پاکستان نے افغانستان میں اپنی فضائی کارروائی کے بعد عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافے کے خدشے کے پیش نظر سکیورٹی سخت کر دی ہے اور درجنوں مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بدھ کو روئٹرز کو بتایا: ’ہمارے سکیورٹی دستے کسی بھی حملے سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ پر ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ جب بھی ہم افغانستان میں ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہیں تو شدت پسند ردعمل ضرور دیتے ہیں۔‘
پاکستان نے گذشتہ ہفتے کے اختتام پر افغانستان میں ان اہداف پر فضائی حملے کیے، جنہیں اس نے حالیہ خودکش حملوں کے ذمہ دار عسکریت پسند قرار دیا۔
اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ کابل عسکریت پسندوں کو افغانستان کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے جبکہ کابل ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ عسکریت پسندی پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے۔
منگل کو پاکستان اور افغانستان کی افواج کے درمیان سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، جس میں دونوں جانب سے ایک دوسرے پر جھڑپیں شروع کرنے کا الزام لگایا گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حالیہ دنوں میں عسکریت پسندوں کے متعدد حملے بھی ہوئے، جن میں خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں پولیس کی گاڑی پر گھات لگا کر حملہ شامل ہے، جس میں پانچ اہلکار اور دو شہری جان سے گئے جبکہ ایک چیک پوسٹ پر خودکش حملے میں دو پولیس اہلکاروں کی جان گئی۔
وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ عسکریت پسندوں کی جوابی کارروائیاں اسلام آباد کے اس مؤقف کو مضبوط کرتی ہیں کہ ان کے روابط افغانستان میں موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی فورسز نے حالیہ ہفتوں میں کئی حملے ناکام بنائے اور متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا، جن میں افغان باشندے بھی شامل ہیں۔
وزیر مملکت کے مطابق سکیورٹی فورسز نے سرچ اور انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشنز تیز کر دیے ہیں اور ’درجنوں مشتبہ شدت پسندوں، ان کے سہولت کاروں اور معاونین کو گرفتار کیا گیا ہے۔‘
متعدد ذرائع کے مطابق پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے آنے والے دنوں میں عسکریت پسند حملوں میں اضافے کے خدشے پر الرٹ جاری کیے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ شہری مراکز، بازار، سکیورٹی فورسز اور عبادت گاہیں ممکنہ اہداف ہو سکتے ہیں۔
ایک انٹیلی جنس اہلکار نے کہا: ’سرکاری مراسلات میں ہمیں مزید دہشت گرد حملوں کے بارے میں سخت وارننگ دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں ہم نے ملک بھر میں اپنے سرچ آپریشنز تقریباً دگنے کر دیے ہیں۔‘
ایک اور انٹیلی جنس اہلکار نے بتایا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان پہلے ہی عسکریت پسند کے حملوں کی زد میں ہیں اور ’ہمیں خدشہ ہے کہ افغانستان پنجاب اور سندھ میں دہشت گرد نیٹ ورکس کے ذریعے پاکستان کے خلاف ردعمل دکھا سکتا ہے۔‘
عسکریت پسندی پاکستان کے لیے ایک بڑھتا ہوا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ عالمی نگرانی تنظیم اے سی ایل ای ڈی کے مطابق 2022 کے بعد ہر سال حملوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 2022 میں 658 عسکریت پسند حملے ہوئے جن میں 2025 میں تقریباً چار گنا اضافہ اور 2,425 حملے ہوئے جبکہ اسی عرصے میں ٹی ٹی پی کے حملے 118 سے بڑھ کر 838 ہو گئے، جو سات گنا سے زیادہ اضافہ ہے۔