ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران ایک ہفتے میں کم از کم 16 افراد جان سے گئے ہیں جبکہ سینکڑوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ بات انسانی حقوق کی تنظیموں نے اتوار کو بتائی۔
ایران بھر میں احتجاجی مظاہرے شدید مہنگائی اور معاشی بدحالی کے باعث شروع ہوئے، جو ابتدا میں بازاروں کے تاجروں اور دکان داروں تک محدود تھے۔
بعد ازاں یہ یونیورسٹی طلبہ اور مختلف صوبائی شہروں تک پھیل گئے۔ بعض شہروں میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم ہینگاو کے مطابق احتجاج شروع ہونے کے بعد سے کم از کم 17 افراد جان سے گئے جبکہ انسانی حقوق کے کارکنوں کے نیٹ ورک HRANA نے 16 اموات اور 582 گرفتاریوں کی تصدیق کی۔
تاہم سرکاری ذرائع اور انسانی حقوق کی اداروں کے اعدادوشمار میں فرق پایا جاتا ہے اور روئٹرز ان اعدادوشمار کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
ایرانی پولیس چیف احمد رضا رادان نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ گذشتہ دو دنوں میں احتجاج کی قیادت کرنے والے افراد کو نشانہ بنایا گیا اور سوشل میڈیا پر سرگرم کئی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا۔
پولیس کے مطابق صرف تہران میں 40 افراد کو ’جعلی پوسٹس‘ کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سب سے شدید جھڑپیں ایران کے مغربی علاقوں میں رپورٹ ہوئی ہیں۔
تاہم تہران اور جنوبی صوبہ سیستان بلوچستان میں بھی احتجاج اور تصادم کی اطلاعات ہیں۔
قم کے گورنر کے مطابق وہاں بدامنی کے دوران دو افراد جان سے گئے، جن میں سے ایک شخص اپنے تیار کردہ دھماکہ خیز مواد کے قبل از وقت پھٹنے سے مارا گیا۔
ایران اس وقت 36 فیصد سے زائد مہنگائی، کرنسی کی قدر میں شدید کمی اور بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔
ایرانی ریال ڈالر کے مقابلے میں اپنی تقریباً نصف قدر کھو چکا ہے، جس سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہرین کے خلاف تشدد کی صورت میں کارروائی کی دھمکی دی ہے، جس پر ایرانی قیادت نے سخت ردعمل دیا۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران ’دشمن کے سامنے نہیں جھکے گا‘۔
ایرانی نائب صدر محمد رضا عارف نے اتوار کو کہا کہ حکومت معاشی مسائل کا اعتراف کرتی ہے۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ بعض عناصر احتجاج کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔