پاکستان نے سعودی دارالحکومت ریاض میں جاری عالمی دفاعی نمائش میں اپنا ’سمیش‘ (Smash) نامی، آواز کی رفتار سے بھی تیز اڑنے والا، ہائپرسونک میزائل متعارف کروایا ہے۔
پاکستانی ادارے گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز (گڈز) کا تیار کردہ سمیش میزائل کا کامیاب ٹیسٹ گذشتہ سال نومبر میں کیا گیا تھا۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں جاری پانچ روزہ ورلڈ ڈیفنس شو عالمی دفاعی صنعت کے رہنماؤں، پالیسی سازوں، عسکری ماہرین اور سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کی سرپرستی میں منعقدہ نمائش 12 فروری تک جاری رہے گی، جس میں پاکستان بھی شریک ہے۔
نمائش میں فضائی، بری، بحری، خلائی اور سکیورٹی کے شعبوں میں جدید دفاعی ٹیکنالوجیز، ہتھیاروں کے نظام اور جدید سکیورٹی حل پیش کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان کا جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیارہ بھی نمائش میں رکھا گیا ہے جو شرکا کی غیر معمولی دلچسپی کا مرکز بنا ہوا ہے۔
گڈز کی ویب سائٹ پر دی گئی تفصیلات کے مطابق سمیش میزائل کو سمندری اور زمینی دونوں نوعیت کے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
گڈز کا دعویٰ ہے کہ سمیش میزائل انتہائی تیز رفتار، جدید رہنمائی نظام اور تقریباً عمودی زاویے سے اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے باعث اس کے لیے جدید فضائی اور میزائل دفاعی نظام کو چکمہ دینا ممکن ہو سکے گا۔
گڈز کے مطابق اینٹی شپ سیٹنگ میں سمیش میزائل کی رینج 290 کلومیٹر ہے اور اس ورژن میں یہ 384 کلوگرام وزنی وارہیڈ لے جا سکتا ہے جبکہ راستہ تلاش کرنے کے لیے ایچ ڈی جی این ایس آسسٹڈ انرشیل نیویگیشن سسٹم کے ساتھ ایکٹیو ریڈار سیکر استعمال کیا گیا ہے۔
دفاعی نظام بنانے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ سمیش میں سنگل سٹیج، ڈوئل تھرسٹ سالڈ راکٹ موٹر لگائی گئی ہے اور میزائل کی ہدف کو نشانہ بنانے کی درستگی 10 میٹر یا اس سے بھی کم ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’ٹرمینل فیز میں اس کی رفتار آواز کی رفتار سے دو گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔‘
گڈز کا دعویٰ ہے کہ زمینی اہداف کے لیے تیار کردہ ورژن میں بھی سمیش کی رینج 290 کلومیٹر رکھی گئی ہے، تاہم اس میں وارہیڈ کا وزن بڑھا کر 444 کلوگرام کر دیا گیا ہے۔
’اس ورژن میں نیویگیشن کا انحصار ایچ ڈی جی این ایس اسسٹڈ انرشیل نیویگیشن سسٹم پر ہو گا۔
ادارے کے مطابق اس کی درستگی 15 میٹر یا اس سے کم جبکہ رفتار آواز کی رفتار سے دو گنا زیادہ بتائی گئی ہے۔
گڈز کا کہنا ہے کہ سمیش میزائل کو دوہرے کردار کی صلاحیت کے تحت تیار کیا گیا ہے، تاکہ ایک ہی میزائل کو سمندری اور زمینی دونوں مشنز کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
اس حکمت عملی سے لاجسٹک نظام کو سادہ رکھنے اور اخراجات میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطوں میں طویل فاصلے تک درست حملہ کرنے والے ہتھیاروں کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے اور سمیش میزائل کو ایسے ہی حساس اور خطرناک ماحول میں ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔