ٹرمپ اتوار کو معاہدے پر دستخط کے لیے پرامید، لیکن ایران نہیں

صدر ٹرمپ کے مطابق اتوار کو امن معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے لیکن ایران کی وزارت خارجہ نے کہا کہ دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے۔

ٹرمپ نو جون، 2026 کو نیویارک کے جان ایف کینیڈی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایئر فورس ون میں سوار ہونے سے پہلے صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو امید ظاہر کی کہ ایران کے ساتھ اتوار کو امن معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز سب کے لیے کھول دی جائے گی۔ تاہم ایران کا کہنا ہے کہ اتوار کو معاہدے پر دستخط نہیں ہوں گے۔

ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر لکھا ’باراک حسین اوباما کا ایران کے ساتھ معاہدہ، یعنی JCPOA، ایک آسان، خوبصورت اور ہموار راستہ تھا ایک ایٹمی ہتھیار تک، جو ایران کے پاس چھ سال پہلے ہی ہوتا اور وہ اسے کب کا استعمال کر چکا ہوتا۔

’میرا ایران کے ساتھ معاہدہ اس کے بالکل برعکس ہے، ایٹمی ہتھیار کے خلاف ایک مضبوط دیوار۔

انہوں نے مزید لکھا ’درحقیقت، اب وہ (ایران) نہ تو ایٹمی ہتھیار چاہتے ہیں اور نہ ہی وہ اسے حاصل کریں گے، چاہے خریداری کے ذریعے، تیاری کے ذریعے یا کسی اور طریقے سے۔

’یہ معاہدہ کل دستخط ہونے والا ہے اور جیسے ہی اس پر دستخط ہوں گے، آبنائے ہرمز سب کے لیے کھول دی جائے گی۔‘

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ایران کے ساتھ ہمارا تعلق پچھلی حکومتوں کے مقابلے میں بالکل مختلف اور بہتر ہے۔

’اوباما کے سینکڑوں ارب ڈالرز کے برعکس، جن میں 1.7 ارب ڈالر نقد بھی شامل تھے، اس معاہدے میں کوئی پیسے کا لین دین نہیں ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا ’ہم ایران اور پورے مشرق وسطیٰ کے ساتھ طویل عرصے تک کام کرنے کے منتظر ہیں۔

’امید ہے یہ عمل جلد، آسانی اور آرام سے مکمل ہو جائے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ہمارے پاس آخری متبادل بھی موجود ہے، جسے ہم امید کرتے ہیں کہ دوبارہ کبھی استعمال نہ کرنا پڑے۔‘

دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے: ایران

ٹرمپ کے بیان کے برعکس ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بقائی نے کہا کہ آنے والے دنوں میں اس یادداشت پر دستخط ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ دستخط کی حتمی تاریخ کے بارے میں کوئی بھی تبصرہ کرتے وقت احتیاط برتنے کی ضرورت ہے کیونکہ دوسرے فریق کی جانب سے ہچکچاہٹ پائی جاتی ہے۔

امریکہ ایران معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کل: پاکستان

پاکستان کی وزارت خارجہ نے ہفتے کو اپنے ایکس بیان میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کی تقریب کل (اتوار کو) ہو گی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے آج سعودی عرب کے وزیر خارجہ، شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ 

’دونوں رہنماؤں نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے آخری مرحلے کا خیرمقدم کیا، جس کی الیکٹرانک دستخطی کل ہو گی اور امید ظاہر کی کہ یہ اہم پیش رفت خطے میں پائیدار امن اور استحکام میں مدد دے گی۔‘

سعودی وزیر خارجہ نے پورے عمل کے دوران پاکستان کی مسلسل اور مؤثر ثالثی اور مذاکرات کی حمایت کو سراہا۔

امریکہ ایران معاہدہ، آئندہ 24 گھنٹوں میں پیش رفت متوقع: وزیراعظم پاکستان

اس سے قبل وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ہفتے کو ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ معاہدہ پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہےاور امکان ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں اسے حتمی شکل دے دی جائے گی۔

 ان کے مطابق معاہدے کے بعد الیکٹرانک دستخط کیے جائیں گے جبکہ اگلے ہفتے تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی متوقع ہیں۔

 وزیراعظم نے مذاکراتی عمل میں تعاون پر امریکہ، ایران اور خطے کے برادر ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ تاریخی معاہدہ خطے میں پائیدار امن کی بنیاد ثابت ہوگا۔

ان کی اس ایکس پوسٹ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا ہے۔

ہفتے کو ہی وزارت خارجہ پاکستان کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے آج سوئٹزرلینڈ کے وزیر خارجہ اگنازیو کاسِس سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔

دونوں رہنماؤں نے امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی جانب ہونے والی حوصلہ افزا پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جاری سفارتی کوششیں خطے میں امن اور استحکام کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں گی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی رابطے برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔

سوئٹزرلینڈ نے اس سے قبل امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی میزبانی کی تجویز پیش کی تھی۔

گذشتہ روز کچھ میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا تھا کہ اسحاق ڈار آج جنیوا جائیں گے تاہم پاکستان کے دفتر خارجہ نے ان اطلاعات کی تردید کر دی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی اور انڈین وزرائے خارجہ کی گفتگو

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق سیکریٹری مارکو روبیو نے انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے گفتگو کی اور دونوں رہنماؤں نے ’آبنائے ہرمز پر حالیہ واقعات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔‘

بیان کے مطابق جے شنکر کے ساتھ گفتگو کے دوران روبیو نے روز دیا کہ ’تمام تجارتی جہاز فوری طور پر امریکی افواج کی ہدایات پر عمل کریں کیونکہ وہ آبنائے ہرمز میں امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘

روبیو نے واضح کیا کہ ’امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی اور ایرانی تیل کی غیر قانونی ٹرانسپورٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔‘

گذشتہ روز اس رابطے کے بارے میں جے شنکر نے ایکس پر لکھا تھا کہ ’میں نے آج شام امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بات کی۔

’میں نے خلیج میں امریکی بحریہ کے حملوں پر انڈیا کا شدید احتجاج دہرایا جن میں تین انڈین ملاح مارے گئے۔ تجارتی جہاز رانی کے خلاف ایسے مہلک اقدامات کا کوئی جواز نہیں۔‘

انڈیا نے عمان کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر پر امریکی حملے میں تین انڈین ملاحوں کی اموات کے معاملے پر سینیئر امریکی سفارت کار کو طلب کیا تھا۔

جمعرات کے روز انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے کے قائم مقام نائب سربراہ جیسن میکس کو طلب کیا تاکہ ’شدید احتجاج‘ ریکارڈ کرایا جائے۔

انڈین ملاحوں کی اموات کے بعد مودی حکومت کے ردعمل کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا