یورپی یونین کی سربراہ اُرزولا فان ڈیر لائن نے ہفتے کو کہا کہ یورپ ایرانی عوام کے بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاج کی حمایت کرتا ہے اور مظاہرین کے خلاف ہونے والے ’پر تشدد کریک ڈاؤن‘ کی مذمت کرتا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یورپی یونین چیف نے اپنے بیان میں کہا: ’تہران کی گلیوں اور دنیا بھر کے شہروں میں ایرانی خواتین اور مردوں کے اُن قدموں کی گونج سنائی دے رہی ہے جو آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔‘
ان کے بقول: ’اظہارِ رائے کی آزادی، اجتماع کی آزادی، سفر کرنے کی آزادی اور سب سے بڑھ کر آزادانہ زندگی گزارنے کی آزادی کے حصول کی جدوجہد میں یورپ ان کے ساتھ پوری طرح کھڑا ہے۔‘
یورپی کمیشن کی سربراہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’ہم ان جائز مظاہروں پر ہونے والے پرتشدد جبر کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔ اس تشدد کے ذمہ داروں کو تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔‘
دوسری جانب مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والی اس تحریک میں ایران بھر میں 13 دنوں سے مظاہرے جاری ہیں، جس میں اس مذہبی نظام کے خاتمے کے مطالبات بڑھ رہے ہیں جو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران پر حکمران ہے، جس نے مغرب نواز شاہ کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا۔
حکومت کے خلاف تین سال سے زائد عرصے میں سب سے بڑی تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے ایرانی شہری جمعے کو بھی سڑکوں پر نظر آئے۔ حکام نے کریک ڈاؤن کے حصے کے طور پر انٹرنیٹ کی بندش کو برقرار رکھا ہوا ہے۔
ایرانی حکام نے ہفتے کو اشارہ دیا ہے کہ وہ حکومت مخالف مظاہروں پر کارروائی مزید سخت کر سکتے ہیں۔
روئٹرز کے مطابق پاسداران انقلاب نے اس بدامنی کا الزام ’دہشت گردوں‘ پر عائد کرتے ہوئے نظام کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی مداخلت کی نئی وارننگ کے ایک دن بعد ملک بھر سے تشدد کی تازہ رپورٹس موصول ہوئی ہیں۔
ایران کے آخری شاہ کے جلاوطن صاحبزادے نے پہلی بار کھلے عام احتجاج کو بغاوت کی صورت اختیار کرتے ہوئے مذہبی حکمرانوں کے خاتمے تک لے جانے کی اپیل کی ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق ’فسادیوں‘ نے تہران کے مغرب میں واقع علاقے میں ایک میونسپل عمارت کو آگ لگا دی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سرکاری ٹی وی نے شیراز، قم اور ہمدان میں احتجاج کے دوران مارے گئے سکیورٹی اہلکاروں کی جنازوں کی فوٹیج چلائی۔
سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی ویڈیوز میں دارالحکومت تہران میں بڑے ہجوم اور رات گئے سڑکوں پر آگ کے مناظر دیکھے گئے۔
غیر سرکاری سماجی تنظیم HRANA کے مطابق مظاہروں میں اب تک کم از کم 50 مظاہرین اور 15 سکیورٹی اہلکار جانوں سے گئے جب کہ تقریباً 2,300 افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
مغربی ایران میں ایک چشم دید گواہ نے فون پر روئٹرز کو بتایا کہ پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار علاقے میں تعینات ہیں اور فائرنگ کر رہے ہیں۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق تہران کے نزدیک بہارستان میں 100 ’مسلح فسادی‘ گرفتار کیے گئے ہیں۔
ریاستی ٹی وی پر نشر کیے گئے ایک بیان میں پاسداران انقلاب نے الزام لگایا کہ ’دہشت گرد‘ گذشتہ دو راتوں سے فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اڈوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ کئی شہری اور اہلکار مارے جا چکے ہیں اور عوامی و نجی املاک کو آگ لگا دی گئی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسلامی انقلاب کی ’حاصل کردہ کامیابیوں کا تحفظ‘ اور ملک کی سلامتی ایک ’سرخ لکیر‘ ہے۔