پاکستان کا ایران سے توانائی کی بلاتعطل فراہمی، محفوظ بحری آمدورفت پر زور

دونوں وزرائے خارجہ کا علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال، قریبی تعاون جاری رکھنے اور نیویارک میں ملاقات پر اتفاق

ایرانی وزارت خارجہ کی جاری کردہ تصویر میں پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار 24 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ملاقات کر رہے ہیں( اے ایف پی)

 پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ہفتے کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں توانائی کی بلاتعطل فراہمی اور بحری جہازوں کی محفوظ اور تیز رفتار آمدورفت کی اہمیت پر زور دیا۔

دفتر خارجہ کی جانب سے ایکس پر جاری بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے کہا کہ توانائی کی فراہمی اور بحری نقل و حرکت میں رکاوٹوں کے اثرات ترقی پذیر ممالک اور عالمی سپلائی چینز پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔

 خطے میں جاری کشیدگی کے باعث توانائی کی سپلائی اور بحری راستوں کی صورت حال پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے لیے اہم بن گئی ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بیرونی ذرائع پر انحصار کرتا ہے، اس لیے خطے میں تیل، گیس اور دیگر توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ عالمی سپلائی چین کے ساتھ پاکستان کا توانائی کا شعبہ بھی متاثر ہوا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

اسی تناظر میں پاکستانی وزیر خارجہ نے ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں توانائی کی بلاتعطل فراہمی اور بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت پر زور دیا۔

اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن اور استحکام یقینی بنانے کا قابلِ عمل راستہ مذاکرات اور سفارت کاری ہے۔ دونوں رہنماؤں نے تازہ علاقائی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

دونوں وزرائے خارجہ نے قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا اور اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا۔

 

 

ایران اور خلیجی خطے میں کشیدگی کے باعث توانائی کی عالمی سپلائی اور اہم بحری راستوں کی سلامتی ایک بار پھر اہم معاملہ بن گئی ہے۔ خطے سے تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی بڑی مقدار عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے، اس لیے بحری آمدورفت میں رکاوٹ یا سپلائی متاثر ہونے کی صورت میں عالمی قیمتوں اور درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ پاکستان بھی اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ درآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے، اس لیے علاقائی صورتحال اس کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے توانائی، تجارت اور سرحدی تعاون کے معاملات زیرِ بحث رہے ہیں۔ موجودہ علاقائی صورتحال میں اسلام آباد کی جانب سے توانائی کی بلاتعطل فراہمی اور بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت پر زور اسی وسیع تر تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے ایسے وقت میں بھی جاری ہیں جب ایران کی جانب سے اسلام آباد معاہدے کی بحالی کے لیے بین الاقوامی سفارتی کوششوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان