سعودی عرب میں حوثیوں کا حملہ، پاکستانی شہری سمیت 11 زخمی

سعودی قیادت میں فوجی اتحاد کے مطابق زخمیوں میں سات سعودی ، ایک یمنی، دو مصری اور ایک پاکستانی شہری شامل ہیں۔

یمن کی حوثی تحریک کا ایک رکن 14 ستمبر، 2020 کو دارالحکومت صنعا میں ایک ریلی کے دوران چوکس کھڑا ہے (اے ایف پی)

یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے سعودی عرب کی زیرقیادت اتحاد نے جمعے کو بتایا ہے کہ جنوبی سرحدی علاقے نجران پر حوثیوں کے حملے میں 11 شہری زخمی ہو گئے، جن میں ایک پاکستانی شہری بھی شامل ہے۔

 یہ حملہ حوثیوں کی جانب سے یمن میں سرکاری فورسز پر 2022 کے بعد کے سب سے جان لیوا حملے کے ایک دن بعد کیا گیا۔

اتحادی افواج کی مشترکہ کمان نے بتایا کہ شہری جمعرات کی رات گئے اس وقت زخمی ہوئے جب حوثیوں کی جانب سے اندھادھند کی گئی گولہ باری کے دوران کچھ گولے نجران کے شہری علاقوں میں آ گرے۔

زخمیوں میں سات سعودی شہری، ایک یمنی، دو مصری اور ایک پاکستانی شہری شامل ہیں۔ اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق سعودی زخمیوں میں ایک خاتون اور چار سالہ بچہ بھی شامل ہیں، جن کے جسم پر دوسرے درجے کے زخم آئے۔

ترکی المالکی نے حوثیوں پر بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جان بوجھ کر شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔

 انہوں نے کہا کہ اتحادی افواج شہریوں کو مزید حملوں سے بچانے کے لیے ’تمام ضروری تادیبی اقدامات‘ جاری رکھیں گی۔‘

سرحدی علاقے پر یہ حملہ مآرب اور حضرموت کی گورنریوں میں فوجی کیمپوں پر حوثیوں کے بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملوں کے چند گھنٹے بعد ہوا۔

اے ایف پی کے حوالے سے مقامی ذرائع کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 58 سرکاری فوجی مارے گئے اور درجنوں زخمی ہوئے۔ یہ 2022 کے بعد یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی افواج پر سب سے جان لیوا حملہ تھا۔

اتحاد نے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے سعودی عرب کی حمایت کا اعادہ کیا۔ اس نے مارے جانے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

ان حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یمن کی سکیورٹی صورت حال تیزی سے خراب ہو رہی ہے۔ گذشتہ ماہ ملک کا طویل تنازع خطے میں جاری وسیع کشیدگی سے جڑ گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دارالحکومت صنعا اور شمالی یمن کے بیشتر علاقوں پر قابض حوثیوں نے صنعا میں ایک ایرانی طیارے کا خیرمقدم کرنے کے بعد سعودی حمایت یافتہ حکومت کے ساتھ کمزور جنگ بندی ختم کر دی، جس سے لڑائی کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بعد میں اس گروپ نے سعودی بندرگاہوں کی سمندری ناکہ بندی کا اعلان کیا اور سعودی عرب سے منسلک بحری جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔

طبی حکام کے مطابق گذشتہ ماہ حوثی عسکریت پسندوں نے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر الحدیدہ کے جنوب میں حکومت کی حامی افواج کے 16 اہلکاروں کو بھی مار دیا تھا۔

2014 میں حوثیوں کے صنعا پر قبضے کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے یمن کو ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں تباہ کر دیا ہے۔ اس جنگ میں لاکھوں افراد مارے جا چکے ہیں اور دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک پیدا ہوا ہے۔

اگرچہ 2022 میں اقوام متحدہ کی کوششوں سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد لڑائی میں نمایاں کمی آئی تھی، لیکن تازہ حملوں سے خدشات بڑھ گئے ہیں کہ یہ تنازع ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا