اسرائیل کا مغربی کنارے میں زمین کی رجسٹریشن کا فیصلہ، پاکستان کی مذمت

پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا کہ ’پاکستان اسرائیلی قابض طاقت کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں کو نام نہاد ریاستی ملکیت میں تبدیل کرنے اور غیرقانونی آبادکاری کی سرگرمیوں کو وسعت دینے کی اس کوشش کی شدید مذمت کرتا ہے۔

نو فروری کو اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے میں نابلس کے قریب واقع قصبے کے پاس قائم نئی اسرائیلی بستی (روئٹرز)

اسرائیل نے اتوار کو فیصلہ کیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک بڑے حصے میں زمین کے انتظام (لینڈ ریگولیشن) کا متنازع عمل شروع کرے گا۔ پاکستان نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے اس فیصلے کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسرائیلی حکومت کے اس فیصلے سے اسرائیل مستقبل کی ترقی کے لیے اس علاقے کے وسیع رقبے پر کنٹرول حاصل کر سکتا ہے اور مغربی کنارے میں ’زمین کی ملکیت کے تصفیے‘ کا قانونی عمل دوبارہ شروع ہو جائے گا جو 1967 میں مشرق وسطیٰ کی جنگ کے بعد سے منجمد تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اسرائیل کسی خاص علاقے میں زمین کی رجسٹریشن شروع کرے گا تو زمین پر دعویٰ کرنے والے کسی بھی شخص کو ملکیت ثابت کرنے والی دستاویزات جمع کروانی ہوں گی۔

پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان اسرائیلی قابض طاقت کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں کو نام نہاد ریاستی ملکیت میں تبدیل کرنے اور غیرقانونی آبادکاری کی سرگرمیوں کو وسعت دینے کی تازہ ترین کوشش کی شدید مذمت کرتا ہے۔

’اس طرح کے اقدامات بین الاقوامی قانون کے ساتھ ساتھ متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں اور بین الاقوامی برادری کی طرف سے اسے مسترد کرنا چاہیے۔‘

بیان میں کہا گیا کہ ’قابض طاقت کا بین الاقوامی قانون کی مسلسل نظر اندازی اور اس کے اشتعال انگیز اقدامات خطے میں منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے امکانات کو کمزور کر رہے ہیں۔

’پاکستان عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اسرائیلی استثنیٰ کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے، اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کو یقینی بنائے۔‘

دفتر خارجہ نے کہا کہ ’پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد، قابل عمل اور ملحقہ ریاست فلسطین کے قیام کے لیے مکمل حمایت کا اعادہ کرتا ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔‘

اسرائیلی آباد کاری مخالف گروپ ’پیس ناؤ‘ نے کہا کہ یہ عمل ممکنہ طور پر فلسطینیوں کی زمین پر ’زمین پر بڑے پیمانے پر قبضے‘ کے مترادف ہے۔

پیس ناؤ کے سیٹلمنٹ واچ پروگرام کی ڈائریکٹر ہیگت اوفران نے کہا ’یہ اقدام بہت ڈرامائی ہے اور ریاست کو ایریا سی کے تقریباً تمام حصے پر کنٹرول حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔‘ 

فلسطینیوں کے ساتھ 1990 کی دہائی میں طے پانے والے معاہدوں کے مطابق، ایریا سی مغربی کنارے کے اس 60 فیصد حصے پر مشتمل ہے جو مکمل طور پر اسرائیلی فوجی کنٹرول میں ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے دفتر نے ایک بیان میں اس فیصلے کو ’ایک سنگین پیش رفت اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا، جو ’عملی طور پر الحاق‘ کے مترادف ہے۔ صدارتی دفتر نے نے بین الاقوامی برادری، خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور امریکہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔

حالیہ مہینوں میں اسرائیلی اقدامات

یہ فیصلہ مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول کو مضبوط کرنے کا تازہ ترین قدم ہے۔ حالیہ مہینوں میں، اسرائیل نے یہودی بستیوں میں تعمیرات کو بہت بڑھا دیا ہے، چوکیوں کو قانونی حیثیت دی ہے اور علاقے میں اپنی پالیسیوں میں اہم افسر شاہانہ تبدیلیاں کی ہیں تاکہ اپنی گرفت کو مضبوط اور فلسطینی اتھارٹی کو کمزور کر سکے۔

اسرائیل کی وزارت خارجہ نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کے سول پلاننگ کے نقشے ظاہر کرتے ہیں کہ اتھارٹی برسوں سے ایریا سی میں اراضی کی رجسٹریشن کے طریقہ کار کو آگے بڑھا رہی ہے جو ان معاہدوں کی خلاف ورزی ہے جو اسرائیل کو اس علاقے پر سول اور فوجی کنٹرول دیتے ہیں۔ اس نے کہا کہ اتوار کا فیصلہ زیادہ شفافیت کے لیے کیا گیا تھا۔

اس فیصلے کا اعلان سب سے پہلے گذشتہ مئی میں کیا گیا تھا لیکن اس ہفتے کابینہ کے اجلاس میں منظوری سے قبل اس پر مزید کام کرنے کی ضرورت تھی۔ اس فیصلے کے تحت، اسرائیلی حکام رجسٹریشن کے لیے مخصوص علاقوں کا اعلان کریں گے، جس سے زمین پر دعویٰ کرنے والے کسی بھی شخص کو اپنی ملکیت ثابت کرنا ہوگی۔

اوفران نے کہا کہ ملکیت ثابت کرنے کا عمل ’سخت گیر‘ ہو سکتا ہے اور شاذ و نادر ہی شفاف ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ فی الحال فلسطینیوں کی ملکیت والے علاقوں میں رجسٹریشن کے عمل سے گزرنے والی کوئی بھی زمین ممکنہ طور پر اسرائیلی ریاستی کنٹرول میں واپس چلی جائے گی۔

اوفران نے بتایا کہ ’فلسطینیوں کو اس طریقے سے ملکیت ثابت کرنے کے لیے بھیجا جائے گا جو وہ کبھی نہیں کر پائیں گے۔ اور اس طرح اسرائیل ایریا سی کے 83 فیصد حصے پر قبضہ کر سکتا ہے جو مغربی کنارے کا تقریباً نصف ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن کا عمل رواں سال ہی شروع ہو سکتا ہے۔

یہ تجویز حکمران اتحاد کے کچھ انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی ارکان کی طرف سے پیش کی گئی تھی، جن میں وزیر انصاف یاریو لیون بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا، ’اسرائیل کی حکومت اپنے تمام حصوں پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہے، اور یہ فیصلہ اس عزم کا اظہار ہے۔‘

 ’خطرناک پیش رفت‘

اردن کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ’اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں نبھائے، اور قابض طاقت اسرائیل کو اس کی خطرناک پیش رفت کو روکنے پر مجبور کرے۔‘

قطر کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ اسرائیل کے فیصلے کو ’فلسطینی عوام کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کے اس کے غیر قانونی منصوبوں کی توسیع‘ سمجھتی ہے۔

سابقہ امریکی انتظامیہ نے مغربی کنارے میں اسرائیلی سرگرمیوں اور کنٹرول میں توسیع کی شدید مذمت کی ہے، لیکن وزیراعظم بنامین نتن یاہو کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ خاصے قریبی تعلقات ہیں۔ دونوں نے گذشتہ ہفتے واشنگٹن میں ملاقات کی جو گذشتہ ایک سال میں ان کی ساتویں ملاقات تھی۔

اوفران نے کہا کہ پھر بھی ٹرمپ نے الحاق کی مخالفت کی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فلسطینی شہریوں کو نجی طور پر اسرائیلی شہریوں کو زمین فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہے، حالاں کہ گذشتہ ہفتے اعلان کردہ اقدامات کا مقصد اسے کالعدم کرنا ہے۔ فی الحال، آباد کار اسرائیل کی حکومت کے کنٹرول والی زمین پر گھر خرید سکتے ہیں۔ گذشتہ ہفتے کے فیصلے کا مقصد مغربی کنارے میں ماحولیاتی اور آثار قدیمہ کے امور سمیت فلسطینیوں کے زیر انتظام علاقوں میں اسرائیلی نفاذ کے کئی پہلوؤں کو بڑھانا بھی تھا۔

سات لاکھ سے زیادہ اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں رہتے ہیں، یہ وہ علاقے ہیں جن پر اسرائیل نے 1967 میں اردن سے قبضہ کیا تھا اور فلسطینی اسے مستقبل کی ریاست کے لیے چاہتے ہیں۔ بین الاقوامی برادری بھاری اکثریت سے ان علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کو غیر قانونی اور امن کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق تین لاکھ سے زیادہ فلسطینی مغربی کنارے کے ایریا سی میں رہتے ہیں، جب کہ آس پاس کی برادریوں میں اس سے کہیں زیادہ لوگ اس کی زرعی اور چرنے والی زمینوں پر انحصار کرتے ہیں، جن میں وہ پلاٹس بھی شامل ہیں جن کے لیے خاندانوں کے پاس دہائیوں زمین کی دہائیوں پرانی دستاویزا یا ٹیکس کا ریکارڈ موجود ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا