یورپی یونین ایرانی پاسداران انقلاب کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دینے پر متفق

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالس کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پاسداران انقلاب کو القاعدہ، حماس اور داعش کے ’ساتھ ایک ہی صف میں‘ لا کھڑا کرے گا۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے اہلکار 18 اکتوبر 2022 کو آرمینیا اور آذربائیجان کی سرحد پر فوجی مشق میں مصروف ہیں (اے ایف پی)

یورپی یونین کے اعلیٰ سفارت کار نے بتایا کہ یونین نے جمعرات کو ایران کی نیم فوجی تنظیم پاسداران انقلاب کو ملک گیر احتجاج کے دوران کریک ڈاؤن کی وجہ سے دہشت گرد تنظیم قرار دینے پر اتفاق کر لیا ہے، جسے تہران نے ایک ’نمائشی حربہ‘ قرار دیا ہے۔

 یہ زیادہ تر علامتی اقدام ہے، جس سے ایران پر دباؤ میں اضافہ ہو گا۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالس نے کہا کہ 27 ملکی بلاک کے وزرائے خارجہ نے متفقہ طور پر اس نامزدگی پر اتفاق کیا، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ پاسداران انقلاب کو القاعدہ، حماس اور داعش کے ’ساتھ ایک ہی صف میں‘ لا کھڑا کرے گا۔

کایا کالس نے کہا: ’جو لوگ دہشت کے ذریعے کام کرتے ہیں، ان کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کیا جانا چاہیے۔‘

ایران میں کریک ڈاؤن سے پہلے معاشی مشکلات نے ان مظاہروں کو ہوا دی جو بعد میں مذہبی حکومت کے لیے چیلنج بن گئے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس کریک ڈاؤن میں کم از کم 6479 افراد جان سے گئے۔

کایا کالس کا کہنا تھا کہ ’کوئی بھی حکومت جو اپنے ہی ہزاروں لوگوں کو مارتی ہے، وہ اپنے ہی زوال کی طرف جا رہی ہوتی ہے۔‘

امریکہ اور کینیڈا سمیت دیگر ممالک پہلے ہی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔

پرامن مظاہرین کے قتل اور ممکنہ اجتماعی پھانسیوں کے جواب میں ایران کو امریکی فوجی کارروائی کے خطرے کا بھی سامنا ہے۔ امریکی فوج نے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن اور کئی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائیرز مشرق وسطیٰ میں منتقل کر دیے ہیں۔ یہ ابھی تک واضح نہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ طاقت کے استعمال کا فیصلہ کریں گے یا نہیں۔

ایران نے جمعرات کو سمندر میں موجود بحری جہازوں کو خبردار کیا کہ وہ اگلے ہفتے ایک مشق کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس میں آبنائے ہرمز میں لائیو فائرنگ شامل ہو گی، جس سے ممکنہ طور پر اس آبی گزرگاہ کی ٹریفک متاثر ہو سکتی ہے جہاں سے دنیا کا 20 فیصد تیل گزرتا ہے۔


ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس نامزدگی کو ’نمائشی حربہ‘ قرار دے کر مسترد کر دیا اور کہا کہ اگر پابندیوں کے نتیجے میں توانائی کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو یورپ متاثر ہو گا۔

انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا: ’کئی ممالک اس وقت ہمارے خطے میں مکمل جنگ چھڑنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی یورپی نہیں ہے۔‘

دہشت گرد گروپ کا لیبل ایک ’علامتی اقدام‘

جرمن مارشل فنڈ کی ڈپٹی ڈائریکٹر کرسٹینا کاؤش نے کہا کہ پاسداران انقلاب کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنا ’ایک علامتی اقدام‘ ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ یورپی یونین کے لیے ’مذاکرات کا راستہ کہیں نہیں پہنچا اور اب تنہائی اور روک تھام ترجیح ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا: ’ریاست کے ایک فوجی بازو کو، جو ایرانی ریاست کا ایک سرکاری ستون ہے، دہشت گرد تنظیم قرار دینا سفارتی تعلقات منقطع کرنے سے ایک قدم پیچھے ہے۔‘

فرم میئر براؤن سے منسلک اور پابندیوں پر توجہ مرکوز کرنے والے وکیل ایڈورڈ گرگونڈے نے کہا کہ لسٹنگ کو باضابطہ طور پر اپنانے سے پہلے پاسداران انقلاب کے پاس تبصرہ کرنے کا وقت ہے۔

یورپی یونین نے جمعرات کو ایران کے 15 اعلیٰ عہدے داروں اور چھ تنظیموں پر بھی پابندیاں عائد کیں، جن میں آن لائن مواد کی نگرانی میں شامل افراد اور ادارے بھی شامل ہیں، کیوں کہ ملک حکام کی جانب سے تین ہفتے کے انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کی لپیٹ میں ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے کہا کہ پابندیوں کا مطلب ہے کہ متاثرہ عہدے داروں اور تنظیموں کے اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے اور ان کے یورپ کا سفر کرنے پر پابندی ہو گی۔

پاسداران انقلاب ایران بھر میں وسیع کاروباری مفادات رکھتے ہیں اور پابندیاں یورپ میں اس کے اثاثے ضبط کرنے کی اجازت دے سکتی ہیں۔

ایران پہلے ہی امریکہ اور برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی جانب سے بین الاقوامی پابندیوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔

پاسداران انقلاب ایران کے 1979 کے اسلامی انقلاب سے ایک ایسی فورس کے طور پر ابھری جس کا مقصد مذہبی قیادت کی زیر نگرانی حکومت کی حفاظت کرنا تھا اور بعد میں اسے آئین میں شامل کر لیا گیا۔ اس نے ملک کی باقاعدہ مسلح افواج کے متوازی کام کیا، اور 1980 کی دہائی میں عراق کے ساتھ ایک طویل اور تباہ کن جنگ کے دوران اس کی اہمیت اور طاقت میں اضافہ ہوا۔

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ