آسٹریلیا: غلطی سے اغوا کیے گئے بزرگ کی واپسی کے لیے پولیس کی اپیل

تفتیش کاروں کے مطابق کم از کم تین افراد بگسیریان کے گھر میں داخل ہوئے اور انہیں زبردستی ایک سیاہ ایس یو وی میں بٹھا کر لے گئے۔

 پولیس کرس بگسیریان کی صحت کے بارے میں فکرمند ہے (نیو ساؤتھ ویلز پولیس)

سڈنی پولیس نے ایک بزرگ شخص کی محفوظ واپسی کی اپیل کی ہے، جس کے بارے میں اس کا ماننا ہے کہ انہیں غلطی سے اغوا کر لیا گیا۔

85 سالہ کرس بگسیریان کو جمعے کی صبح مقامی وقت کے مطابق تقریباً پانچ بجے نارتھ رائیڈ میں ان کے گھر سے اٹھا لیا گیا تھا۔

تفتیش کاروں کے مطابق کم از کم تین افراد بگسیریان کے گھر میں داخل ہوئے اور انہیں زبردستی ایک سیاہ ایس یو وی میں بٹھا کر لے گئے۔

تحقیقات کاروں کو یقین ہے کہ بگسیریان اصل ہدف نہیں تھے۔ انہیں شبہ ہے اغواکار کسی اور شخص کو اٹھانا چاہتے تھے لیکن غلط پتے پر پہنچ گئے۔

ابھی تک بگسیریان کے خاندان کو کوئی تاوان کا مطالبہ موصول نہیں ہوا۔ بگسیریان ایک دادا ہیں جو اکیلے رہتے ہیں اور انہیں روزانہ ادویات کی ضرورت ہوتی ہے۔

پولیس ان کی صحت کے بارے میں فکرمند ہے اور کہتی ہے کہ ہر لمحہ قیمتی ہے۔

ڈیٹیکٹیو ایکٹنگ سپرنٹنڈنٹ اینڈریو مارکس نے کہا ’ان کا خاندان سخت پریشان ہے۔ وہ صرف اپنے والد اور دادا کی محفوظ واپسی چاہتے ہیں۔‘
 
انہوں نے مزید کہا ’اس وقت ہمارا ماننا ہے کہ وہ زندہ ہیں اور ہم ان کی محفوظ واپسی کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ کیس مشکل ہے ’کیونکہ عام اغوا کے کیس میں تاوان کی اطلاع مل جاتی ہے اور میں پوری یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ انہوں نے یقیناً غلط شخص کو اغوا کیا ہے۔‘

دی سڈنی مارننگ ہیرالڈ نے رپورٹ کیا کہ اغواکاروں کی بنائی گئی مبینہ ویڈیوز اور تصاویر سڈنی کے جرائم پیشہ حلقوں میں گردش کر رہی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ان میں 85 سالہ شخص کو بندھا ہوا اور زخمی حالت میں دیکھا جا سکتا ہے۔

مسٹر مارکس نے بتایا کہ یہ فوٹیج ’پریشان کن‘ ہے اور تفتیش کے لیے ’مددگار نہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا ’یہ مناسب نہیں کہ ایسی تصاویر عام ہوں۔ میں نے ویڈیوز دیکھی ہیں اور 85 سالہ شخص کی ایسی حالت دیکھنا تکلیف دہ ہے۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک سیاہ گاڑی کو صبح سے پہلے گلی میں آتے دیکھا جا سکتا ہے۔ دو افراد ہوڈ پہنے گھر کی طرف جاتے دکھائی دیتے ہیں۔

چند منٹ بعد وہ ایک ایسے شخص کو اٹھائے واپس آتے ہیں جو مزاحمت کرتا نظر آتا ہے اور اسے ایس یو ای میں ڈال دیتے ہیں۔ گاڑی فوراً وہاں سے روانہ ہو جاتی ہے۔

بعد میں ایک نذدیکی علاقے میں اس جیسی جلی ہوئی گاڑی ملی۔ پولیس نے اغواکاروں پر زور دیا کہ وہ بگسیریان کو کسی محفوظ عوامی جگہ چھوڑ دیں۔

انہوں نے رہائشیوں سے بھی کہا کہ کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کی اطلاع دیں، خاص طور پر ایسے مقامات پر جو کچھ عرصے سے خالی دکھائی دیتے ہوں۔

کرس منز نے اغواکاروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا ’پولیس کو بتا دیں کہ وہ اس وقت کہاں ہیں یا بگسیریان کو کسی شاپنگ سینٹر، ہسپتال کے ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ یا کسی نرسنگ ہوم میں چھوڑ دیں۔ ہم ان پر زور دیتے ہیں کہ یہ کام جلد از جلد کریں۔‘

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا