ایران میں احتجاج: پاکستان کی اپنے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت

دفتر خارجہ کی ایڈوائزری میں کہا گیا: ’اپنی حفاظت اور سلامتی کے پیشِ نظر پاکستانی شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ حالات بہتر ہونے تک اسلامی جمہوریہ ایران کا غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کریں۔‘

اسلام آباد میں دفتر خارجہ کی عمارت کی تصویر (انڈپینڈنٹ اردو)

ایران میں مہنگائی کے خلاف جاری مظاہروں کے پیش نظر حالات بہتر ہونے تک پاکستان نے ہفتے کو اپنے شہریوں کو ایران کے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کی گئی ایڈوائزری میں کہا گیا: ’اپنی حفاظت اور سلامتی کے پیشِ نظر پاکستانی شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ حالات بہتر ہونے تک اسلامی جمہوریہ ایران کا تمام غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کریں۔‘

مزید کہا گیا کہ اس وقت ایران میں مقیم پاکستانی شہریوں پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ ’انتہائی احتیاط برتیں، چوکنا رہیں، غیر ضروری نقل و حرکت کم سے کم رکھیں۔‘

دفتر خارجہ نے شہریوں کی سہولت کی غرض سے پاکستانی سفارتی مشنز سے باقاعدہ رابطے میں رہنے کے لیے نمبرز بھی جاری کیے ہیں۔

مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والی اس تحریک میں ایران بھر میں 13 دنوں سے مظاہرے جاری ہیں، جس میں اس مذہبی نظام کے خاتمے کے مطالبات بڑھ رہے ہیں جو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران پر حکمران ہے، جس نے مغرب نواز شاہ کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا۔

حکومت کے خلاف تین سال سے زائد عرصے میں سب سے بڑی تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے ایرانی شہری جمعے کو بھی سڑکوں پر نظر آئے۔ حکام نے کریک ڈاؤن کے حصے کے طور پر انٹرنیٹ کی بندش کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ ان مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن میں درجنوں افراد جان سے جا چکے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان