برکس میں شامل گیارہ رکنی اتحاد نے ہفتے کو مشرق وسطیٰ اور مغربی ایشیا میں کشیدگی پر مسلسل اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ ممالک زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔
چین، روس، ایران اور انڈیا سمیت 11 ملکی اتحاد برکس کے ارکان نے ہفتے کو نئی دہلی میں سربراہ اجلاس میں اپنے سابقہ اختلافات پر قابو پاتے ہوئے ایک مشترکہ بیان جاری کیا اور مشرق وسطیٰ میں تحمل کے مظاہرے پر زور دیا۔
برکس سربراہ اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’ہم مشرق وسطیٰ/مغربی ایشیا میں کشیدگی میں مسلسل اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ رکن ممالک ’زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات سے گریز کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں جن سے صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔‘
چینی صدر شی جن پنگ نے، جو انڈیا کے دارالحکومت میں روسی، ایرانی، انڈین اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ اجلاس میں شریک تھے، سربراہ اجلاس کو بتایا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ ’بین الاقوامی برادری کے مشترکہ مفادات میں نہیں ہے۔‘
برکس وزرائے خارجہ مئی میں نئی دہلی میں ہونے والے اجلاس میں ایک مشترکہ بیان پر متفق ہونے میں ناکام رہے تھے، جہاں ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہونے والی جنگ پر تقسیم کا شکار تھے۔
لیکن میزبان انڈیا کی بھرپور سفارتی کوششوں کے بعد رہنماؤں نے ہفتے کو ایک بیان جاری کیا۔
یہ اتحاد اپنا عالمی اثر و رسوخ بڑھانے اور تنازعات، تجارتی عدم استحکام اور توانائی کی سکیورٹی جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہے۔
برکس 2009 میں ابھرتی ہوئی بڑی معیشتوں کے فورم کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد مغربی طاقتوں کے زیراثر عالمی اداروں میں زیادہ اثرورسوخ حاصل کرنا تھا۔
نئی دہلی میں دو روزہ اجلاس کے آغاز پر انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے چینی صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادی میر پوتن، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دیگر رہنماؤں سے کہا: ’ہمیں مراعات کے اس نظام کو شراکت داری کے پلیٹ فارم میں بدلنا ہوگا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مودی کے مطابق برکس ممالک دنیا کی 50 فیصد آبادی، عالمی معیشت کے 40 فیصد اور عالمی تجارت کے 25 فیصد سے زیادہ حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ تاہم گروپ کے مختلف ممالک کے مفادات میں توازن قائم رکھنا ایک مشکل سفارتی کام ہے۔
انڈیا کے ایران اور امریکہ کے اتحادی اسرائیل، دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، جب کہ وہ واشنگٹن سے تعلقات میں بھی محتاط توازن برقرار رکھتا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اجلاس میں شرکت سے کچھ ہی پہلے کہا تھا کہ مشرق وسطیٰ کو امریکہ کے ’علاقائی پولیس اہلکار‘ بننے کی ضرورت نہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ جاری ہے اور کشیدگی کے باعث اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بھی خطرہ ہے۔
اجلاس کے موقع پر پزشکیان نے ابوظبی کے ولی عہد خالد بن محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی۔
انڈیا نے امریکہ ایران جنگ سے پیدا ہونے والے توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے کسی حد تک روس کا رخ کیا ہے۔ اس نے یوکرین جنگ اور امریکہ سمیت دیگر مغربی ممالک کے دباؤ کے باوجود روس کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے ہیں۔
مودی نے جمعے کو مذاکرات سے پہلے پوتن کو گلے لگایا۔ دسمبر 2025 میں انڈیا کا دورہ کرنے والے پوتن نئی دہلی کے اہم ترین تزویراتی شراکت داروں میں شامل ہیں۔