صوبہ خیبر پختونخوا کا ضلع بونیر اپنی دلکش وادیوں اور تاریخی اہمیت کے ساتھ ساتھ اس بات کے لیے بھی مشہور ہے کہ یہاں آج بھی وہ روایتی کھیل زندہ ہیں جن کی تاریخ بہت پرانی ہے۔
انہی کھیلوں میں سے ایک ’مخہ‘ بھی ہے، جو محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ بونیر کی کسی حد تک ثقافتی پہچان ہے۔
مخہ ایک تیر نما آلے کے ذریعے کھیلا جاتا ہے، یہ تیر ربڑ اور بانس سے تیار کیا جاتا ہے، جسے 32 فٹ کے فاصلے پر نصب ایک سفید دائرے مقامی زبان میں ’ٹکئی‘ پر مارا جاتا ہے۔ اس کھیل میں نہ صرف نشانے کی مہارت بلکہ کھلاڑی کے اعصاب کی مضبوطی بھی آزمائی جاتی ہے۔
بونیر کے علاقے بازاگئی سے تعلق رکھنے والے جمیل الرحمن نے انڈپینڈںٹ اردو کو بتایا کہ ’یہ صرف بونیر نہیں بلکہ مردان، صوابی اور اٹک کے جھنگ باہتر تک کھیلا جاتا ہے۔ اس کھیل کے لیے تیر بنگال سے منگوائے جاتے ہیں جبکہ ربڑ پشاور اور کراچی سے لایا جاتا ہے۔ عصر کے وقت سب کھلاڑی اکٹھے ہو کر مقابلہ شروع کرتے ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مقامی کھلاڑی ہدایت الرحمن ساگر کہتے ہیں کہ اسے کھیلنے کے لیے مضبوط اعصاب ضروری ہیں۔ ’یہ کھیل دیکھنے میں آسان لگتا ہے لیکن اصل میں پریشر والا گیم ہے۔ جب سب کی نظریں کھلاڑی پر جمی ہوں تو ایک تیر کا صحیح یا غلط نشانہ پورے کھیل کا فیصلہ بدل دیتا ہے۔ کبھی نشانہ لگتا ہے اور کبھی نہیں، یہی اس کی اصل خوبصورتی ہے۔‘
اس کھیل کو زندہ رکھنے کے لیے مقامی سطح پر باقاعدہ ٹورنامنٹ بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔ حکیم اللہ، جو اس ٹورنامنٹ کے منتظم ہی نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ہم نے حال ہی میں ایک مقابلہ منعقد کیا جس میں 30 ٹیمیں شامل ہوئیں۔ ہر ٹیم میں 8 کھلاڑی تھے اور ہر کھلاڑی کو 4 تیر مارنے کا موقع ملا۔ یوں ایک ٹیم کے 32 نشانے بنتے ہیں اور جو ٹیم زیادہ کامیاب نشانے لگائے، وہ فاتح قرار پاتی ہے۔‘