چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کشمیر کی تاریخ میں اتنا مشکل وقت کبھی نہیں آیا جتنا اس وقت ہے، موجودہ صورت حال میں ہر پاکستانی اور ہر کشمیری پریشان ہے، کشمیر میں امن قائم کیا جائے تاکہ عام آدمی معمول کی زندگی گزار سکے۔
پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے ضلع باغ میں جمعے کو انتخابی مہم کے سلسلے میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ مشکل وقت کا بوجھ پونچھ ڈویژن کے عوام اٹھا رہے ہیں، حکومت اور احتجاج کرنے والوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں، وہ صرف زندگی جینا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کا حل بات چیت سے نکل سکتا ہے، کشمیر میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانا ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اچھے ہیں لیکن ن لیگ کا ایک حصہ پیپلز پارٹی اور حکمران جماعت کا اتحاد توڑنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ن لیگ کو غلط فہمی ہے کہ وہ آزاد کشمیر میں حکومت بنانے جا رہے ہیں، اصل میں ان کی اسلام آباد والی حکومت بھی خطرے میں ہے، ان کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے، یہ گنتی پیپلز پارٹی نے شروع نہیں کی، ان کے اپنے لوگوں نے شروع کروائی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی لڑائی تو ہوتی رہتی ہے، اصل لڑائی کچھ اور ہے، ن لیگ کا ایک خاص حصہ وزیراعظم کو اتحادیوں سے لڑوانا چاہتا ہے، اصل لڑائی تو اسلام آباد اور لاہور کی ہورہی ہے یہ ان کے خاندان کا اپنا مسئلہ ہے۔‘
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ کشمیر اسمبلی نے ٹروتھ کمیشن بنانے کی قرارداد منظور کی ہے، لیکن نہ وہ کشمیر میں شفاف انتخابات کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی کمیشن کے قیام کے لیے۔ ’کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی علاقے میں 50 دن تک انٹرنیٹ بند رہا ہو؟‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمیں بتایا گیا کہ شفافیت کے لیے کشمیر میں انتخابات مرحلہ وار کرائے جا رہے ہیں۔ ’میں پوچھتا ہوں کہ کون سے مرحلے میں صاف، شفاف اور پرامن انتخابات ہوئے؟ اگر کشمیر ایک ہے تو الیکشن بھی ایک ہی دن ہونا چاہیے تھا، کشمیر میں انتخابات چھ مراحل میں کیوں کرائے جا رہے ہیں؟‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ پہلے کہا گیا تھا کہ 10 نشستیں تو ان کی جیب میں ہیں، اس کے بعد میرپور اور مظفرآباد میں الیکشن چوری کیا گیا، ابھی 11 نشستیں باقی ہیں، ن لیگ والوں کو پتہ چل جائے گا۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ مظفرآباد میں حکومت بنانے والوں کی اسلام آباد حکومت بھی خطرے میں ہے، ان کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے، بڑے بڑے لوگ کہہ رہے ہیں کہ حکومت گر چکی ہے، ابھی تو آدھا الیکشن باقی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ شیر طاقت اور اقتدار کے بھوکے ہیں، انہیں غلط فہمی ہے کہ مظفرآباد میں حکومت بنائیں گے۔ کشمیر کے صدر اور منتخب ایم این اے پر مظفرآباد میں حملہ کیا گیا، جو قابل افسوس ہے۔
چیئرمین نے کہا کہ پیپلز پارٹی عوام کے ساتھ کل بھی کھڑی تھی اور آج بھی کھڑی ہے، پارٹی اپنے منشور کے تحت انتخابات میں حصہ لیتی ہے اور چاہتی ہے کہ آزاد کشمیر میں صاف و شفاف انتخابات ہوں۔