وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعرات کو کہا کہ ’یوم تکبیر‘ پاکستان کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن لمحہ ہے جب انڈیا کہ ’جنگی جنون اور انتہا پسند سوچ‘ پر مبنی جوہری تجربات کا جواب دانشمندی سے دیا گیا۔
پاکستان نے آج سے 28 سال قبل انڈیا کے ایٹمی تجربات کے جواب میں 28 مئی 1998 کو ایٹمی تجربہ کیا تھا۔ یہ ایک ایسا فیصلہ کیا تھا جس نے دنیا میں اس کا مقام بدل دیا۔
اس دن کی مناسبت سے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’انڈیا کے ایٹمی تجربات کے جواب میں پاکستان نے کامیابی سے اپنے ایٹمی تجربات کیے جس نے نہ صرف جنوبی ایشیا میں تزویراتی توازن بحال کیا بلکہ دنیا کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان اپنی دفاعی خودمختاری اور سالمیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔‘
وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ’انڈیا نے اپنے ایٹمی تجربات جنگی جنون، انتہا پسند سوچ اور توسیع پسند عزائم کے تحت کیے۔ پاکستان نے دانشمندی اور پختہ عزم کے ساتھ جواب دیا اور بروقت و فیصلہ کن اقدام سے دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’شدید عالمی دباؤ، معاشی پابندیوں کی دھمکیوں اور پاکستان کو روکنے کے لیے مالی ترغیبات کے باوجود نواز شریف ثابت قدم رہے اور پاکستان کی آزادی، وقار اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔‘
پاکستانی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ’یومِ تکبیر صرف ایٹمی دھماکوں کی یاد نہیں بلکہ یہ قومی خودداری، اتحاد، قربانی اور وطن کے دفاع کے غیر متزلزل عزم کی علامت ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس موقع پر پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے بھی ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت عسکری قیادت نے پاکستانی عوام کو مبارک باد پیش کی۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یومِ تکبیر 28 مئی 1998 کے اس تاریخی کارنامے کی یاد دلاتا ہے جب پاکستان ایٹمی طاقت بن کر ابھرا اور جنوبی ایشیا میں تزویراتی توازن بحال کیا۔
آج سے 28 سال قبل پاکستان نے جوہری تجربات اس وقت کیے تھے جب انڈیا نے 11 اور 13 مئی کو سلسلہ وار جوہری تجربات کیے۔
صرف چند روز بعد 28 مئی کو پاکستان نے اس کا جواب دیا اور 28 مئی 1998 کو چاغی میں اپنے جوہری آلات کا تجربہ کیا۔
پاکستان نے جوہری تجربات کیے تو اسے امریکی پابندیوں اور بین الاقوامی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔
تاہم وقت کے ساتھ پاکستان کو اس کے جوہری پروگرام پر سزا دینے کے بجائے ایک جوہری حقیقت کے طور پر قبول کیا جانے لگا۔