صدر ٹرمپ کا بی بی سی کے خلاف 10 ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر

بی بی سی نے 2021 میں امریکی کیپیٹل میں ہنگاموں سے قبل ٹرمپ کی ان کے حامیوں سے کی گئی ایک تقریر میں ترمیم کی تھی۔

11 نومبر 2025 کو لندن میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے دفاتر کے دروازے کے باہر صحن میں لوگ دیکھئ جا سکتے ہیں (اے ایف پی) 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ایک دستاویزی فلم میں ان کے بیان کو توڑ مور کر پیش کرنے پر برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے کم از کم 10 ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا ہے۔

میامی کی وفاقی عدالت میں دائر مقدمہ میں بی بی سی کے خلاف مبینہ طور پر 2021 میں امریکی کیپیٹل میں ہنگاموں سے قبل ٹرمپ کی ایک تقریر میں ترمیم پر ہتک عزت اور فلوریڈا کے دھوکہ دہی اور غیر منصفانہ تجارتی پریکٹسز ایکٹ کی خلاف ورزی کے الزام میں 5 ارب ڈالر سے کم نہ ہونے والی ہر دو الزامات میں ہرجانے‘ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

79 سالہ ٹرمپ نے پیر کو پہلے کہا تھا کہ مقدمہ آسنن ہے، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ بی بی سی نے ’میرے منہ میں الفاظ ڈال دیے ہیں،‘ یہاں تک کہ ’انہوں نے اے آئی یا کچھ اور استعمال کیا۔‘

زیر بحث دستاویزی فلم 2024 کے انتخابات سے قبل بی بی سی کے ’پینوراما‘ کے فلیگ شپ کرنٹ افیئر پروگرام پر نشر کی گئی تھی۔

ویڈیو میں چھ جنوری 2021 کو ٹرمپ کی تقریر کے دو الگ الگ حصوں کو اس طرح سے تقسیم کیا گیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوا کہ انہوں نے واضح طور پر حامیوں پر زور دیا کہ وہ کیپیٹل پر حملہ کریں، جہاں وکلا جو بائیڈن کی 2020 کے انتخابات میں جیت کی تصدیق کر رہے تھے۔

ٹرمپ کی قانونی ٹیم کے ترجمان نے اے ایف پی کو ایک بیان میں کہا، ’پہلے قابل احترام اور اب بدنام بی بی سی نے صدر ٹرمپ کو 2024 کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کرنے کی ڈھٹائی کی کوشش میں جان بوجھ کر، بدنیتی سے اور دھوکہ دہی سے ان کی تقریر کو بدنام کیا۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’بی بی سی کے پاس صدر ٹرمپ کی کوریج میں اپنے سامعین کو دھوکہ دینے کا ایک طویل نمونہ ہے، یہ سب کچھ اپنے بائیں بازو کے سیاسی ایجنڈے کی خدمت میں ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

برٹش براڈکاسٹنگ کارپوریشن، جس کے سامعین برطانیہ سے باہر پھیلے ہوئے ہیں، کو گذشتہ ماہ ہنگامہ آرائی کا سامنا کرنا پڑا جب ایک میڈیا رپورٹ نے ترمیم شدہ کلپ پر دوبارہ توجہ دلائی۔

اس سکینڈل کی وجہ سے بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل اور تنظیم کے اعلیٰ نیوز ایگزیکٹیو کو مستعفی ہونا پڑا۔

ٹرمپ کے مقدمے میں دستاویزی فلم میں ترمیم شدہ تقریر پر الزام لگایا گیا ہے کہ ’2024 کے صدارتی انتخابات سے ایک ہفتہ قبل مدعا علیہان کی طرف سے من گھڑت اور نشر کیا گیا تھا جس میں مداخلت کرنے اور صدر ٹرمپ کے نقصان کے لیے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی ڈھٹائی کی کوشش کی گئی تھی۔‘

بی بی سی نے ٹرمپ کے قانونی ہتک عزت کے دعووں کی تردید کی ہے حالانکہ بی بی سی کے چیئرمین سمیر شاہ نے ٹرمپ کو معافی کا خط بھیجا ہے۔

سمیر شاہ نے گذشتہ ماہ برطانیہ کی ایک پارلیمانی کمیٹی کو بھی بتایا تھا کہ ڈیلی ٹیلی گراف اخبار کو لیک ہونے والے میمو میں غلطی کا اعلان ہونے کے بعد براڈکاسٹر کو اپنی غلطی تسلیم کرنے کے لیے جلد کارروائی کرنا چاہیے تھی۔

بی بی سی کا مقدمہ حالیہ برسوں میں ٹرمپ نے میڈیا کمپنیوں کے خلاف کی جانے والی قانونی کارروائی کے سلسلے میں تازہ ترین ہے، جن میں سے کئی ملین ڈالر کی تصفیہ کا باعث بنی ہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا