ایران نے امن معاہدے پر دستخط کا تاحال فیصلہ نہیں کیا: میڈیا رپورٹ

خبر رساں ایجنسی فارس نے رپورٹ کیا کہ تہران نے امن معاہدے پر دستخط کے حوالے سے تاحال فیصلہ نہیں کیا۔

10 جون، 2026 کو تہران میں ایک شخص ایرانی پرچم کے سامنے سے گزر رہا ہے (اے ایف پی)

ایران کی خبر رساں ایجنسی فارس نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ تہران نے امریکہ کے ساتھ زیر غور امن معاہدے پر دستخط کرنے کے حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

فارس نے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ایک ’باخبر ذریعے‘ کے حوالے سے کہا ’اسلامی جمہوریہ ایران نے مذاکرات کے دوران پیش کی گئی مفاہمتی یادداشت کے بارے میں ابھی تک نہ کوئی حتمی فیصلہ کیا ہے اور نہ ہی اس کا اعلان کیا ہے۔’

مجوزہ معاہدے کو ایران کے سخت گیر حلقوں کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہے۔

ان کا مؤقف ہے کہ یہ معاہدہ ایران کے مفادات کے مطابق نہیں اور اس سے تہران آبنائے ہرمز جیسے اہم تزویراتی راستے پر اپنے اثر و رسوخ سے محروم ہو جائے گا۔

قطری وفد تہران میں

ادھر ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے جاری ثالثی کوششوں کے سلسلے میں ایک قطری وفد اتوار کو تہران پہنچا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے اثنا کے مطابق قطری وزیر خارجہ کے ایک مشیر کو ایران بھیجا گیا ہے۔

ایک اور ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے بتایا کہ دورے کا مقصد ’سفارتی عمل سے متعلق تازہ ترین پیش رفت کا جائزہ لینا‘ ہے۔

صورتحال سے باخبر ایک سفارت کار نے اتوار کو اے ایف پی کو بتایا کہ ’قطری مذاکرات کار آج صبح تہران پہنچے۔‘

حساس مذاکرات پر بات کرنے کے لیے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرتے ہوئے سفارت کار نے کہا کہ وفد کا یہ دورہ ’معاہدے کو حتمی شکل دینے کے عمل میں سہولت فراہم کرنے‘ کے لیے کیا گیا ہے۔

’امن معاہدے میں لبنان جنگ بندی بھی شامل‘

ایک سینیئر امریکی عہدے دار نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ ختم کرنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے میں لبنان بھی شامل ہو گا، جہاں اسرائیل حزب اللہ پر مسلسل حملے کر رہا ہے۔

امریکی انتظامیہ کے سینیئر اہلکار نے فون پر صحافیوں کو بتایا ’اس میں لبنان شامل ہے، اس میں ایران شامل ہے، اس میں خلیج کے ساحلی ممالک شامل ہیں اور اس میں اسرائیل شامل ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو آنے والے دنوں میں ایران کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط ہونے کا ’80 سے 85 فیصد‘ یقین ہے۔

عہدے دار نے بتایا کہ معاہدے میں پابندیوں میں’نمایاں‘ نرمی اور ایرانی اثاثوں کو غیر منجمد کرنا شامل ہو گا، جس کے بدلے میں ایران اپنا ایٹمی پروگرام ختم کرنے اور اپنا ایٹمی مواد حوالے کرنے پر رضامند ہو گا۔

سینیئر عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ’میں اس معاہدے کے بارے میں بہت پرامید ہوں۔ میرا خیال ہے کہ صدر ایک بہت اچھے مقام پر پہنچ گئے ہیں۔

’ہم ابھی اختتامی لائن پر نہیں پہنچے، لیکن ہم بہت قریب ہیں۔‘

امریکی اہلکار نے کہا کہ معاہدے پر دستخط کے لیے کسی جگہ اور تاریخ کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا، تاہم یورپ کا امکان موجود ہے، جس کی ٹرمپ نے تجویز دی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اہلکار نے مزید کہا ’ہمیں توقع ہے کہ ہم اگلے چند دن میں اس معاہدے پر دستخط کر دیں گے۔ میں آپ کو کوئی حتمی تاریخ نہیں دے سکتا۔

’اگر مجھے آپ کو یہ یقین دلانا ہوتا کہ ہم اس معاہدے پر دستخط کرنے جا رہے ہیں تو میں نے شاید آج صبح 75 فیصد کہا ہوتا، اب یہ شاید 80 سے 85 فیصد کے قریب ہے لیکن یہ 100 فیصد نہیں۔‘

امریکی عہدے دار نے کہا کہ معاہدے کی راہ اس وقت ہموار ہونا شروع ہوئی جب ایران نے اس ’وضاحت‘ پر اتفاق کیا کہ اس کے افزودہ یورینیم کو کیسے ٹھکانے لگایا جائے گا۔

اہلکار نے مزید کہا کہ واشنگٹن کا یہ بھی خیال تھا کہ اہم آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول کمزور ہو گیا ہے۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو امید ظاہر کی تھی کہ ایران کے ساتھ اتوار کو امن معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز سب کے لیے کھول دی جائے گی۔

تاہم ایران کا کہنا ہے کہ اتوار کو معاہدے پر دستخط نہیں ہوں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا