کمشنر ملتان ڈویژن کے مطابق 30 سے زائد خصوصی اداروں میں جب 3030 بچوں کی سکریننگ کی گئی تو یہ انکشاف ہوا کہ 300 سے زائد بچے محض ایک ہیئرنگ ایڈ نہ ہونے کی وجہ سے قوتِ سماعت سے محروم ہیں۔
ملتان اندرون شہر کے رہائشیوں کے مطابق رات کے دو بجے بھی کوئی مدد کو بلا لے تو محلے والے پہنچ جاتے ہیں۔ یہی اپنائیت ہے جو ہمیں یہ شہر چھوڑنے نہیں دیتی لیکن مشکلات بہرحال اپنی جگہ ہیں۔