بنگلہ دیش میں انتخابی مہم کا اختتام، ووٹنگ 12 فروری کو

دسیوں ہزار افراد نے پیر کو دارالحکومت ڈھاکہ میں یکے بعد دیگرے اپنی جماعتوں کی ریلیوں میں شرکت کی۔

جماعت اسلامی کے حامی 12 فروری کو ملک کے عام انتخابات سے قبل 9 فروری 2026 کو ڈھاکہ میں انتخابی مہم کے آخری دن ایک ریلی میں شریک ہیں (اے ایف پی)

بنگلہ دیش کی انتخابی مہم پیر کی رات ختم ہو گئی ہے اور اب 12 فروری کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔

جھنڈا لہراتے دسیوں ہزار حامیوں نے وسیع پیمانے پر دارالحکومت ڈھاکہ میں یکے بعد دیگرے اپنی اپنی جماعت کی ریلیوں میں شرکت کی، کیونکہ سیاسی جماعتوں نے جمعرات کے انتخابات میں 17 کروڑ کے ملک کے لیے تبدیلی کے مسابقتی تصورات اور عوامی بغاوت کی معاملے کو بطور میراث کے استعمال کرنے کی کوشش کی۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) جس کی قیادت طارق رحمٰن کر رہے ہیں، 17 سال کی جلاوطنی کے بعد دسمبر میں وطن واپس آئے تھے۔

بی این پی کی کلیدی حریف جماعت اسلامی ہے، جس کی قیادت شفیق الرحمن کر رہے ہیں اور اس نے نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے ساتھ اتحاد کیا ہوا ہے، جسے طلبہ رہنماؤں نے تشکیل دیا تھا۔

انہی طلبہ رہنماؤں نے گذشتہ سال سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف مہم کی قیادت کی تھی، جس کے بعد شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تھا۔

انتخابی مہم کے دوران وزارت عظمیٰ کے امیدوار طارق رحمٰن پراعتماد دکھائی دیے انہوں نے اپنے مرحوم والدین، ضیا الرحمن اور خالدہ ضیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’بی این پی کے پاس اکیلے ملک چلانے کا منصوبہ ہے اور ایسا کرنے کا تجربہ ہے۔ (جو ان کے بقول) کسی اور پارٹی میں ایسا نہیں ہے۔‘

بنگلہ دیش میں طارق ضیا کے نام سے مشہور 60 سالہ طارق رحمٰن نے اپنی والدہ خالدہ ضیا کے بعد بی این پی کی قیادت سنبھالی، جو دسمبر میں 80 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی مہم کے لیے اپنی اختتامی تقریر میں، انھوں نے ملک نے ان شہریوں کو بھی مخاطت کیا جو مسلمان نہیں ہیں، جن میں سے اکثریت ہندوؤں کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’بنگلہ دیش مسلمانوں، غیر مسلموں، اور میدانی اور پہاڑیوں دونوں کے لوگوں کی سرزمین ہے۔‘

حسینہ واجد کو 15 سال اقتدار میں رہنے کے بعد 5 اگست 2024 کو بھر حکومت مخالف احتجاج کے بعد منصب چھوڑنا پڑا اور ان کی عوامی لیگ پارٹی پر عبوری حکومت نے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی تھی، اس اقدام پر حقوق کے گروپوں نے تنقید بھی کی ہے۔

78 سالہ حسینہ واجد کو نومبر میں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں موت کی سزا سنائی گئی تھی اور اب وہ انڈیا میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔

جماعت اسلامی کے 67 سالہ سربراہ شفیق الرحمٰن، جو اخوان المسلمون کے ساتھ نظریاتی طور پر منسلک اسلامی جماعتوں کے اتحاد کی قیادت کر رہے ہیں، نے انتخابی مہم کے دوران بڑی ریلیوں سے خطاب کیا۔

21 سالہ طالب علم عاشق الزمان شان نے کہا کہ ’اگر جماعت اقتدار میں آتی ہے تو بھتہ خوری اور تشدد میں کمی آئے گی۔ وہ انصاف قائم کریں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جماعت کے سربراہ نے سابق حکمراں جماعت پر بڑے پیمانے پر جبر کا الزام عائد کیا، انہوں نے پیر کو سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک تقریر میں کہا، ’ہم سب کے ساتھ اتحاد کا ملک بنانا چاہتے ہیں۔ یہ ایک ایسا ملک ہوگا جہاں کسی کو بھی اپنے خاندانی پس منظر کی وجہ سے ڈرائیونگ سیٹ نہیں ملے گی۔‘

جماعت کی اتحادی، این سی پی پارٹی کے رہنما ناہید اسلام نے بھی بڑی جماعتوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ کئی دہائیوں سے ’بھتہ خوری اور جرائم کے کاروبار‘ کو خاموشی سے بانٹ رہی ہیں۔

ناہید اسلام نے خواتین حامیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر آپ مجھے منتخب کرتے ہیں تو میں اپنے آپ کو علاقے کی بہتری کے لیے وقف کر دوں گا۔‘

انہوں نے حسینہ کے استعفیٰ کے دن کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ’اگر ہم ہار گئے تو 5 اگست بھی ہاریں گے۔‘

پیر کو انتخابی ریلیوں میں 58 سالہ توتا میا ایک رکشہ چلانے نے بھی شرکت کی اور کہا کہ ’میں نے سب کو دیکھا ہے اور اس بار میں جماعت کو ووٹ دوں گا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں زیادہ کھاؤں یا کم کھاؤں، مجھے بس امن چاہیے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا