کیا جاپان میں آنے والا حالیہ زلزلہ انسانوں کا لایا ہوا تھا؟

بعض سوشل میڈیا پوسٹوں میں دعویٰ کیا گیا کہ زلزلے کے جھٹکے کسی دھماکے کا نتیجہ تھے جب کہ بعض پوسٹس میں زلزلے سے ہی انکار کر دیا گیا۔

28 جولائی کے زلزلے کے بعد تین اگست، 2026 کو کماموتو علاقے کے شہر اوکی میں ایک شخص تباہ شدہ سڑک پر چل رہا ہے (اے ایف پی)

جاپان میں آنے والے ایک حالیہ زلزلے کے بارے میں سوشل میڈیا پر جھوٹے دعوے گردش کر رہے ہیں، جن میں زلزلہ آنے سے مکمل انکار سے لے کر تباہی کی جعلی تصاویر تک شامل ہیں۔ اس زلزلے کے نتیجے میں 38 اموات ہوئیں۔

6.8 شدت کے زلزلے نے 28 جولائی کو کماموتو کے علاقے میں واقع جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ کاشیما میں ایک شاپنگ سینٹر کا کچھ حصہ اس وقت گر گیا جب عمارت کے اندر ہزاروں افراد موجود تھے۔ زلزلے کے بعد تقریباً تین لاکھ رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا حکم دیا گیا۔

مقامی حکومت نے پیر کو بتایا کہ زلزلے سے 38 افراد جان سے گئے اور 120 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

اس بارے میں پھیلائے جانے والے جھوٹے دعوؤں میں سب سے نمایاں یہ ہے کہ گذشتہ کئی زلزلوں کی طرح یہ زلزلہ بھی انسانوں نے پیدا کیا تھا۔

نگرانی کرنے والی امریکی کمپنی میلٹ واٹر کے تجزیے کے مطابق کیوشو میں زلزلہ آنے سے پہلے کے دنوں میں جاپانی زبان میں ’مصنوعی زلزلے‘ کا ذکر کرنے والی پوسٹس کی تعداد سینکڑوں میں تھی۔ زلزلے کے دن یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 10 ہزار اور اگلے دن 38 ہزار ہو گئی۔

ایسی پوسٹس اب بھی روزانہ لاکھوں کی تعداد میں سامنے آ رہی ہیں، تاہم ان میں سے بہت سی اس دعوے کو پھیلانے کے بجائے اس کی تردید کر رہی ہیں۔

زلزلوں کے بارے میں جھوٹے دعوے پھیلانے والے ایک اکاؤنٹ نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ ریکارڈ کیے گئے اعداد زلزلے کی بجائے دھماکے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس پوسٹ کو تقریباً 30 لاکھ بار دیکھا گیا۔

مصنوعی زلزلوں کے دعوے اتنے زیادہ پھیل چکے ہیں کہ جاپان میں زلزلوں کے سائنس دانوں کی مرکزی تنظیم سیسمولوجیکل سوسائٹی آف جاپان نے اس نظریے کی وضاحت کے لیے اپنی ویب سائٹ پر ایک الگ حصہ شامل کیا ہے اور اسے ناقابلِ عمل قرار دیا ہے۔

سوسائٹی کے مطابق حقیقی زلزلے جتنی گہرائی میں دھماکہ کرنے کے لیے زمین میں 10 کلومیٹر یا اس سے زیادہ گہرا سوراخ کرنا پڑے گا، جس پر بہت زیادہ وقت اور پیسہ خرچ ہوگا۔ اس کے علاوہ اتنی بڑی مقدار میں توانائی پیدا کرنا بھی مزید مشکلات کا باعث ہوگا۔

ایٹمی تجربات بھی زلزلہ پیما آلات پر ریکارڈ ہوتے ہیں، لیکن سوسائٹی کا کہنا ہے کہ کسی گہرے سوراخ کی تہہ میں دھماکہ خیز مواد پھاڑنے کی ٹیکنالوجی ابھی تیار نہیں ہوئی۔ دنیا کا اب تک کا سب سے گہرا سوراخ، سوویت یونین میں واقع کولا سپرڈیپ بورہول، تقریباً 20 سال کی محنت کے بعد تقریباً 12.3 کلومیٹر گہرائی تک پہنچا تھا۔

جاپان ٹائمز کے مطابق سوشل میڈیا پر بعض لوگوں نے اس بات سے ہی انکار کر دیا کہ زلزلہ آیا تھا۔ اخبار نے جاپانی اور دوسری زبانوں میں پھیلنے والے مواد کا جائزہ لیا اور بتایا کہ ان لوگوں نے جاپان کے سرکاری نشریاتی ادارے این ایچ کے کی نشر کردہ ہلتی ہوئی ویڈیوز کو جعلی قرار دیا۔

ایون مال کو شعلوں کی زد میں دکھانے والی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر بھی پھیلائی گئیں۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی بعض پوسٹس میں کہا گیا کہ مال میں ہونے والا دھماکہ، جو اطلاعات کے مطابق گیس پائپوں کو نقصان پہنچنے سے ہوا تھا، ایک ڈراما تھا یا اس کی حقیقت چھپائی جا رہی تھی۔

اخبار کے مطابق سیاسی مقاصد کے تحت پھیلائے گئے زیادہ تر مواد میں غیر ملکیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

انتہائی دائیں بازو کے لوگوں نے ان خبروں کو ’امیگریشن کے حق میں پروپیگنڈا' قرار دیا، جن میں بتایا گیا تھا کہ نوجوان ویت نامی باشندوں نے ملبے تلے دبی ایک معمر خاتون کو نکالنے میں مدد کی۔

دوسرے صارفین نے غیر ملکیوں پر چوری اور آگ لگانے کے الزامات عائد کیے۔ انہوں نے ایک ویڈیو بھی پھیلائی جس میں کچھ لوگ ایک سٹور کے باہر بیٹھے چاول کے گولے کھا رہے تھے۔ ان صارفین کا دعویٰ تھا کہ یہ کھانا چوری کیا گیا تھا۔

ویڈیو بنانے والے شخص نے تھریڈز پر بتایا کہ یہ کھانا ہنگامی امدادی سامان تھا جو جاپانی اور غیر ملکی کارکنوں، دونوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔

اس نے کہا کہ اس نے ویڈیو ہٹا دی، دوسروں سے بھی اسے شیئر نہ کرنے کی درخواست کی اور معاملے کی اطلاع پولیس کو دی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس نے لکھا کہ اپنی ویڈیو کو امیگریشن مخالف جذبات بھڑکانے کے لیے استعمال ہوتے دیکھ کر اسے اس تجربے سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔

جاپان ٹائمز کے مطابق تائیوان کی جانب سے مدد کی پیش کش کے بارے میں بھی جھوٹے دعوے سامنے آئے۔ انسٹاگرام اور ایکس پر بااثر اکاؤنٹس نے بڑے پیمانے پر ایسی تصاویر شیئر کیں، جن کے بارے میں کہا گیا کہ ان میں کماموتو میں موجود تائیوانی امدادی ٹیموں کا پہنا ہوا بیج دکھائی دے رہا ہے۔

تاہم اخبار نے پتہ لگایا کہ یہ بیج تائیوان کی ایک کمپنی کی جانب سے آن لائن پیشگی آرڈر پر فروخت کی جانے والی اشیا تھے۔ کمپنی نے کہا کہ ان کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کماموتو کے لیے جاپان کی وزارت خارجہ کے امدادی اکاؤنٹ میں عطیہ کی جا رہی ہے۔

آن لائن پھیلنے والے دعوؤں کی جانچ کرنے والے غیر منافع بخش ادارے جاپان فیکٹ چیک سینٹر کا کہنا ہے کہ ایسے نظریات وہ لوگ بھی پھیلاتے ہیں، جو ان پر یقین رکھتے ہیں اور وہ لوگ بھی جو جانتے ہیں کہ یہ جھوٹے ہیں۔ 

کیوڈو نیوز کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کو لوگوں کی توجہ اور ردعمل حاصل کرنے کے بدلے رقم دینے کا نظام بھی ایسے مواد کے پھیلاؤ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

سینٹر کے چیف ایڈیٹر دائی سوکے فورتا نے یومیوری شمبن سے کہا: ’جب آپ کو کوئی غیر معمولی اور توجہ کھینچنے والی اطلاع ملے تو سرکاری اداروں اور میڈیا تنظیموں کی جاری کردہ معلومات سے اس کا موازنہ کرکے فیصلہ کریں کہ یہ سچی ہے یا نہیں۔‘

اپریل 2016 میں جاپان میں آنے والے زلزلوں میں 277 افراد جان سے گئے تھے۔ اس کے بعد ایک جھوٹی خبر بڑے پیمانے پر پھیلی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایک شیر چڑیا گھر سے فرار ہو گیا ہے۔ اس پر ایک 20 سالہ شخص کو گرفتار کیا گیا، تاہم اس کے معافی مانگنے کے بعد الزامات واپس لے لیے گئے۔ گذشتہ ہفتے یہی دعویٰ نئی شکل میں سامنے آیا۔

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا