹرز کے مطابق اب تک پانچ طلبہ کو ٹریس پاسنگ کے الزام میں سزا سنائی جا چکی ہے، جن میں 2700 سوئس فرانک تک کے جرمانے، دو ہزار فرانک سے زائد عدالتی اخراجات اور کریمنل ریکارڈ میں اندراج شامل ہے، جو مستقبل میں ملازمت کے حصول میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
مزید دس طلبہ کی اپیلوں پر فیصلہ ہونا باقی ہے جبکہ دو کو بری کر دیا گیا ہے۔