بنگلہ دیش میں 12 فروری کے عام انتخابات کے لیے الیکشن مہم تو ختم ہو گئی لیکن اس دوران پاکستان یا انڈیا کا ذکر کوئی زیادہ نہیں ہوا۔ مبصرین کے مطابق سیاسی جماعتوں نے خارجہ پالیسی سے زیادہ ملک کے اندرونی مسائل پر توجہ مرکوز رکھی۔
زبیر احمد بنگلہ دیش کے سینیئر صحافی ہیں، انہوں نے انتخابی مہم سے متعلق انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ مہم کے آغاز سے قبل اور شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد عبوری حکومت نے بار بار انڈیا سے سرکاری سطح پر ان (شیخ حسینہ) کی واپسی کا مطالبہ کیا تاکہ وہ جاری عدالتی کارروائی میں شریک ہو سکیں۔ اس مقصد کے لیے دونوں ممالک کے درمیان ملزمان کے تبادلے کے کئی معاہدے بھی موجود ہیں۔
’اس (معاملے) اور دیگر موضوعات پر حکومتی سطح پر دونوں کے درمیان بات چیت تو چل رہی ہے اور ہمیں اندر کی بات نہیں معلوم لیکن دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی موجود ہے۔‘
نئی دہلی اور ڈھاکہ کے درمیان حسینہ واجد کی معزولی کے بعد سے باقاعدگی سے کشیدگی اور لفظی جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔
دسمبر میں بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف پرتشدد واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے اس کی مذمت کی اور اسے ’اقلیتوں کے خلاف مسلسل دشمنی‘ قرار دیا تھا۔ پولیس کے مطابق 2025 میں فرقہ وارانہ تشدد کے دوران بنگلہ دیش کی اقلیتی برادریوں کے تقریباً 70 افراد مارے گئے تھے۔
ڈھاکہ نے انڈیا پر تشدد کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
زبیر احمد نے یاد دلایا کہ شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر حملے بھی ہوئے ہیں۔ ’اس معاملے کو ناصرف بنگلہ دیش بلکہ انڈیا کے میڈیا نے بھی خوب کوریج دی ہے۔ انڈیا کی سیاسی جماعتوں نے بھی اس کے خلاف مظاہرے کیے، اس وقت سے دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی ہے۔‘
بنگلہ دیش میں ان اہم انتخابات کے شیڈول کے اعلان سے قبل پاکستان کی حد تک تعلقات میں کافی بہتری آئی ہے۔ زبیر احمد کہتے ہیں کہ عبوری حکومت کے آنے کے بعد پاکستان کے ساتھ رابطے زیادہ ہوئے ہیں، براہ راست فضائی سروس بحال ہوئی ہے، دورے بھی بہت ہوئے ہیں فوج اور سیاسی اور سرکاری سطح پر تبادلے زیادہ، ماضی سے رابطے زیادہ ہیں۔
2024 میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے فوجی اور سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے محمد یونس سے دو بار ملاقات کی۔ گذشتہ سال ستمبر میں پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ڈھاکہ کا دورہ کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ڈاکٹر محمد یونس کی عبوری حکومت پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
زبیر کا کہنا تھا کہ اس تعلقات میں بہتری پر انڈین میڈیا میں بہت بات ہو رہی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’لیکن میرا جو مشاہدہ ہے بنگلہ دیش میں سیاسی جماعتیں اور سیاسی رہنما انتخابی مہم سے قبل اس پر بہت بات کر رہے تھے لیکن مہم کے آغاز کے بعد پاکستان کے حق میں یا خلاف یا انڈیا کے حق میں اور خلاف کوئی زیادہ بات نہیں ہوئی ہے۔ کرکٹ اور دیگر مسائل پر تو بات ہو رہی ہے لیکن ان ممالک اور علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات پر زیادہ بات نہیں ہوئی ہے۔‘
کہا جا رہا ہے کہ بنگلہ دیشی انتخابات جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن پر کافی اثر انداز ہوں گے۔ ایک طرف پاکستان اور انڈیا تو دوسری جانب چین بھی یہاں کافی دلچسپی رکھتا ہے۔
لیکن دونوں ممالک کے درمیان حالات اس وقت بگڑ گئے جب ہندو دائیں بازو کے احتجاج کے بعد ایک بنگلہ دیشی کرکٹر کو انڈین پریمیئر لیگ سے نکال دیا گیا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش نے انڈیا میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے دستبرداری اختیار کر لی۔
انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے پروین دونتھی نے اے ایف پی کو بتایا کہ نئی حکومت غالباً اسلام آباد کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کا عمل جاری رکھے گی، جبکہ نئی دہلی کے ساتھ روابط کو بھی نقصان نہیں پہنچنے دے گی۔
دونتھی نے کہا، ’نیا انتظام غالباً انتشار کے بجائے استحکام کو ترجیح دے گا۔‘
ریٹائرڈ سفارت کار ہمایوں کبیر نے پیش گوئی کی کہ منتخب حکومت خاص طور پر اگر بی این پی کامیاب ہوتی ہے تو انڈیا کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی، جو کبھی انڈیا کے ساتھ شدید اختلافات رکھتی تھی، اپنی مہم میں ’عملی حقیقت پسندی کی ایک قسم‘ کا مظاہرہ کیا ہے۔
انتخابی مہم کے بعد اب تمام نظریں 12 فروری کے انتخابات کے نتائج پر ہوں گے۔ علاقائی ممالک اس کو غور سے دیکھ رہے ہیں۔