پاکستان کے دیہی اور مضافاتی علاقوں میں جہاں جدید کھیل عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو رہے ہیں، وہاں ملتان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں صدیوں پرانا روایتی کھیل ’گلی ڈنڈا‘ آج بھی بچوں اور جوانوں کو متحرک رکھنے اور سستی تفریح فراہم کرنے کا ایک بہترین ذریعہ بنا ہوا ہے۔
ملتان صدر کی بستی کاواں والی کے رہائشی محمد رمضان نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ آج کل کے بچے ہر وقت موبائل فون پر فوکس کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی جسمانی سرگرمیاں ختم ہو کر رہ گئی ہیں، اسی لیے وہ اپنے بچوں کو گلی ڈنڈے کی طرف لا رہے ہیں تاکہ ان کا وقت کھیلوں میں گزرے، موبائل کا استعمال کم ہو اور ان کی جسمانی ورزش بھی ہوتی رہے کیونکہ اس کھیل سے بچے ایکٹو رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ خود پچھلے 35 سال سے اس کھیل کو اپنے گاؤں میں دیکھ رہے ہیں اور ان کا اپنا بچپن بھی اسی کو کھیلتے گزرا ہے، اب وہ اپنے بچوں کو بھی اسی طرف لا رہے ہیں کیونکہ ان کے مطابق موبائل نوجوان نسل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے جبکہ کھیلوں میں آنے سے بچے ٹیم ورک سیکھتے ہیں، دوستوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔
محمد رمضان مزید کہتے ہیں کہ کرکٹ کے لیے 22 کھلاڑیوں، بڑے گراؤنڈ اور امپائر کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ان کے ڈیرے ٹائپ چھوٹے علاقوں میں ایسے گراؤنڈ نہیں ہیں، جبکہ گلی ڈنڈے کی خوبصورتی یہ ہے کہ اگر صرف دو لڑکے مل جائیں تو بھی یہ کھیل کھیلا جا سکتا ہے اور اس کے لیے کسی بڑے گراؤنڈ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ جہاں مرضی تھوڑی سی جگہ صاف کر کے اسے سٹارت کیا جا سکتا ہے۔
اسی بستی کے ایک اور رہائشی اسد علی نے کھیل کے دیسی اور آسان ہونے پر روشنی ڈالتے ہوئے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کام کاج کرنے والے دیہاتی لوگ ہیں اور دیگر کھیلوں کے لیے جہاں مخصوص جگہ اور گراؤنڈز چاہیے ہوتے ہیں، وہیں گلی ڈنڈا ایک ایسا کھیل ہے جسے کسی بھی جگہ کھیلا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وہ بتاتے ہیں کہ ’درخت سے کلہاڑی کے ذریعے لکڑی کاٹو تو اسی وقت گِلی بھی بن جاتی ہے اور ڈنڈا بھی تیار ہو جاتا ہے، اس لیے اس کھیل پر کوئی خرچہ نہیں ہوتا اور امیر غریب کا کوئی چکر نہیں ہے۔‘
کھیل کے اصولوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ کھیل کرکٹ سے کافی ملتا جلتا ہے کیونکہ اس کے اندر بھی باؤنڈری سسٹم ہوتا ہے لیکن اس کا قانون تھوڑا مختلف ہے کہ اس میں گلی کو ہٹ کرنے کے لیے تین بار چانس ملتا ہے، اگر تینوں بار میں ہٹ نہ ہو تو کھلاڑی آؤٹ ہو جاتا ہے۔
اسد علی نے مزید بتایا کہ اس میں کرکٹ کی طرح چھکا نہیں ہوتا بلکہ گلی جتنی دور جائے اس حساب سے سکور ملتا ہے، اگر پہلی ہی ہٹ پر گلی دور چلی جائے تو دو سکور ملتے ہیں، دوسری ہٹ پر ایک سکور ملتا ہے اور اگر تیسری ہٹ پر لگے تو سکور تو نہیں ملتا لیکن کھلاڑی کی باری بچ جاتی ہے اور وہ دوبارہ کھیلتا ہے۔
بستی کاواں والی کے ہی ایک نوجوان کھلاڑی شانی چودھری نے کھیل کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس کھیل میں ایک بڑا ڈنڈا اور ایک چھوٹی گلی ہوتی ہے اور زمین میں ایک چھوٹا کھڈا کھودا جاتا ہے جسے مقامی زبان میں ’پِلی‘ کہتے ہیں۔ گلی کو اس پِلی کے اوپر رکھ کر ڈنڈے سے آرام سے اوپر اٹھا کر دور پھینکا جاتا ہے اور اس میں تین، پانچ، سات یا دس کھلاڑی بھی مل کر کھیل سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس کا پورا باؤنڈری سسٹم کرکٹ کی طرح ہوتا ہے کہ اگر گلی زمین کے ساتھ لڑکتی ہوئی لائن سے باہر جائے تو چار رنز اور اگر اوپر سے ہوا میں جائے تو چھ رنز گنے جاتے ہیں، اسی طرح اگر شاٹ مارنے پر فیلڈنگ کرنے والا کھلاڑی گلی کو ہوا میں ہی پکڑ لے تو کھیلنے والا کیچ آؤٹ ہو جاتا ہے۔
شانی چودھری کا کہنا تھا کہ اگر کیچ نہ ہو تو جہاں گلی گرتی ہے وہاں سے فیلڈر اسے واپس پِلی پر آڑے رکھے گئے ڈنڈے کی طرف پھینکتا ہے، اگر گلی ڈنڈے کو ٹچ ہو جائے تو بھی کھلاڑی آؤٹ مانا جاتا ہے، ورنہ کھلاڑی دوبارہ اپنی باری لیتا ہے اور اس کھیل میں وقت کی کوئی قید نہیں ہوتی بلکہ یہ کھلاڑی کی مہارت پر منحصر ہوتا ہے۔
دیہی مضافات کے رہائشیوں کے مطابق گلی ڈنڈا صرف ایک کھیل ہی نہیں بلکہ ان کا ثقافتی ورثہ ہے جو نئی نسل کو سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے دور رکھنے اور انہیں ایک دوسرے کے قریب لانے کا ایک بہترین اور روایتی ذریعہ ہے۔