پاکستان کے وزیراعظم کے ایک ترجمان نے کہا کہ افغان طالبان حکومت کی فورسز نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں طورخم اور تیراہ کے سرحدی علاقوں میں فائرنگ کی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے لیے پاکستانی وزیراعظم کے ترجمان مشرف زیدی نے منگل کی رات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ افغان طالبان حکومت نے طورخم اور تیراہ میں پاکستان افغانستان سرحد پر بلااشتعال فائرنگ کی۔
پشاور میں انڈپینڈنٹ اردو کے نامہ نگار اظہار اللہ کو ذرائع نے منگل کی رات بتایا کہ پاکستان افغانستان سرحد (ڈیورنڈ لائن) پر مختلف علاقوں میں افغان فورسز اور پاکستانی فوج کے درمیان جھڑپیں ہو رہی ہیں۔
بعد ازاں مشرف زیدی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں پاکستان افغانستان بارڈر پر فائرنگ کی تصدیق کی اور خبردار بھی کیا کہ افغانستان کی طرف سے مزید اشتعال انگیزی کا ’فوری اور سخت‘ جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان اپنے شہریوں کی حفاظت اور اپنی علاقائی سالمیت کی حفاظت جاری رکھے گا۔‘
افغان میڈیا نے کہا کہ پاکستان کی سرحد کے ساتھ واقع اضلاع طورخم، نازیان اور آچن میں لڑائی ہوئی، نازیان اور آچن میں ہلکے اور بھاری اسلحہ کا استعمال ہوا۔
پاکستان نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں افغانستان کے ننگرہار اور پکتیکا صوبوں میں عسکریت پسندوں کے سات کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا اور ان حملوں میں پاکستانی حکام کے مطابق 80 سے زیادہ عسکریت پسند مارے گئے تھے۔
گذشتہ سال اکتوبر میں بھی پاکستان نے افغانستان کے اندر عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا تھا جس کے بعد سے دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان سرحدی علاقوں میں شدید فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے دونوں جانب اموات ہوئیں۔
پاکستانی وزارت اطلاعات کے اتوار کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر حالیہ فضائی حملے پاکستان کے اندر کئی دہشت گردانہ حملوں کے جواب میں کیے گئے۔
پاکستان میں حال ہی میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی کی ایک مسجد میں خودکش بم حملے کے نتیجے میں بیسیوں فراد جان سے مارے گئے تھے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسی طرح خیبر پختونخوا کے اضلاع بنوں اور باجوڑ میں سکیورٹی فورسز پر متعدد حملے ہوئے جن کے نتیجے میں لیفٹیننٹ کرنل سمیت کئی فوجی مارے گئے۔
وزارت اطلاعات کے بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان کے پاس حتمی شواہد موجود ہیں کہ دہشت گردی کی یہ کارروائیاں خوارج نے اپنی افغانستان میں مقیم قیادت اور ہینڈلرز کے کہنے پر کی تھیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کی حکومت کو دہشت گرد گروپوں اور غیر ملکی پراکسیوں کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین کے استعمال سے روکنے کے لیے قابل تصدیق اقدامات کرنے پر زور دینے کی بار بار کوششوں کے باوجود، افغان طالبان حکومت ان کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی کرنے میں ناکام رہی۔‘