پاکستان نے جمعرات کو کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے انڈین وزارت خارجہ کے ’بے بنیاد‘ اور ’سیاست پر مبنی‘ بیانات کو مسترد کرتے ہوئے اسے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
یہ بات پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہی۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن جبکہ دوسرے مرحلے میں دو اگست کو مظفر آباد میں ووٹنگ ہوئی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس دوران پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے خدشات کا اظہار بھی کیا تھا۔
ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ ’پاکستان آزاد جموں اور کشمیر میں جاری قانونی ساز اسمبلی کے انتخابات سے متعلق انڈین وزارت خارجہ کے بے بنیاد اور سیاست پر مبنی بیانات کو یکسر مسترد کرتا ہے۔‘
طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ ’انڈیا کے جانب سے ایسے بیانات جاری کیے جانے پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ وہ بھی اس روز جب کشمیر کے سٹیٹس کو غیرقانونی اور یکطرفہ طریقے سے تبدیل کرنے کے عمل کے سات سال مکمل ہوئے۔‘
انہوں نے کہا: ’آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے 13ویں انتخابات پرامن، شفاف اور آئین کے مطابق ہوئے۔ یہ (انتخابات) آزاد کشمیر کے لوگوں کی جمہوری اور سیاسی امنگوں کی عکاسی کرتے ہیں۔‘
انڈین وزارت خارجہ نے 5 اگست کو ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ’سکیورٹی فورسز نے مقامی آبادی کی قیادت میں ہونے والے پرامن شہری حقوق کے احتجاج کو دبانے کے لیے مہلک تشدد، نشانہ بنا کر قتل اور سخت گیر پابندیوں کا سہارا لیا ہے۔‘
بیان میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے مزید کہا گیا کہ ’پانچ اگست 2019 کو کی گئی آئینی تبدیلیاں مکمل طور پر انڈیا کا اندرونی معاملہ ہیں۔ پاکستان کو ان معاملات پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں جو مکمل طور پر انڈیا کے اندرونی معاملات ہیں۔‘
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے انڈین بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ’انڈیا کو آزاد کشمیر کے جمہوری عمل پر تبصرہ کرنے کی قانونی حیثیت اور نہ ہی اخلاقی اتھارٹی حاصل ہے، جبکہ وہ خود غیرقانونی طور پر مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو بنیادی سیاسی حقوق اور جمہوری آزادی دینے سے انکاری ہے۔‘
بقول طاہر اندرابی: ’انڈیا کی جانب سے کشمیر میں اموات کی گمراہ کن تعداد مقبوضہ کشمیر میں اس کی اپنی مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پردہ نہیں ڈال سکتیں، جن کے دستاویزی شواہد موجود ہیں، لہذا ایسے بیانات کا مقصد انڈیا کے مسلسل عالمی انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانا ہے۔‘