پاکستان کے دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں17 فروری ملک کی نو منتخب حکومت کی تقریب حلف برداری میں پاکستان کی نمائندگی وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کریں گے۔
دفتر خارجہ نے پیر کو جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تقریب میں پاکستان کی شرکت بنگلہ دیش کے جمہوری عمل کے لیے اس کی حمایت کی عکاس ہے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی مفید تعاون کو گہرا کرنے کے عزم کو اجاگر کرتی ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم پہلے سے طے شدہ غیر ملکی مصروفیت کی وجہ سے تقریب میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔
بنگلہ دیش میں 13ویں قومی اسمبلی کے انتخابات کے بعد منگل کو طارق رحمان کی بطور وزیراعظم حلف برداری منعقد ہو رہی ہے، جس میں اہم علاقائی و عالمی رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔
تقریب میں تقریباً 1200 مقامی اور غیر ملکی مہمانوں کی شرکت متوقع ہے، جو منگل کو شام چار بجے ڈھاکہ میں نیشنل پارلیمنٹ بلڈنگ (جتیہ سانسد) کے ساؤتھ پلازہ میں منعقد ہوگی۔ بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نئی کابینہ کے ارکان سے حلف لیں گے۔
طارق رحمان کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) عام انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ پارٹی نے عوامی توقعات کی بنیاد پر اقتصادی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے مضبوط وعدے کیے ہیں، جن میں حکمرانی میں اصلاحات، روزگار کے نئے مواقع اور اقتصادی استحکام شامل ہیں۔
تقریب میں صدر محمد شہاب الدین نو منتخب وزیراعظم اور کابینہ کو حلف لیں گے۔
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) February 16, 2026
Federal Minister for Planning, Development and Special Initiatives, Mr. Ahsan Iqbal, will attend the Oath-Taking Ceremony of the newly elected Government of the People’s Republic of Bangladesh
بنگلہ دیش کی جانب سے اس اہم سیاسی موقع پر جنوبی ایشیا کے اہم رہنماؤں کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے۔ ان میں پاکستان، انڈیا، چین، سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات، قطر، ملائیشیا اور دیگر ممالک کو دعوت نامے ارسال کیے جا چکے ہیں۔
انڈیا کی لوک سبھا کے سپیکر اوم برلا اور خارجہ سیکریٹری وکرم مصری 17 فروری کو طارق رحمان کی بنگلہ دیش وزیر اعظم کی حلف برداری میں اپنے ملک کی نمائندگی کریں گے۔
یہ حلف برداری صرف ملکی سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ خطے میں سفارتی تعلقات اور تعاون میں نئے باب کا آغاز بھی تصور کی جا رہی ہے۔ بی این پی قیادت کی جانب سے علاقائی ہم آہنگی اور تعاون کے اعلیٰ سطح کے وعدوں پر زور دیا گیا ہے، خاص طور پر پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔
حتمی نتائج کے مطابق بی این پی نے 209 نشستیں جیتیں، جو اتحادیوں کو ملا کر 212 ہو گئیں۔ اسی طرح بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی 68 نشستیں حاصل کر کے دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔ مجموعی ووٹر ٹرن آؤٹ 59.44 فیصد رہا۔
نیپال سے وزیر خارجہ بالا نندا شرما کی تقریب حلف برداری میں شرکت متوقع ہے۔ سری لنکا سے وزیر صحت نلندا جے تیسہ اس تقریب میں شرکت کریں گی۔
پاکستان سمیت مختلف ملکوں نے ان انتخابی نتائج کو جمہوری پیش رفت کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے طارق رحمٰن کو فون کرکے انہیں ’تاریخی اور بھرپور کامیابی‘ پر مبارک باد دی اور دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ صدر آصف علی زرداری نے بھی رحمٰن اور بنگلہ دیشی عوام کو پرامن اور کامیاب انتخابات پر مبارک باد دی۔
جماعت کے رہنما اور بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ کے وکیل شیشیر منیر کے ایک حالیہ اعلان نے بنگلہ دیش کی نئی کابینہ کی تشکیل پر ایک سیاسی بحث کو جنم دیا ہے۔
ایڈووکیٹ محمد شیشیر منیر، جنہوں نے انتخابات میں جماعت اسلامی کے امیدوار کے طور پر حصہ لیا، لیکن شکست کھا گئے۔ شیشیر منیر نے ہفتہ کی رات اپنے تصدیق شدہ فیس بک پیج پر ایک پوسٹ میں شیڈو کابینہ بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا۔
قیاس آرائیاں اس وقت مزید شدت اختیار کر گئیں جب نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے ترجمان آصف محمود ساجیب بھویان نے بھی اسی طرح کا بیان جاری کیا۔
آصف محمود نے فیس بک پر لکھا، ’ہم شیڈو کابینہ بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ شیڈو کابینہ شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے اور مجموعی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے نگرانی کرے گی۔‘
سیاست میں، ’شیڈو کابینہ‘ کا تصور ویسٹ منسٹر نظام کی طرز پر بنائے گئے پارلیمانی نظاموں سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ ایسے ممالک میں اپوزیشن جماعتیں اکثر اپنی شیڈو کابینہ مقرر کرتی ہیں جو حکومتی پالیسیوں کی نگرانی، تنقید اور متبادل تجویز کرتی ہیں۔
بنگلہ دیش میں شیڈو کابینہ کی تشکیل کبھی باضابطہ طور پر نہیں کی گئی۔ ملک کا موجودہ سیاسی فریم ورک ایسے ادارے کا تقاضا نہیں کرتا۔ تاہم، سیاسی ماہرین طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ شیڈو کابینہ کا قیام پارلیمانی جمہوریت کو مضبوط کر سکتا ہے۔
متوقع کابینہ
اخبار ڈیلی سٹار کے مطابق کابینہ میں 25 سے 30 ارکان کی توقع ہے۔ بی این پی کی قیادت میں 2001 کی حکومت کے سابق وزرا، سٹینڈنگ کمیٹی کے ارکان اور نئے چہروں پر غور کرے گی تاکہ تجربہ کار رہنماؤں اور نوجوان شخصیات کے درمیان توازن قائم کیا جا سکے۔
پارٹی کے سیکرٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر اگلے صدر بن سکتے ہیں، اگرچہ تقرری کے عمل میں وقت لگ سکتا ہے۔ اس دوران، توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایک اہم وزارت کی قیادت کریں گے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سابق ہاؤسنگ اور پبلک ورکس کے وزیر مرزا عباس اور سابق ٹیکسٹائل و جیوٹ وزیر حافظ الدین احمد ممکنہ طور پر وزارتی عہدوں پر واپس آئیں گے۔
سابق وزیر تجارت امیر خسرو محمود چوہدری اور سابق وزیر اطلاعات عبدالمعین خان کو بھی زیر غور لایا جا رہا ہے۔
دیگر ناموں میں سابق وزیر صحت خندکر مشرف حسین، سابق وزیر مواصلات صلاح الدین احمد، اور سابق ریاستی وزیر برائے بجلی اقبال حسن محمود توکو شامل ہیں۔
بی این پی سٹینڈنگ کمیٹی کے ارکان گائشور چندر رائے اور اے زیڈ ایم زاہد حسین کابینہ میں شامل ہونے کی توقع ہے۔ نئے منتخب ارکان جیسے شمعہ عبید، افروزہ خانم ریتا اور بیرسٹر فرزانہ شرمن پتول بھی زیر غور ہیں۔
کچھ سینیئر رہنما جو ممکنہ طور پر نئی کابینہ میں شامل نہیں ہوں گے، انہیں طارق کی مشاورتی کونسل میں مقرر کیا جا سکتا ہے۔