دو ہزار سال پرانی ممی کے ایکسرے سکین سے انکشاف ہوا ہے کہ قدیم مصری کمر کے نچلے حصے میں درد کے ساتھ زندگی گزارتے تھے، جو دور حاضر کے بہت سے انسانوں سے مختلف نہیں ہے۔
ریڈیولوجسٹ نے 330 قبل مسیح اور 190 قبل مسیح کی دو ممیوں کا کمپیوٹڈ ٹوموگرافی (سی ٹی) ایکسرے سکین کیا، جس سے 2000 سال پہلے کے قدیم مصریوں کی زندگی کی جھلک ملتی ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس تجزیے سے ان کے چہرے کے خدوخال، بشمول ان کی پلکوں اور نچلے ہونٹوں کی ساخت، نیز ان کی صحت، زندگی کے تجربات اور عمر کے بارے میں سراغ ملے ہیں، جو آج کے لوگوں کے لیے بھی قابل فہم ہیں۔
یونیورسٹی آف سدرن کیلی فورنیا کی ’کیک میڈیسن‘ ٹیم کے محققین نے ممیوں کے تابوت کے نچلے نصف حصے کے اندر کا سکین کیا، جن میں سے ہر ایک کا وزن تقریباً 90 کلوگرام (200 پاؤنڈ) تھا۔
محققین کے علم میں آیا کہ ان دو ممیوں میں سے بڑی عمر والی ممی کمر کے نچلے حصے میں درد کا شکار تھی۔ اس قدیم مصری شہری کو کئی نوادرات کے ساتھ دفن کیا گیا تھا، جن میں کئی مقدس بھونرے اور ایک مچھلی شامل ہے۔ سکین سے پتہ چلا کہ اس کی ریڑھ کی ہڈی کا نچلا مہرہ پچکا ہوا تھا، جس کی وجہ غالباً قدرتی طور پر عمر کا بڑھنا اور ہڈیوں کی ٹوٹ پھوٹ تھی۔
دوسرے فرد کو دانتوں کے مسائل اور شدید خراب کولہے کا مسئلہ تھا، اور وہ موت کے وقت زیادہ عمر رسیدہ تھا۔
یہ کتان میں لپٹی ہوئی ممیاں، تھری ڈی ڈیجیٹل ماڈلز اور سکین سے حاصل ہونے والی معلومات کے ساتھ، سات فروری سے کیلی فورنیا سائنس سینٹر میں منعقدہ نمائش میں پیش کی جا رہی ہیں۔
کیلی فورنیا سائنس سینٹر میں خصوصی پروجیکٹس کی سینئر نائب صدر، ماہر بشریات ڈیان پرلوف نے کہا کہ ’سطح سے نیچے دیکھ کر افراد کی زندگی کے مخصوص تجربات کو سامنے لانا ناقابل یقین حد تک دلچسپ ہے۔‘
ڈاکٹر پرلوف نے مزید کہا: ’جدید سائنسی ٹیکنالوجی ہمیں قدیم لوگوں اور ماضی کی تہذیبوں کی دنیا میں جھانکنے کا ایک طاقتور دریچہ فراہم کرتی ہے جو بصورت دیگر کھو سکتی تھی۔‘
سی ٹی سکین سینکڑوں تفصیلی تھری ڈی کراس سیکشنل امیجز، یا ٹکڑے بناتے ہیں، جنہیں پھر ماہرین ڈیجیٹل طور پر جوڑ کر ڈیجیٹل ماڈل بنا سکتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سرجری میں وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والے یہ سکین اب ممیوں جیسے قدیم نمونوں کا، انہیں نقصان پہنچائے بغیر، تجزیہ کرنے کا وسیلہ فراہم کرتے ہیں۔
سمر ڈیکر، جو کیک میڈیسن کے لیے تھری ڈی امیجنگ کی سربراہی کرتی ہیں، نے کہا، تھری ڈی تصاویر، ماڈلنگ اور پرنٹنگ کے ذریعے، سرجن جیسے معالجین مشکل سے پتہ چلنے والے ٹیومر کی درست پیمائش کر سکتے ہیں، مریض کے دل یا جگر کی پیچیدہ ساخت کا معائنہ کر سکتے ہیں یا یہ تعین کر سکتے ہیں کہ کندھے یا کولہے کی بہترین مرمت کیسے کی جائے۔
ڈاکٹر ڈیکر کے بقول: ’ان ممیوں کااسکین پہلے بھی کیا گیا تھا، لیکن سکیننگ ٹیکنالوجی میں پیش رفت کی بدولت، نتائج پہلے سے کہیں زیادہ تفصیلی اور وسیع ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئی ہائی ریزولوشن تصاویر ان چیزوں کو ظاہر کرتی ہیں جو پہلے نامعلوم تھیں اور ان کی زندگی کیسی تھی اس کی تصویر بنانے میں مدد ملی۔‘
© The Independent