صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو خبردار کیا کہ اگر مہنگائی کے نتیجے میں ہونے والے پرتشدد احتجاج میں ایران مظاہرین کو مارتا ہے تو امریکہ اس کا جواب دینے کے لیے ’لاک اینڈ لوڈ‘ ہے۔
جمعرات کو ایران کے متعدد شہروں میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں چھ افراد جان سے چلے گئے۔
دارالحکومت تہران میں دکان داروں نے اتوار کو حد سے زیادہ قیمتوں اور معاشی جمود کے خلاف ہڑتال کی۔ یہ احتجاج ملک کے دوسرے حصوں میں بھی پھیل چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر کہا ’اگر ایران پرامن مظاہرین کو گولیاں مارتا ہے اور پرتشدد طریقے سے مارتا ہے، جو کہ ان کا رواج ہے تو امریکہ ان کے بچاؤ کے لیے آئے گا۔‘
رپبلکن رہنما نے مزید کہا کہ ’ہم بند اور بھرے ہوئے ہیں اور جانے کے لیے تیار ہیں۔‘
ٹرمپ کی دھمکی کے بعد سابق پارلیمانی سپیکر اور ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے ایکس پر الزام عائد کیا کہ اسرائیل اور امریکہ ان مظاہروں کو ہوا دے رہے ہیں۔
لاریجانی نے ایکس پر لکھا ’ٹرمپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ امریکہ کی ایران کے داخلی مسئلے میں مداخلت پورے خطے میں افراتفری اور خود امریکہ کے مفادات کی تباہی کا سبب بنے گی۔
’امریکی عوام کو جان لینا چاہیے کہ ٹرمپ نے ہی یہ مہم جوئی شروع کی۔ انہیں اپنے ہی فوجیوں کا خیال رکھنا چاہیے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر اور کئی سال تک کونسل کے سیکریٹری رہنے والے علی شمخانی نے خبردار کیا کہ ’ایران کی سکیورٹی کے بہت قریب آنے والا کوئی بھی مداخلت کار ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔‘
ایران کی فارس خبر رساں ایجنسی نے جمعرات کو اطلاع دی کہ صوبہ چہارمحل اور بختیاری کے شہر لاردیگن میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں دو افراد اور صوبہ لرستان کے عزنا میں تین افراد جان سے گئے۔
سرکاری ٹیلی ویژن نے قبل ازیں اطلاع دی تھی کہ مغربی شہر کوہ دشت میں مظاہروں کے دوران ایران کی سکیورٹی فورسز کا ایک رکن جان سے گیا تھا۔
یہ مظاہرے 2022 میں ہونے والے آخری بڑے مظاہروں سے چھوٹے ہیں، جن کا محرک مہسا امینی کی سکیورٹی فورسز کی حراست میں موت سے ہوا تھا۔
ان کی موت کے نتیجے میں احتجاجی مظاہروں میں کئی سو اموات ہوئیں۔ ان میں سکیورٹی فورسز کے درجنوں ارکان بھی شامل تھے۔