جاپان میں شدید گرمی کے باعث چڑیا گھر کے تین شیر مر گئے

1964 میں اس پارک میں شیروں کی آمد شروع ہونے کے بعد یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

 9 اپریل 2014 کی اس تصویر میں مشرقی جاپان کے صوبہ ایباراکی کے شہر ہیتاچی میں واقع کامینے چڑیا گھر میں موجود ایک شیر (اے ایف پی)

جاپان میں ریکارڈ گرمی کی لہر کے دوران ٹوکیو کے ایک چڑیا گھر میں مبینہ طور پر ہیٹ سٹروک کے باعث تین شیرنیوں کی اموات ہوئی ہیں۔ 1964 میں اس پارک میں شیروں کی آمد شروع ہونے کے بعد یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

ٹوکیو کی میٹروپولیٹن حکومت اور ٹوکیو زولوجیکل پارک سوسائٹی نے پیر کو بتایا کہ 3، 11 اور 15 سال عمر کی تین شیرنیوں کی اموات دارالحکومت کے مغربی نواحی علاقے ہینو میں واقع تاما زولوجیکل پارک میں 28 جولائی سے دو اگست کے درمیان ہوئیں۔

پوسٹ مارٹم میں تینوں کے جسم میں شدید پانی کی کمی اور متعدد اعضا کے ناکارہ ہونے کے شواہد ملے، تاہم چڑیا گھر کا کہنا ہے کہ حتمی وجہ کا تعین لیبارٹری رپورٹ آنے کے بعد ہی کیا جائے گا۔

جولائی کے وسط میں درجہ حرارت بڑھنے کے بعد پارک کے 16 میں سے 10 شیروں کو علاج کی ضرورت پیش آئی۔ 18 جولائی کو نگہداشت کرنے والے عملے نے پہلے دو شیروں کا بھوک کم ہونے پر علاج شروع کیا، تاہم چند ہی دنوں میں یہی علامات دوسرے شیروں میں بھی ظاہر ہو گئیں۔ بعض شیر کھڑے ہونے کے قابل بھی نہیں رہے۔

عملے نے پنکھوں اور پانی کے چھڑکاؤ سے جانوروں کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کی اور انہیں ادویات بھی دیں۔ ان کی حالت بگڑنے پر 23 جولائی کو شیروں کا احاطہ عوام کے لیے بند کر دیا گیا۔ ایک شیرنی اور دو نر شیر اب بھی زیر علاج ہیں، جبکہ پارک نے یہ نہیں بتایا کہ یہ حصہ دوبارہ کب کھولا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چڑیا گھر کی نمائندہ میوا کوساکا نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا: ’ہم نے اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں دیکھا۔ گذشتہ سال بھی گرمی زیادہ تھی، لیکن ہمارے کسی شیر کی حالت اس طرح خراب نہیں ہوئی تھی۔‘

پارک میں 1964 سے شیروں کی افزائش اور نمائش کی جا رہی ہے۔ جولائی تک یہاں 16 شیر موجود تھے، جن میں پانچ نر اور 11 مادہ شیر شامل تھے، جن کی عمریں ایک سے 20 سال کے درمیان تھیں۔

یہ اموات ایسے موسم گرما میں ہوئی ہیں جسے جاپان کی فائر اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے ’آفت‘ قرار دیا ہے، حالانکہ وہ عموماً یہ اصطلاح زلزلوں اور سمندری طوفانوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔ بعض شہروں میں ایسے دن ریکارڈ کیے گئے جنہیں ’انتہائی سفاک گرمی والے دن‘ کہا گیا، یعنی جب درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جائے۔

20 سے 26 جولائی کے درمیان گرمی سے متعلق بیماریوں کے باعث 18 ہزار 591 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ 45 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ان میں تقریباً 58 فیصد مریضوں کی عمر 65 سال یا اس سے زیادہ تھی۔ تمام صوبوں میں ٹوکیو میں ایسے مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی۔

جاپان میں 25 جولائی تک مسلسل پانچ دن درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جو اس نوعیت کے ریکارڈ رکھے جانے کے بعد سب سے طویل سلسلہ ہے۔

محکمہ موسمیات نے اسی سال ایسے دنوں کے لیے ’کوکوشوبی‘ (Kokushobi)  یا ’انتہائی سفاک گرمی کا دن‘ کی اصطلاح متعارف کروائی، جسے تقریباً چار لاکھ 78 ہزار عوامی آرا کی بنیاد پر منتخب کیا گیا۔ 2007 کے بعد گرمی سے متعلق درجہ بندی میں یہ پہلی نئی اصطلاح ہے۔

ہفتے کے روز وسطی ٹوکیو میں درجہ حرارت 36.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ دارالحکومت کے مغرب میں واقع ہاماماتسو میں پارہ 39.7 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔

ہفتے اور اتوار کو جاپان کے 47 میں سے 30 صوبوں میں ہیٹ سٹروک کے انتباہات جاری رہے جبکہ محکمہ موسمیات کے مطابق گرمی کی شدت برقرار رہنے کا امکان ہے اور جنوب مغربی شہر ہیتا میں 40 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

ملک کے بیشتر حصوں میں رات کے وقت بھی درجہ حرارت 25 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس سے انسانوں اور جانوروں دونوں کو رات کے وقت بھی خاطر خواہ راحت نہیں مل رہی۔

شیر قدرتی طور پر افریقہ کے صحارا کے جنوب میں واقع علاقوں اور مغربی انڈیا کے ایک چھوٹے جنگلاتی محفوظ علاقے میں پائے جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ علاقے بھی گرم ہیں، لیکن جاپان کے موسم گرما کے مقابلے میں کہیں زیادہ خشک ہوتے ہیں، جبکہ جاپان میں نمی بہت زیادہ ہوتی ہے اور رات کے وقت درجہ حرارت میں بھی زیادہ کمی نہیں آتی۔

جاپان بھر کے چڑیا گھروں میں موسم گرما کے دوران جانوروں کو ٹھنڈا رکھنے کے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب شدید گرمی نے جنوب مغربی جاپان کے کماموتو میں آنے والے زلزلے کے بعد امدادی کارروائیوں کو بھی متاثر کیا ہے، جہاں بحالی کے عملے کو ہدایت دی گئی ہے کہ دن کے شدید گرم اوقات میں کام سے گریز کریں۔

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا