ایرانی حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ اور بین الاقوامی ٹیلی فون کالز بند کرنے کے باوجود، سابق شاہ کے جلاوطن بیٹے کی جانب سے مظاہروں کی کال کے بعد مظاہرین نے جمعے کی صبح سڑکوں پر نعرے لگائے اور مارچ کیا۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسویسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق کارکنوں کی جانب سے شیئر کی گئی مختصر آن لائن ویڈیوز میں دارالحکومت تہران اور دیگر علاقوں میں سڑکوں پر بکھرے ملبے اور الاؤ کے گرد مظاہرین کو بظاہر ایران کی حکومت کے خلاف نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔
ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے جمعے کو مظاہروں پر اپنی خاموشی توڑی، اور الزام لگایا کہ امریکہ اور اسرائیل کے ’دہشت گرد ایجنٹوں‘ نے آگ لگائی اور تشدد کو ہوا دی۔ ذرائع ابلاغ نے مزید تفصیل بتائے بغیر یہ بھی کہا کہ ’جانی نقصان‘ ہوا ہے۔
مواصلاتی رابطوں کی بندش کی وجہ سے مظاہروں کی مکمل وسعت کا فوری طور پر تعین نہیں کیا جا سکا۔ اگرچہ یہ صورت حال ان مظاہروں میں ایک اور شدت کی عکاسی کرتی ہے جو ایران کی کمزور معیشت کی وجہ سے شروع ہوئے اور کئی سال بعد حکومت کے لیے سب سے اہم چیلنج میں بدل گئے ہیں۔
امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد میں اب تک کم از کم 42 افراد جان سے جا چکے ہیں جب کہ 2270 سے زیادہ دیگر افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کی سینیئر فیلو ہولی ڈیگریس نے کہا، ’جس چیز نے مظاہروں کا رخ موڑا وہ سابق ولی عہد رضا پہلوی کی جانب سے ایرانیوں کو جمعرات اور جمعہ کو رات آٹھ بجے سڑکوں پر نکلنے کی کال تھی۔
’سوشل میڈیا پوسٹس سے واضح ہو گیا کہ ایرانیوں نے عمل کر دکھایا اور وہ اسلامی جمہوریہ کو نکال باہر کرنے کے لیے احتجاج کرنے کی کال کو سنجیدگی سے لے رہے تھے۔
’یہی وہ وجہ ہے کہ انٹرنیٹ بند کیا گیا تاکہ دنیا کو مظاہرے دیکھنے سے روکا جا سکے۔ بدقسمتی سے اس عمل نے ممکنہ طور پر سکیورٹی فورسز کو مظاہرین کو مارنے کے لیے آڑ بھی فراہم کی۔‘
جمعرات کی رات کے مظاہرے انٹرنیٹ کی بندش سے پہلے ہوئے۔
اے ایف پی کے مطابق یہ تحریک، جس کا آغاز 28 دسمبر کو ملکی کرنسی میں ریکارڈ کمی کے بعد تہران بازار کی بندش سے ہوا تھا، ملک بھر میں پھیل چکی ہے اور اب دارالحکومت سمیت بڑے پیمانے پر مظاہرے اس میں دیکھے جا رہے ہیں۔
یہ مظاہرے ایران میں 2023-2022 کی اس احتجاجی لہر کے بعد سے سب سے بڑے ہیں جو مہسا امینی کی دوران حراست موت سے شروع ہوئی تھی، جنہیں خواتین کے لیے لباس کے سخت ضابطے کی مبینہ خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انسانی حقوق کے گروپوں نے حکام پر ایسے ہتھکنڈے استعمال کرنے کا الزام بھی لگایا ہے جن میں زخمی مظاہرین کو حراست میں لینے کے لیے ہسپتالوں پر چھاپے مارنا شامل ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حکام پر ’غیر قانونی طاقت‘ استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا، ’ایران کی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین اور راہگیروں دونوں کو زخمی کیا اور جان سے مارا۔‘
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے جمعرات کو مظاہروں سے نمٹنے میں ’انتہائی تحمل‘ کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی، اور کہا کہ ’کسی بھی قسم کے پرتشدد یا زبردستی پر مبنی رویے سے گریز کیا جانا چاہیے‘۔